Urdu

آم: موذی امراض کیخلاف انسان کا محافظ

موسم گرما کے شروع ہوتے ہی جہاں سخت گرمی کا خوف ہر شخص کو ہوتا ہے وہاں ہر کسی کو ایک پھل کا بھی انتظار ہوتا ہے۔ وہ پھل آم ہے۔ جسے ہر کوئی پسند کرتا ہے اور شوق سے کھاتا ہے۔ میٹھے،رسیلے،خوش رنگ اور خوش ذائقہ پھل کوپھلوں کا بادشاہ بھی کہتے ہیں۔

قدرت نے اس پھل سے ہمارے ملک کو خوب نوازا ہے۔ پاکستان میں آم کی پیداوار پنجاب اور سندھ میں سب سے زیادہ ہوتی ہے جو تقریباً 18 لاکھ ٹن سالانہ ہے۔لہذا پاکستانی آم یو اے ای، سعودی عرب، مسقط، عمان، کویت، بحرین،فرانس،جرمنی،ناروے،ہالینڈ،سنگا پور،ہانگ کانگ،ملائیشیا اور دیگر ممالک کو بھی برآمد کئے جاتے ہیں۔اسی طرح پاکستان کے بھی ہر شہر، قصبے اور کونے کونے میں آم ملتا ہے۔

آم کئی اقسام کے ہوتے ہیں جن میں چونسہ، لنگڑا، سندھڑی، الماس، فجری، گولا، دوسہری، انور رٹول اور سرولی قابل ذکر ہیں۔ اس کے علاوہ کچے آم جسے ہم کیری کہتے ہیں اس کا ذائقہ ترش ہوتا ہے اس کا زیادہ تر استعمال ہم اچار بنانے میں کرتے ہیں یا شربت وغیرہ بھی بنایا جا سکتا ہے۔ لیکن جب آم پک کر مارکیٹ میں آ جاتے ہیں تو دوست یار مل کر مینگو پارٹی کرتے ہیں اور خوب آم کھاتے ہیں۔

آم کو مختلف ممالک اور خطے میں مختلف ناموں سے پکارا جاتا ہے۔  آم کی چٹنی بھی کھانوں میں استعمال کی جاتی ہے۔آم کو مختلف کھانوں کے ساتھ بھی استعمال کیا جاتا ہے جبکہ آم سے جیلی، جام، اسکواش، اچار اور مصالحے بھی بنائے جاتے ہیں۔

آم میں پائے جانے والے کیمیائی اجزا:
آم میں چربی، کولیسٹرول اور سوڈیم کی مقدار بہت کم ہوتی ہے تاہم اس میں وٹامن بی 6 کے علاوہ وٹامن اے، وٹامن سی، وٹامن ای اور وٹامن کی بھی اچھی مقدار موجود ہوتی ہے۔ آم میں پوٹاشیم، میگنیشیم اور تانبے کی بھی بہترین مقدار موجود ہوتی ہے جو صحت کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ پھلوں کا بادشاہ ہائی بلڈ پریشر کے مریضوں کے لیے بھی انتہائی مفید ہے۔

آم کے طبی فوائد:
آم میں وٹامن اور معدنیات کثرت سے پائے جاتے ہیں جو صحت کے لیے انتہائی مفید ہیں۔روزانہ ایک آم کھانے سے آپ پیٹ سمیت مختلف بیماریوں سے محفوظ اور صحت مند رہتے ہیں جبکہ آم دل کی بیماریوں اور کینسر جیسی موذی بیماریوں سے بھی محفوظ رکھتا ہے۔

قوت مدافعت بڑھاتا ہے:
آم کو نظام قوت مدافعت مضبوط کرنے کے لیے بہترین سمجھا جاتا ہے، اس میں بے شمار وٹامنز پائے جاتے ہیں جب کہ اس میں اینٹی آکسیڈینٹ کی خاصیت بھی ہوتی ہے۔ آم میں بیٹا کیروٹین کی بہت زیادہ مقدار پائی جاتی ہے جو انسان کے مدافعتی نظام کو مضبوط اور تندرست رکھتے ہیں۔ لہذا انسان موذی امراض سے محفوظ رہتا ہے۔

امراضِ قلب سے بچاؤ:
آم کو اگر آپ اپنی غذا میں معتدل انداز میں استعمال کریں گے تو اس سے آ پ کے خون میں شکر کی مقدار برابر رہتی ہے جب کہ اس میں موجود پوٹاشیم اور میگنیشیم کی وجہ سے امراضِ قلب کے امکانات کم ہوجاتے ہیں۔

بہترین دماغی صحت:
آم دماغی صلاحیت کو بھی بڑھانے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ آم میں بہت زیادہ مقدار میں وٹامنز موجود ہیں جو آپ کے دماغ کی بہترین نشونما کرتے ہیں۔ آم گلوٹامائن سے بھرپور ہوتے ہیں جو یاد داشت کے لیے مفید ہیں۔ اس میں وٹامن بی 6 وافر مقدار میں پایا جاتا ہے جو کہ دماغی صحت کی بہتری کے لیے مفید ہے۔

قبض میں معاون:
ماہرین کے مطابق آم میں فائبر مناسب مقدار میں مو جود ہے، اگر اس کی معتدل مقدار ہم اپنی غذا میں شامل کریں گے تو اس سے قبض کی بیماری ٹھیک ہو سکتی ہے۔

بالوں اور جلد کے لیے بہترین:
آم میں موجود وٹامن اے بال اور جلد کے لیے بہترین ثابت ہوتا ہے جب کہ اس میں وٹامن سی بھی موجود ہوتا ہے جو کہ جھریوں اور قبل از وقت بڑھاپے سے بھی بچاتا ہے۔

کینسر کا علاج:
آموں میں کوئرسیٹن، آئیسوکوئر سیٹرن، اسٹرلگن، فیسٹن، گالک ایسڈ اور میتھائل گلٹ جیسے کیمیکل پائے جاتے ہیں جو چھاتی کے کینسر سمیت ہر طرح کے کینسر کے مرض کو روکنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ طبی ماہرین کے مطابق آم میں شامل اینٹی آکسیڈنٹ آنتوں اور خون کے کینسر کے خطرے کو کم کرتا ہے جب کہ گلے کے غدود کے کینسر کے خلاف بھی یہ مؤثر کردار ادا کرتا ہے۔ہارورڈ یونیورسٹی کے ماہرین کے مطابق آم کولون یا بڑی آنت کے سرطان کے خلاف ایک اہم مدافعانہ ہتھیار ثابت ہوا ہے۔

وزن بڑھاتا ہے:
کمزور افراد کے لیے آم بے انتہا مفید ہے کیونکہ یہ وزن کو بڑھاتا ہے۔ آم وزن بڑھانے کے لیے دیگر خوراکوں کی نسبت سب سے آسان خوراک سمجھی جاتی ہے۔ 150 گرام آم میں 86 کیلوریز پائی جاتی ہیں جو آسانی سے جسم میں جذب ہوجاتی ہیں۔

نظام ہاضمہ کے لیے مفید:
آم نظام ہاضمہ کے لیے بھی انتہائی مفید ہے جو خوراک کو ہضم کرنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں جبکہ آم بھوک کو بھی بڑھاتا ہے۔ آم میں موجود ریشے جنہیں فائبر کہا جاتا ہے آنتوں کی صفائی اور ورم کے خطرے کو کم کرتے ہیں۔

حمل میں مفید:
آم حاملہ عورتوں کی صحت کے لیے بھی بے انتہا مفید ہے۔ ڈاکٹرز اکثر حاملہ خواتین کو وٹامن اور آئرن کے لیے گولیاں دیتے ہیں لیکن آم ان کی مقدار کو بڑھانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

جلد کا علاج:
آم چہرے کی خوبصورتی کے لیے بھی انتہائی مفید ثابت ہو سکتا ہے۔ اس کا گودا جلد پر لگانے سے متعدد جلدی مسائل ختم ہو جاتے ہیں۔ آم کا گودا چہرے پر لگانے سے نہ صرف جلد کی نمی برقرار رہتی ہے بلکہ رنگ بھی صاف ہو جاتا ہے۔

ذیابیطس کا علاج:
آم میں مٹھاس کی زیادہ مقدار پائی جاتی ہے جس کے بارے میں خدشات تھے کہ یہ ذیابیطس کے مریضوں کے لیے نقصاندہ ثابت ہو سکتا ہے لیکن اب نئی تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ آج ذیابیطس کے مریضوں کے لیے انتہائی مفید ہے۔ اس میں کافی مقدار میں منرلز اور وٹامنز پائے جاتے ہیں اور آسانی سے جسم میں جذب ہو کر خون میں گلوکوز کی مقدار کو معتدل رکھتے ہیں۔

انیمیا کا علاج:
آم میں آئرین کی کافی مقدار پائی جاتی ہے جو انیمیا کی تکلیف میں مبتلا لوگوں کے لیے زبردست علاج ہے۔ روزانہ ایک آم کا استعمال جسم میں سرخ خون کے سیل کی مقدار بڑھاتا ہے جو انیمیا کے خطرے کو کم کرتا ہے۔

کمزور ہڈیوں کا علاج:
آم کا استعمال ہڈیوں کی بیماریوں سے محفوظ رکھتا ہے اور اس میں موجود کیلشیم ہڈیوں کو مضبوط کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ آم کھانے سے ہڈیوں کی کمزوری کی امکانات انتہائی کم ہو جاتے ہیں۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

خالص اور معیاری اشیاء خریدنے کیلئے کلک کریں:

Related Posts