Urdu

اورنج ہنی ایک اچھا اینٹی آکسیڈنٹ اور اینٹی بائیوٹک شہد ہے

اورنج ہنی اورنج کے پھولوں کے رس سے حاصل ہونے والا شہد ہے۔ یہ مونو فلورا شہد کی قسم ہے۔ اسے اس لئے اورنج شہد کہتے ہیں کہ یہ شہد حاصل کرنے کے لیے شہد کی مکھیوں کو اورنج ٹریز کے جھنڈ میں رکھا جاتا ہے اور اس بات کا اطمینان کیا جاتا ہے کہ شہد کی مکھیوں نے رس صرف اورنج سے حاصل کیا ہے۔

ہنی یا شہد ایک قدرتی لیس دار میٹھا سیال ہے۔جو شہد کی مکھیاں مختلف پھولوں کے رس سے بناتی ہیں۔شہد انسان کے لیے اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ ایک بیش قیمت نعمت ہے۔اس کی مختلف اقسام ہوتی ہیں اور یہ مختلف رنگوں میں دستیاب ہوتا ہے۔اس کے رنگ اور ذائقے کامعیار اس بات پر ہوتا ہے کہ اس کو کس قسم کے پھول سے حاصل کیا گیا ہے۔

تمام غذائی نعمتوں میں شہد کو ایک ممتاز درجہ حاصل ہے۔ شہد کا شمار ان کھانوں میں ہوتا ہے جن کی کوئی زائد المیعاد تاریخ نہیں ہوتی۔ شہد کو اگر کافی عرصے استعمال نہیں کیا جائے تو وہ جم جاتا ہے اور اس کا رنگ بھی تبدیل ہوجاتا ہے لیکن وہ خراب نہیں ہوتا۔ جمے ہوئے شہد کو پگھلانے کے بعد اس کو کچھ دیر سورج کی روشنی میں رکھ دیں یا پھر گرم پانی میں شہد کی بوتل رکھ دیں۔

اورنج شہد کی خصوصیات
اورنج شہد ایک منفرد خصوصیات کا حامل شہد ہے۔ ایک تو اورنج شہد کا رنگ اورنج کلر سا ہوتا ہے دوسرا اس میں ہلکی سی اورنج کی مہک بھی موجود ہوتی ہے۔ شہد میں سکروز کا لیول قدرتی طور پر کم ہوتا ہے، جبکہ گلوکوز کافی بڑی مقدار میں موجود ہوتا ہے، اس لئے یہ شہد جلدی جمتا ہے اور جلد کرسٹلائز ہوتا ہے۔ لیکن اس سے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ ہلکا سا گرم کرنے پر شہد واپس اپنی اصلی مائع حالت میں آ جاتا ہے۔ اس شہد کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ یہ شہد کافی حد تک گاڑھا ہوتا ہے۔

اورنج شہد کے استعمالات
یہ شہد عام طور پر دوسرے مشروبات مثلاً کافی میں بطور سویٹنر ملانے کے کام آتا ہے۔ جام کی طرح بریڈ پر لگا کر کھانے میں استعمال ہوتا ہے۔ بیکری کی مصنوعات کی تیاری میں استعمال ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ دیگر چیزوں پر لگا کر کھانے میں استعمال ہوتاہے۔

اورنج شہد کے فوائد
اورنج شہد میں قدرتی طور پر ہائیڈروجن پر آکسائڈ کافی عرصے تک موجود رہتا ہے جس کی وجہ سے شہد قدرتی طور پر ایک اچھا اینٹی آکسیڈنٹ اور اینٹی بائیوٹک ثابت ہوتا ہے۔ ان دونوں خصوصیات کی بدولت یہ شہد دائمی امراض کے مریضوں کے استعمال کے لیے بے حد موزوں ہے۔ نظام انہضام کو فعال بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ نظام تنفس کے امراض میں مبتلا مریضوں کے لئے مفید ہے۔ جسم کو صحت مند اور توانا رکھنے کیلئے اس کا روزانہ استعمال بے حد مفید ہے۔

فالج، بلڈ پریشر اور امراضِ قلب میں مفید
ماہرین نے مسلسل 15 سال تک 28 ہزار افراد کا جائزہ لیا جس میں پھل اور سبزیوں کے دماغی قوت اور صحت سے تعلق کی تصدیق کرنا تھا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اگر کوئی مرد روزانہ اورنج جوس کے ایک چھوٹے گلاس پینے کو معمول بنالے تو اس سے حافظہ متاثر ہونے کا خدشہ 47 فیصد تک گھٹ جاتا ہے۔اورنج شہد کا استعمال بھی فالج، بلڈ پریشر اور امراضِ قلب میں مفیدہے۔

خوبصورت جلد اور چہرہ شاداب
نارنجیوں اور کینو میں کئی طرح کے فلے وینولز خون کی روانی کو بڑھاتے ہیں۔ اس کا اثر پورے جسم پر ہوتا ہے۔ پھر وٹامن سی، فائبر، وٹامن بی ون اور دیگر اہم اجزا سے بھرپور نارنجیاں دیگر 80 غذائی اجزا اور کیمیکل سے بھرپور ہوتی ہیں۔اورنج شہد کے استعمال سے چہرہ خوبصورت اور جلد شاداب ہو جاتی ہے۔

کینو اور کینسر
نارنجیاں اور کینو کے استعمال سے کئی طرح کے کینسر کے خطرے سیبچا جاسکتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان پھلوں میں اینٹی آکسیڈنٹس کی وسیع مقدار ہوتی ہے۔ اینٹی آکسیڈنٹس خلوی (سیلیولر) سطح پر بگاڑ کو روکتے ہیں۔ بصورتِ دیگر فری ریڈیکلز کسی نہ کسی طرح کے سرطان کی وجہ بن سکتے ہیں۔اورنج شہد کا استعمال اس مقصد کیلئے کسی ٹانک سے کم نہیں۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اسے استعمال کرنے کے حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

خالص اور معیاری اشیاء خریدنے کیلئے کلک کریں: