Urdu

آپ بھی اپنی زندگی میں 13 سال کا اضافہ کرسکتے ہیں

ماہرین صحت مند زندگی گزارنے کے لیے انسانوں کو اچھی غذاؤں کے انتخاب کا مشورہ دیتے ہیں، یقیناً آپ بھی جاننا چاہیں گے کہ وہ کونسی فوائدہ مند غذائیں ہیں۔

وہ غذائیں جو مختلف وٹامن اور دیگر فائدے بخش اجزا سے بھرپور ہوں انہیں اچھے کھانوں میں شمار کیا جاتا ہے، جبکہ عالمی ادارہ صحت بھی غذاؤں سے متعلق درجہ بندی جاری کرتا ہے۔ عمومی طور پر صحت مند غذاؤں میں اخروٹ، بادام،پھلیاں، مٹر، انڈے، گوشت، سمندری غذا اور چکناہٹ سے پاک دودھ کی مصنوعات شامل ہیں۔

اس کے علاوہ پھل، سبزیوں اور اناج کو بہترین اور صحت بخش غذا کہا جاتا ہے۔ کچھ کھانوں میں بھرپور غذائی اجزا ہوتے ہیں اور ان میں مختلف قسم کے وٹامنز اور معدنیات شامل ہوتے ہیں جو انسان کو تروتازہ رکھتے ہیں۔

چنانچہ غذائی عادات میں تبدیلی لاکر نہ صرف آپ بلکہ ہر کوئی اپنی زندگی میں 13 سال کا اضافہ کرسکتا ہے، بالخصوص اگر جوانی سے ہی صحت بخش غذا کا استعمال شروع کردیا جائے۔

یہ بات ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

تحقیق میں دیکھا گیا تھا کہ اگر مرد یا خواتین عام مغربی غذا (سرخ گوشت اور پراسیس یا جنک فوڈ پر مشتمل) کی جگہ سرخ اور پراسیس گوشت کے کم استعمال جبکہ پھلوں، سبزیوں، دالوں، گریوں اور اناج کا زیادہ استعمال کرنے لگے تو اوسط عمر پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ اگر خواتین 20 سال کی عمر سے صحت کے لیے مفید غذاؤں کا ستعمال شروع کردیں تو ان کی اوسط عمر میں 10 سال کا اضافہ ہوسکتا ہے جبکہ مردوں میں یہ اوسط 13 سال دریافت ہوئی۔
تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا کہ معمر افراد بھی اگر صحت بخش غذا کو ترجیح دیں تو ان کی زندگی کے دورانیے میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

مثال کے طور پر اگر خواتین 60 سال کی عمر میں اچھی غذا کا استعمال شروع کریں تو زندگی کی مدت میں 8 سال تک کا اضافہ ہوسکتا ہے جبکہ مردوں میں یہ اوسط 9 سال تک ہوسکتی ہے۔

درحقیقت پھلوں سبزیوں پر مشتمل غذا 80 سال کے افراد کے لیے بھی مفید ہوتی ہے، اس عمر کے مرد و خواتین غذائی عادات میں تبدیلی لاکر زندگی کی مدت میں ساڑھے 3 سال تک کا اضافہ کرسکتے ہیں۔

تحقیق کے دوران گلوبل برڈن آف ڈیزی اسٹڈی کے ڈیٹا اور دیگر تجزیاتی رپورٹس کی جانچ پڑتال کی گئی جس میں دنیا کے 204 ممالک اور خطوں میں اموات کی 286 وجوہات، 396 امراض و انجریز اور خطرہ بڑھانے والے 87 عناصر کا ڈیٹا شامل تھا۔

تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ دالوں، اناج اور گریوں کو زیادہ کھانے والے افراد کی ندگی بھی لمبی ہوتی ہے۔

ان میں پروٹین کے ساتھ ساتھ صحت بخش چکنائی، وٹامنز، منرلز اور اینٹی آکسائیڈنٹس موجود ہوتے ہیں جو دائمی امراض کا خطرہ کم کرتے ہیں۔

محققین کے مطابق سرخ اور پراسیس گوشت کا زیادہ استعمال صحت کے لیے خطرات بشمول امراض قلب اور آنتوں کے کینسر کے خطرے کو نمایاں حد تک بڑھا دیتا ہے۔

ان کی جگہ بغیر چربی والے چکن، مچھلی اور نباتاتی پروٹینز کو دینے سے غذائی معیار بہت زیادہ بہتر ہوجاتا ہے۔

اس نئی تحقیق کے نتائج طبی جریدے جرنل پلوس میڈیسن میں شائع ہوئے۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

خالص اور معیاری اشیاء خریدنے کیلئے کلک کریں:

 

Facebook Notice for EU! You need to login to view and post FB Comments!