Urdu

اخروٹ: انسانی صحت کا ضامن

اخروٹ موسم سرما میں استعمال ہونے والے خشک میوہ جات میں اپنی غذائی افادیت کے لحاظ سے بڑی اہمیت کا حامل ہے۔سرد برفانی علاقوں کے لوگ موسم کی شدتوں کا مقابلہ کرنے کے لئے اس کا بکثرت استعمال کرتے ہیں اور میدانی علاقوں کے لوگوں میں بھی یہ رغبت سے استعمال ہوتا ہے۔اپنے غذائی حراروں کے سبب موسم سرما میں جسم میں طاقت اور حرارت کا احساس دلاتا ہے یہی وجہ ہے کہ غذا اور دوا کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔اخروٹ انسانی دل، دماغ، ہڈیوں، چہرے کی رنگت، بالوں کے لیے فعال کردار ادا کرنے کے ساتھ سرطان جیسے جان لیوا مرض سے بچاؤ میں بھی معاونت کرتا ہے۔

پاکستان میں اخروٹ کے درخت بلوچستان،سوات،مری،آزاد کشمیر کے علاقوں میں بہت زیادہ ہوتے ہیں۔جبکہ ایران اور افغانستان میں اخروٹ کے درخت بکثرت پائے جاتے ہیں۔اس کے علاوہ بحیرہ روم کے اطراف کے ممالک اور وسطی ایشیائی ممالک میں اخروٹ کی کاشت بھی بہت زیادہ ہے۔

اخروٹ کے درخت کی لمبائی عموماً ایک سو سے ایک سوبیس فٹ تک ہوتی ہے اور گولائی بارہ سے تیس فٹ تک ہوتی ہے۔تیس سال کے بعد اس درخت میں پھل آنے لگتا ہے اور بعض اوقات چالیس سال سے زیادہ عرصہ لگ جاتا ہے۔
جب اس کا پھل اکٹھا کیا جاتا ہے تو اسے استعمال نہیں کیا جاتا کیونکہ اس وقت ان میں دودھ جیسی رطوبت نکلتی ہے۔تین ماہ کے بعد یہ دودھ جیسی رطوبت جم کر مغز بن جاتی ہے جسے مغزاخروٹ کا نام دیا جاتا ہے اور پھر اسے موسم سرما میں خشک میوہ کے طور پر غذائیت کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔

اخروٹ میں پائے جانے والی کیمیائی اجزا

ایک تحقیق کے مطابق مغزیات میں 13 تا 20 فیصد لحمیات، 50 تا 60 فیصد روغنیات، 9 تا 12 فیصدنشاستہ، 3 تا 5 فیصد کیلوریز اور کئی دوسری معدنیات کی مقدار ایک فیصد ہوتی ہیں۔جبکہ ایک سوگرام مغزیات میں چھ سوغذائی حرارے(کیلوریز) پیدا ہوتے ہیں۔
اخروٹ میں پائے جانے والے غذائی اجزاء کا جو کیمیائی تجزیہ کیا گیا ہے اس کے مطابق ایک ہزار گرام اخروٹ میں حسب ذیل اجزاء پائے جاتے ہیں۔

پانی 3.1 گرام،لحمیات 20.5 گرام روغنیات 59.3 گرام،چکنائی 14.8 گرام،ریشہ 1.7 گرام، راکھ2.3 گرام، کیلشیم 0.15 گرام، فاسفورس 5.70 گرام، فولاد 6.0 گرام سوڈیم 3.0 گرام، پوٹاشیم 5.60 گرام، حیاتین بی ون 0.22،وٹامن ای، بی ون، بی ٹو، حیاتین بی ٹو0.11اور بی تھری، کاپر، اومیگا -3 فیٹی ایسڈ، کیلوریز628 گرام اور بہت سے اہم اجزا پائے جاتے ہیں۔

اینٹی آکسائیڈنٹس کے حصول کا بہترین ذریعہ:
اخروٹ میں کسی بھی گری کے مقابلے میں اینٹی آکسائیڈنٹس سرگرمیاں زیادہ ہوتی ہیں، یہ سرگرمیاں وٹامن ای، میلاٹونین اور نباتاتی مرکبات پولی فینولز سے ہوتی ہیں۔ ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ اخروٹ کھانے کی عادت کھانے کے بعد نقصان دہ کولیسٹرول کے تکسیدی تناؤ سے ہونے والے نقصان بچاتی ہے۔ یہ فائدہ مند ہے کیونکہ ایل ڈی ایل کا اجتماع شریانوں میں ہوتا ہے جس سے ایتھیروسلی روسس (دل کی ایک بیماری جس میں غیرلچکدار مادہ شریانوں میں جمع ہوجاتا ہے) کا خطرہ بڑھتا ہے۔

Essential Life

اومیگا تھری فیٹی ایسڈز کا حصول
اخروٹ میں اومیگا تھری فیٹی ایسڈز کی مقدار دیگر گریوں کے مقابلے میں کافی زیادہ ہوتی ہے، 28 گرام اخروٹ میں ڈھائی گرام یہ فیٹی ایسڈز جسم کو ملتے ہیں۔ اخروٹ جیسی غذا?ں میں موجود نباتاتی اومیگا تھری فیٹی ایسڈز کو الفا لینولینک ایسڈ (اے ایل اے) کہا جاتا ہے جو ایک ضروری جز ہے۔ انسٹیٹوٹ آف میڈیسین کے مطابق مردوں کو روزانہ 1.6 جبکہ خواتین کو 1.1 گرام اے ایل اے کی ضرورت ہوتی ہے اور کچھ مقدار میں اخروٹ سے اسے حاصل کیا جاسکتا ہے۔ مختلف تحقیقی رپورٹس میں ثابت ہوا ہے کہ اے ایل اے کا روزانہ استعمال امراض قلب سے موت کا خطرہ 10 فیصد تک کم کرتا ہے۔

پانچ اخروٹ کھانے کا فارمولا:

اخروٹ اور اس قسم کے دیگر خشک میوہ جات میں ایسے اجزاء ہوتے ہیں جو دماغ کو تقویت پہنچاتے ہیں، لیکن اب سائنس دانوں نے دریافت کیا ہے کہ روزانہ صرف 5 اخروٹ کھانے سے دل کو بھی افاقہ ہوتا ہے جبکہ آنتوں اور پیٹ کی حالت بھی اچھی رہتی ہے۔
پنسلوانیا اسٹیٹ یونیورسٹی کالج آف ہیلتھ کے ماہرین نے اس سے پہلے ایک مطالعے میں دل اور بلڈ پریشر کے حوالے سے اخروٹ کے فوائد دریافت کیے تھے۔ اب اسی ٹیم نے اخروٹ پر تحقیق کو آگے بڑھاتے ہوئے یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ روزانہ اخروٹ کھانے سے ہمارے پیٹ، یعنی نظامِ ہاضمہ پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں؟

پروٹین، صحت بخش روغنیات، کیلشیم اور آئرن کے معاملے میں اخروٹ خاصے بھرپور ہوتے ہیں جبکہ ان میں الفا لینولینک ایسڈ بھی وافر ہوتا ہے، جو دراصل اومیگا تھری فیٹی ایسڈ ہی کی وہ قسم ہے جو پودوں میں پائی جاتی ہے؛ اور جو دماغ کو اومیگا تھری ہی کی طرح فائدہ پہنچاتی ہے۔
تازہ مطالعہ ایسے 42 افراد پر کیا گیا جو یا تو زائد الوزن (اوور ویٹ) تھے یا پھر موٹے ہوچکے تھے جبکہ ان کی عمر 30 سے 65 سال تک تھی۔ کئی ماہ تک جاری رہنے والے مطالعے میں معلوم ہوا کہ خون کی رگوں اور دماغ کو فائدہ پہنچانے کے علاوہ، اخروٹ کے اجزاء ہماری آنتوں اور پیٹ میں پائے جانے والے مفید جرثوموں (بیکٹیریا) کی تعداد بڑھاتے ہیں جس سے آنتوں اور پیٹ کی صحت بہتر ہوتی ہے جبکہ غذا کے ہضم ہونے (میٹابولزم) پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

تحقیقی مجلے ”دی جرنل آف نیوٹریشن“ میں شائع ہونے والی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اگر روزانہ اوسط وزن والے صرف پانچ اخروٹ بھی پابندی سے کھائے جائیں تو اس سے جہاں نظامِ دورانِ خون، رگوں اور دل کو فائدہ پہنچے گا، وہیں نظامِ ہاضمہ بھی بہتر ہوگا جس سے صحت کے دوسرے کئی فوائد حاصل ہوں گے۔

اخروٹ کے طبی فوائد:

بڑھاپے کے اثرات روکنے کا ذریعہ:
اخروٹ میں وٹا من B کی وافر مقدار پائی جاتی ہے جو جسم میں نفسیاتی دباؤ کم کرنے اور چہرے پر جھریاں پڑنے کو موخر کرنے میں مدد کرتا ہے۔ اس طرح اخروٹ براہ راست یا بالواسطہ طور پر بڑھاپے کی فوری آمد کو روکتا ہے۔ وٹا من B اور وٹا من E میں اینٹی آکسائیڈ مواد پایاجاتا ہے جو چہرے پر بڑھاپے کے آثار نمودار ہونے سے روکنے میں مدد دیتا ہے۔

جلد کی تازگی:
اگرآپ کی جلد خشکی کا شکار ہے تو ہم اس کے لیے آپ کو اخروٹ کے تیل کی مالش کا مشورہ ضرور دیں گے۔ اخروٹ کا تیل چہرے کی جلد میں گہرائی میں اتر کر اس کے صحت مند خلیات کو تقویت دیتا ہے اور جلد کی خشکی ختم کرنے میں مدد ملتی ہے۔

Essential Life

سیاہ حلقوں سے نجات:
اخروٹ کا گرم تیل آنکھوں کے اطراف میں پیدا ہونے والے سیاہ حلقوں کو روکنے میں مدد دیتا ہے۔اس کے استعمال سے آنکھوں کو سکون اور آرام ملتا ہے۔

جلد اور چہرے کی چمک کی حفاظت:
اخروٹ میں وٹامن بی 6 اور وٹا من E6کی وافر مقدار پائی جاتی ہے جو چہرے کی جلد کو خوبصورت، تازہ اور ہشاش بشاش رکھتی ہے۔ اخروٹ کے استعمال سے جلد میں تناؤ رہتا ہے اور وقت سے پہلے جلد پر جھریاں ظاہر نہیں ہوتیں، اس کے علاوہ جلد میں چمک پیدا ہوتی ہے اور جلد تروتازہ دکھائی دیتی ہے چہرے کی قدرتی چمک بحال کرنے کے لیے اخروٹ کے چار دانوں کی گری،دو چمچ جو،ایک چھوٹا چمچ شہد، ایک چمچ تازہ کریم اور زیتون کے تیل کے چار قطریاچھی طرح آپس میں ملائیں اور ان کا پیسٹ بنا کر چہرے پر لگائیں۔ اس طرح قدرتی رنگ اور اس کی چمک سے لطف اٹھائیں۔ اس کا طریقہ استعمال بھی سادہ ہے۔ مذکورہ تمام اشیاء کا پیسٹ بناکر چہرے پر دائرے کی شکل میں لگائیں۔ چہرے کو تازہ رکھنے والے عوامل میں یہ ایک اہم طریقہ ہے۔

صحت مند بالوں کی حفاظت:
آج کل کے حالات اور زندگی کے طور طریقوں سے بال بہت زیادہ آلودگی کا شکار ہوتے ہیں۔ ہماری غذائی عادات بھی بالوں کی صحت پراثر انداز ہوتی ہیں۔ اخروٹ کے استعمال سے خواتین اپنے بالوں کو صحت مند رکھ سکتی ہیں۔ ایسی خواتین جنہیں بالوں کی کم زوری کی شکایت ہے وہ روزانہ کی بنیاد پر اپنی خوراک میں اخروٹ کو بھی شامل کریں۔
دراصل اخروٹ،اومیگا -3 فیٹی ایسڈ اور وٹامن ای سے مالا مال ہے۔ چنانچہ بالوں کو تر و تازہ رکھنے کے لیے اخروٹ کے تیل کا استعمال کریں اور اخروٹ کے تیل سے تیار کردہ پیسٹ بھی بالوں لو لگانے سے ان کی صحت بہتر ہوسکتی ہے۔ اس طرح بالوں کی صحت بہتر ہونے کے ساتھ ان کی چمک میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔

بالوں کے گرنے سے بچاؤ:
امریکا میں کی جانے والی بعض تحقیقات کے مطابق اخروٹ کے تیل کو شیمپوں کے ساتھ ملا کر بال دھونے سے بالوں کو گرنے سے روکا جاسکتا ہے۔

بالوں میں خشکی کی روک تھام:
اخروٹ کے تیل کا بہ کثرت استعمال بالوں میں خشکی پیدا کرنے والے بیکٹیر کی نشونما سے روکنے میں مدد دیتا ہے۔

ہڈیوں کی مضبوطی کے لیے
اخروٹ میں پوٹائیشیم، کیلشیم، میگنیشیم جیسی دھاتیں پائی جاتی ہیں جو ہڈیوں اور پھٹوں کو مضبوط بناتی ہیں، ماہرین کیمطابق اگر اخروٹ شوق سے کھایا جائے تو ہڈیاں کمزور ہونے سے بچ جاتی ہیں۔

بالوں کی قدرتی رنگت:
اومیگا تھری فیٹی ایسڈ اور وٹامن ای سے بھرپور اخروٹ بالوں میں نمی برقرار رکھنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں،اخروٹ میں کاپر کی مقدار بھی کافی پائی جاتی ہے جو جلد اور بالوں کے قدرتی رنگ کو برقرار رکھنے میں مدد دیتی جب کہ اس کی کمی بالوں کو وقت سے پہلے سفید بھی کرسکتی ہے۔اگر بالوں کو سیاہ، لانبا اور گھنا رکھنا ہو تو اخروٹ سے بھرپور فائدہ حاصل کیا جاسکتا ہے۔جبکہ اخروٹ کے تیل میں پروٹین کی وافر مقدار پائی جاتی ہے جو بالوں کو ان کے قدرتی رنگ میں رکھنے اور ان کی قدرتی چمک بڑھانے میں مدد دیتی ہے۔

آنکھوں کے لیے
اخروٹ اپنے اندر حیرت انگیز طاقت رکھتا ہے،اخروٹ کے تیل سے آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے بھی ختم کیے جاسکتے ہیں۔اخروٹ میں پائے جانے والے اجزا آنکھوں کی بینائی کو تیز کرتے ہیں اور ان میں چمک پیدا کرتے ہیں۔

کئی اقسام کے کینسر سے ممکنہ تحفظ:
مختلف تحقیقی رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ اخروٹ کھانا مخصوص اقسام کے کینسر جیسے بریسٹ، مثانے اور قولون وغیرہ کا خطرہ کم کرسکتا ہے۔ جیسا اوپر بتایا جاچکا ہے کہ اخروٹ میں پولی فینول ellagitannins ہوتے ہیں، جو معدے میں بیکٹریا urolithins میں بدل دیتے ہیں، یہ ورم کش خصوصیات رکھتا ہے جس سے قولون کینسر سے تحفظ ملتا ہے، اس کے علاوہ urolithins ورم کش ہونے کی وجہ سے دیگر اقسام کے کینسر سے تحفظ دے سکتا ہے۔ اس کی ہارمون جیسی خصوصیات جسم میں ہارمون ریسیپٹرز کو بلاک کرتی ہیں، جس سے بھی ہارم سے جڑے کینسر جیسے بریسٹ اور مثانے کا خطرہ کم ہوتا ہے۔ اس حوالے سے ابھی مزید تحقیق کی ضرورت ہے تاکہ ان اثرات کی تصدیق ہوسکے۔

Essential Life

دماغی افعال بہتر کرے:
بچوں کو مچھلی، سویا بین اور اخروٹ لڑکپن میں کھلانا ان کی ذہنی نشوونما کے لیے فائدہ مند ہوتا ہے۔ ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ لڑکپن میں اومیگا تھری فیٹی ایسڈ کی کمی بچوں کو ذہنی بے چینی کا شکار بناتی ہے جس سے ان کی یاداشت کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے۔ اوپر درج کی گئی غذائیں اومیگا تھری فیٹی ایسڈز سے بھرپور ہوتی ہیں جو بچوں کے بالغ ہوتے دماغ کی کارکردگی کو بہتر بناتی ہیں۔
اخروٹ میں پائے جانے والے اجزا دماغ کو بھی مضبوط بناتے ہیں، یاداشت میں اضافہ کرتے ہیں، ایسے افراد جو ذہنی طور پر کمزور ہوں ان کو چاہیے کہ وہ اخروٹ کا استعمال زیادہ کریں، گرمی کی شدت زیادہ ہو تو اخروٹ کھانے میں احتیاط برتیں۔

مردوں کو بانجھ پن سے بچائے:
یونیورسٹی آف ڈیلاویئر کی تحقیق میں بتایا گیا کہ اخروٹ کھانے کی عادت کے نتیجے میں جسم میں ایسے کیمیکلز کی کمی آتی ہے جو کہ خلیات کو نقصان پہنچا کر مردوں میں بانجھ پن کا باعث بنتے ہیں۔ تحقیق میں بتایا گیا کہ اخروٹ میں فیٹی ایسڈز موجود ہوتے ہیں جو کہ ان خلیات کو پہنچنے والے نقصان کی روک تھام کرتا ہے۔محققین کا کہنا تھا کہ یہ حیران کن ہے کہ اخروٹ کھانا اس مسئلے پر قابو پانے میں مددگار ثابت ہوتا ہے تاہم اس حوالے سے مزید تحقیق کی ضرورت ہے تاکہ جانا جاسکے کہ اخروٹ میں موجود کونسی چیز اس حوالے سے فائدہ مند ثابت ہوتی ہے۔

ذیابیطس سے بچائے:
اخروٹ میں فیٹی ایسڈز کی مقدار زیادہ ہوتی ہے جبکہ کیلوریز کے حوالے سے بھی یہ بہترین ہے تو اگر لوگ روزانہ اس کو کھائیں تو ان کا میٹابولک نظام بہتر حالت میں رہتا ہے۔ اخروٹ کھانے سے خون کی شریانوں کے افعال میں بہتری جبکہ جسم کے لیے نقصان دہ کولیسٹرول کی سطح میں کمی آتی ہے، یہ دونوں عناصر ذیابیطس ٹائپ ٹو کا خطرہ بڑھاتے ہیں۔

فالج اور لقوہ:
مغز اخروٹ اپنی گرم تاثیر کے سبب سرد امراض میں مفید ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شدید سردی سے ہونے والے امراض وجع المفاصل (جوڑوں کا درد) اور فالج و لقوہ میں مغز اخروٹ اور زیرہ سیاہ برابر وزن میں پیس کر شہد ملا کر جسم پر مالش کریں اور پھر چت لٹا کر اوپر لحاف اوڑھا دیں یہاں تک کہ پسینہ آجائے پھر جسم کو خشک کرکے سرد ہوا سے بچا کر اسے الگ کمرے میں رہنے کی تاکید کریں۔ تیز ٹھنڈا پانی بھی پینے دیں۔ چند دنوں میں بہتری ہوجائے گی۔

معدے کی صحت کیلئے:
اخروٹ کھانے سے پروبائیوٹک بیکٹریا کی سطح بلند ہوتی ہے جس سے معدے کی صحت اچھی رہتی ہے۔اخروٹ کے استعمال سے معدے میں رونما ہونے والی تبدیلیاں معدے کو طاقت بخشتی ہیں۔

شوگر میں مفید:
اخروٹ کھانے سے خون کی شریانوں کے افعال میں بہتری جبکہ جسم کے لیے نقصان دہ کولیسٹرول کی سطح میں کمی آتی ہے، اخروٹ میں فیٹی ایسڈز کی مقدار زیادہ ہوتی ہے جبکہ کیلوریز کے حوالے سے بھی یہ بہترین ہے،یہ دونوں عناصر ذیابیطس ٹائپ ٹو کا خطرہ بڑھاتے ہیں۔

بھوک کی کمی:
اخروٹ ایک طاقت ور خشک میوہ ہے، اس کو کھانے سے بھوک کا احساس کم ہوتا ہے، ایسی حالت میں جب بھوک کی شدت زیادہ ہو تو اخروٹ بہت حد تک اس میں کمی پیدا کرتا ہے۔دراصل یہ دماغ کے ان حصوں کو متحرک کرتا ہے جو بھوک کے احساس کو جنم دیتے ہیں۔
ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ روزانہ کچھ مقدار میں اخروٹ کھانا دماغ کے ان حصوں کو متحرک کرسکتا ہے جو بے وقت کھانے یا بھوک کی خواہش کو کم کرتے ہیں۔آسان الفاظ میں روزانہ اخروٹ کا استعمال زیادہ کھانے سے بچانے میں مددگار ثابت ہوتا ہے، کیونکہ اس میوے کو کھانے کے بعد لوگوں کو زیادہ دیر تک پیٹ بھرے رہنے کا احساس ہوتا ہے۔

Essential Life

سُوجن کے خاتمے کے لیے:
جسم میں ہونے والی سوجن بہت سے بیماریوں کوجنم دیتی ہے، بعض اوقات یہ خطرناک صورت بھی اختیار کر جاتی ہے، سوجن متعدد امراض بشمول امراض قلب، ذیابیطس ٹائپ ٹو، الزائمر اور کینسر وغیرہ کی جڑ ثابت ہوتا ہے اور اس کی وجہ تکسیدی تناؤ ہوتا ہے۔ اخروٹ میں موجود پولی فینولز تکسیدی تناؤ اور ورم سے لڑنے میں مدد دیتے ہیں۔ معدے میں موجود صحت کے لیے فائدہ مند بیکٹریا پولی فینولز کی ایک قسم ellagitannins کو urolithins میں بدل دیتا ہے جو ورم سے تحفظ فراہم کرتا ہے۔ اسی طرح اومیگا تھری فیٹی ایسڈز، میگنیشم اور امینو ایسڈ بھی اخروٹ میں ہوتے ہیں جو ورم کو کم کرنے کے لیے مفید ثابت ہوتے ہیں۔

کولیسٹرول کنٹرول:
اخروٹ انسانی جسم میں کولیسٹرول کو کنٹرول رکھنے میں مدد گار ثابت ہوتا ہے۔اینٹی اکسائیڈینٹس اعضا کو خراب ہونے سے بچاتے ہیں اور اخروٹ اینٹی آکسائیڈینٹس کا خزانہ ہے۔ وہ افراد جو روزانہ اخروٹ کھاتے ہیں وہ کولیسٹرول کے بڑھنے اور کولیسٹرول سے پیدا ہونے والی بیماریوں سے محفوظ رہتے ہیں۔

حمل کے دوران:
اخروٹ میں شامل زنک، میگنیشیم جیسے اجزا انسانی جسم کے لئے نہایت ضروری ہیں، اس لئے حاملہ خواتین کے لئے ان کا استعمال نہایت نفع بخش ہے۔

پرسکون نیند:
اخروٹ میں میلاٹونین نامی ایسڈ موجود ہوتا ہے، جو جسم کے اندرونی نظام کو چلانے کا ذمہ دار ہے۔ لہذا جب جسم میں میلاٹونین کی مقدار پوری ہوتی ہے تو آپ رات بھر پُرسکون نیند لے سکتے ہیں۔

اخروٹ کے دیگر فوائد
اخروٹ کو دھاتوں اور وٹامن کا خزانہ کہا جاتا ہے۔ اس میں پوٹاشیئم، کیلشیم، مینگیشیم، پائے جاتے ہیں جو صحت کے لیے کسی نعمت سے کم نہیں۔

سگ گزیدی کا علاج:
سگ گزیدی یعنی کتے کے کاٹنے کا علاج:مغزاخروٹ اور پیاز ہم وزن ملا کر تھوڑا سانمک ملا کر باؤ لے کتے کے کاٹے پر لگانے سے اس کا زہر ختم ہو جاتا ہے۔

مغزاخروٹ کا مربہ:
یہ مربہ سرد مزاج والوں کے لئے بہت مفید ہے۔سرد امراض میں جلدی افاقہ ہوتا ہے اور جگر کی برودت ختم ہو جاتی ہے۔ اس کی تیاری کا طریقہ یہ ہے کہ اخروٹ کا تازہ مغزلے کر اوپر کا باریک چھلکا ہٹاکر مٹی کی ہانڈی میں بھر کران کے اوپر تک پانی بھردیں،پھر نمک ڈال کر چوبیس گھنٹے بعد نکال کر پانی سے صاف کر لیں اور سائے میں خشک کرکے شہد کا شیرہ بھردیں کہ مغزان کے نیچے ڈوب جائیں اب انہیں مرتبان میں رکھ کر استعمال کریں۔

Essential Life

بواسیر:
اخروٹ کی جڑ کو زیتون کے تیل میں جوش دیں کہ گل جائے، پھر بواسیر کے مسوں پر لگادیں۔

کھانسی اور گلے کے امراض:
بھنے ہوئے مغز اخروٹ کے ساتھ دو گرام ست ملٹھی،مغزکدو پانچ عدد اور گوند کیکر تین گرام شہد کے ساتھ استعمال کرنے سے کھانسی اور گلے کے امراض میں مفید ہے۔
اخروٹ جلد کو دھوپ کی تابکار شعاعوں سے لڑنے میں مدد دیتا ہے اور جلد کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ دھوپ سے متاثر ہونے والے خلیات کی مرمت کرسکے۔

چوٹ کا نشان:
جسم پر چوٹ کے نشان کو مٹانے کے لیے اخروٹ کو پانی میں رگڑ کر تین ہفتے تک لگاتے رہنے سے نشان مٹ جاتا ہے۔ اخروٹ میں موجود سیلینیم اور پروٹین بیکٹیریا سے جِلد کو محفوظ بناتے ہیں۔

جلدی خارش:
اخروٹ کا تیل لگانے سے جلد کی خارش دور ہو جاتی ہے۔جسم میں لینولینک کی کمی جلد کو خشک اور کھردرا بنا دیتی ہے، اس سے نجات کے لیے اخروٹ بہترین حل ہے۔اخروٹ کے استعمال سے جلد ایکزیما جیسی بیماری سے محفوظ رہتی ہے۔

اخروٹ کے تیل کو کیسے استعمال کیا جائے:
اخروٹ میں روغن کی مقدار باقی خشک میوہ جات کی نسبت زیادہ ہوتی ہے یہ کافی گرم ہوتا ہے۔اس کی مالش سے دوران خون تیز ہو جاتا ہے۔جس سے پٹھوں میں موسم سرما میں ہونے والے درد کو فوری فائدہ ہوتا ہے اور فالج میں بھی مفید ہے۔
جہاں تک اخروٹ کے تیل کے استعمال کی بات ہے تو ماہرین ہفتے میں اس سے تین بار مالش کامشورہ دیتے ہیں۔ اخروٹ، زیتون اور ناریل کے تیل کو ملا کر استعمال کرنے سے فوائد اور بھی بڑھ جاتے ہیں۔

Essential Life

سیاہ بال کرنے کا ٹوٹکا:
بالوں کی سیاہی کو قائم رکھنے اور سفید ہوتے ہوئے بالوں کو روکنے کے لئے یہ تدبیر مفید ہے۔
اخروٹ کا سبز چھلکا 15 گرام، پھٹکری 2 گرام، بنولے کا تیل 250 گرام، بنولے کے تیل کو تام چینی کے برتن میں ڈال کر اس میں اخروٹ کے چھلکے ڈال لیں اور اس کو ہلکی آنچ پر اتنا گرم کریں کہ اخروٹ کے چھلکے میں نمی سے اڑ کر مکمل خشک ہو جائے یعنی رنگت سیاہ ہوجائے پھر تیل کو چھان کر استعمال کر سکتے ہیں۔

اخروٹ کا تیل اور زیتون کا تیل باہم ہم وزن ملا کر سر میں لگانا جوائیں ختم کرتا ہے۔

اخروٹ کے چھلکے کا منجن:
تازہ اخروٹ کے چھلے جو سبز ہوتے ہیں کو اتار کر منجن کے طور پر استعمال کریں جس سے دانت صاف اور چمکدار ہو جاتے ہیں اور مسوڑھے مضبوط ہو جاتے ہیں۔ خون آنا بند ہوجاتا ہے۔ ہمارے ہاں لوگ پہاڑی مقامات سے تازہ اخروٹ لا کر بزرگ خواتین کو تحفے میں دیتے ہیں جو وہ دانتوں کو صاف کرنے کے لیے استعمال کرتی ہیں۔ مغز اخروٹ کے منجن میں مزید درج ذیل دوائیں بھی شامل کی جاتی ہیں۔
اخروٹ کے خول 200 گرام، سفید صندل 2 گرام، پھٹکڑی بریاں 5 گرام، خوردنی نمک 5 گرام، لونگ 10 گرام، مشک کافور 2 گرام۔
ان سب اجزاء کو پیس کر خوب باریک کرلیں اور چھان کر بطور منجن استعمال کریں رات کو سونے سے قبل اس منجن کا استعمال کریں۔ یہ منجن دانتوں کے جملہ امراض کے لیے مفید ہے۔
پائیوریا سے بچنے کے لیے اخروٹ کی جڑ کی مسواک بھی مفید ہے۔ اس کے علاوہ اخروٹ کے بیرونی سبز چھلکے کو پانی میں جوش دے کر اس میں تھوڑا سا نمک ملا کر کلی کرنے سے فائدہ ہوتا ہے۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

 

اخروٹ کے تیل سے متعلق اصلی اور خالص مصنوعات خریدنے کیلئے کلک کریں۔

 

Related Posts