Urdu

اگر یا عود ہندی: سات بیماریوں کا شافی علاج

رسول اللہ ﷺ کو عطر بہت پسند تھا۔ خاص طور پر مشک اور عود کی خوشبو محبوب تھی۔ آپ ﷺ کا ارشاد ہے کہ تمہیں چاہئے کہ عود ہندی کا استعمال کرو کیونکہ اس میں سات بیماریوں کا علاج ہے۔

عودِ ہندی دوقسم کی ہوتی ہے، ایک تو قسط، جو دواؤں میں مستعمل ہے اور اسے عام طور پر قسط کہتے ہیں اور دوسری قسم کو خوشبو میں استعمال کیا جاتا ہے اس کو القرہ کہتے ہیں، سب سے عمدہ سیاہ اور نیلگوں رنگ کی ہوتی ہے جو سخت، چکنی اور وزن دار ہوتی ہے اور سب سے خراب ہلکی پانی پر تیرنے والی ہوتی ہے۔اس میں متعدد بیماریوں کا شافی علاج ہے۔

عود کی خوشبو سونگھتے ہی سب سے پہلے حجر اسود اور غلاف کعبہ کا تصور ذہن میں آتا ہے۔ وہ خوش نصیب افراد جنہیں حج یا عمرے کی سعادت نصیب ہوئی ہے اور خانہ کعبہ میں حاضری کا موقع ملا ہے، انہوں نے دوران طواف حرم کے ماحول میں ایک مخصوص خوشبو رچی بسی محسوس کی ہوگی۔ یہ مخصوص خوشبو معطر غلاف کعبہ سے پھوٹتی ہے اور اس دھونی میں بھی ہوتی ہے جس کا اہتمام خاص اوقات میں حرم مکی میں کیا جاتا ہے۔ یہ دھونی بخور میں ایک مخصوص لکڑی میں موجود ریزش کے سلگنے سے اُٹھتی ہے۔ یہ عود (Oud) کی خوشبو ہے۔

یہ وہی عود ہے جسے اگر (Agar) کا نام بھی دیا جاتا ہے۔برصغیر اور مشرق بعید میں بھی ماحول کو خوشبو دار بنانے کے لئے اگر بتی زمانہ قدیم سے استعمال ہورہی ہے۔ اس کو اگر بتی اسی لئے کہا جاتا ہے کہ بانس کی باریک تیلیوں پر عود یعنی اگر کی لکڑی کے برادے کو چپکا کر اسے مقدس مذہبی مقامات پر خوشبو کے لئے سلگایا جاتا ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ عود مہنگا ہوتا گیا اور اس کی جگہ اگر بتی کی تیلی پر دوسرے سستے خوشبودار مصالحے استعمال کئے جانے لگے۔

عود (Eagle Wood) کا درخت سدابہار ہوتا ہے۔ یہ بنگال، آسام اور سلہٹ کے جنگلات میں بکثرت پائے جاتے ہیں۔ اس درخت کی لکڑی عودیا اگر کے نام سے بازار میں ملتی ہے جو گہرے بھورے رنگ کی بے ڈول،روغنی ٹکڑوں کی شکل میں ہوتی ہے جس سے خوشبو آتی ہے اور جلانے پر یہ خوشبو چاروں طرف پھیل جاتی ہے۔ اگر کے درخت ہمیشہ ہرے بھرے رہنے والے دکھائی دیتے ہیں۔ ان درختوں پر چَیت کے مہینے میں پھول آتے ہیں اور اس کے بیچ ساون میں پکتے ہیں۔ اس کی چھال اور لکڑی بڑی نرم ہوتی ہے۔ اس (agarwood) کی لکڑی میں سوراخ ہوتے ہیں۔ انہی سوراخوں میں رال کی طرح نرم اور خوشبودار مادہ بھرا رہتا ہے۔ لوگ اسے چاقو سے چھیل کا رکھ لیتے ہیں جو بہت ہی قیمتی چیز مانی جاتی ہے۔ اگر کی لکڑی سڑ جانے پر اس میں سے ایک خاص قسم کی خوشبو نکلتی ہے۔ صاف اگر کا رنگ کالا ہوتا ہے اور وہی سب سے قیمتی مانی جاتی ہے۔ پرانے درخت کا عود بہتر مانا جاتا ہے۔ اسکو”عود غرقی“ (agarwood) کہتے ہیں۔ کیونکہ ان کو پانی میں ڈالنے سے ڈوب جاتا ہے۔ سلہٹ میں اس سے عسرٰ بھی تیار کیا جاتا ہے۔ جو عود ہندوستان کے جنگلوں سے حاصل ہوتا ہے۔ اسکو عود ہندی کہتے ہیں۔

عود کا درخت سدا بہار درخت ہے اور 70 سے 80 فٹ تک اونچا ہوتا ہے۔ یہ 30۔ 40 برس کا ہوجاتاہے۔ تب ہی اس کے اندر ایک سیاہ وزنی اور خوشبودار رس پیدا ہو کر لکڑی کے وزن کو بھاری کر دیتا ہے۔ اسے عربی میں عود غرقی ٗ فارسی میں عود ہندی ٗ سندھی میں اگر کاٹھی ٗ سنسکرت میں اگرو جبکہ انگریزی میں ایگل وڈ کہتے ہیں۔

اگر(عود ہندی) کے درخت کی چھال پتلی و مضبوط ہوتی ہے۔ اس کی اندرونی چھال کو جب صاف کیا جاتا ہے تو وہ سفید چمڑے کی طرح مضبوط ہوتی ہے۔ پرانے زمانہ میں اس پر کتابیں اور ضروری دستاویزات لکھی جاتی تھیں۔ اگر(عود) کے پتے بانسہ کے پتوں کی طرح دو تین انچ لمبے اور چمکدار ہوتے ہیں اور اپنے ڈنٹھل کے ذریعے مضبوطی سے لگتے ہوتے ہیں۔پھول چھتر دار، ملائم، سفید رنگ کے ہوتے ہیں۔ موسم بہار کے بعد جب پھول جھڑ جاتے ہیں تو اس کے (agarwood) بعد پھل لگتے ہیں جو امرود کی شکل کے ہوتے ہیں۔

عود میں پائے جانے والے کیمیائی اجزا:
عود کی لکڑی جہاں خوشبو پیدا ہوتی ہے وہاں اس لکڑی سے ایک اڑنے والا تیل اور ایک نہ اڑنے والا تیل(فکسڈآئل) بھی نکلتا ہے،اس کے علاوہ اس میں سے ایک خاص قسم کی رال بھی نکلتی ہے جو الکوحل میں حل ہوجاتی ہے۔

فوائد:
مقوی معدہ، مقوی اعضائے رئیسہ، ریاح دور کرنے اور مردانہ کمزوری میں مفید ہے۔ منہ کی بدبو دور کرنے کے لئے اسے پان میں ڈال کر چباتے ہیں۔ اس کی لکڑی کی خوشبو سے ہوا خوشبو دار ہو جاتی ہے اور مکھی، مچھر دور رہتے ہیں۔ کپڑوں پر اس کے سفوف چھڑکنے سے کھٹمل اور جوئیں وغیرہ نہیں آتی ہیں۔

اگر(عود) کا تیل خوشبو کے لئے کام میں لایا جاتا ہے اور اس کے پانی کو کپڑوں پر چھڑکنے سے ان میں خوشبو پھیل جاتی ہے۔ کچھ لوگ اگر کی چھال کو کپڑوں میں رکھ دیتے ہیں جس سے کپڑوں میں بھی خوشبو پھیل جاتی ہے۔

سانس اور دمہ کا مرض:
اگر(عود ہندی) خالص سفوف بنا کر دو گرام شہد میں ملا کر دن میں تین بار چٹائیں۔ اس سے کھانسی،دمہ کو آرام ملتا ہے۔ ہچکی دور ہوجاتی ہے۔ دمہ کی صورت میں ایک یا دو بوند پان میں رکھ کر دے سکتے ہیں۔

مردانہ امراض:
تین گرام اگر(عود ہندی) کا سفوف بنا کر شہد خالص میں ملا کر چٹائیں۔

کھانسی کا علاج:
عود کا خالص تیل پان کے پتے میں رکھ کر کھلائیں، کھانسی کے لئے فائدہ مند ہیں۔

منہ کی بدبو:
اگر(عود ہندی) ایک خوشبودار چیز ہونے کی وجہ سے منہ کی بدبو کے لئے بہت ہی مفید ہے، حسب ضرورت اسے منہ میں رکھ کر چبانا چاہئے۔

درد ہر قسم:
اگر(عود ہندی) خالص کو گس کر مقام درد پر لیپ کریں۔ آرام آجائے گا۔ اگر دو گرام شہد ملا کر اسے چٹا دیں، تو جلد آرام آجائے گا۔

جلدی امراض:
اگر(عود ہندی) کے سفوف کو پانی میں ملاکر مقام مرض پر لیپ کریں یا سفوف بنا کر زخموں پر چھڑکیں تو آرام آجائے گا۔

گنٹھیا:
تیل اگر(عود ہندی) کو مقام مرض پر ملیں تو جلد آرام آجائے گا۔ دیگر جسمانی دردوں کے لئے بھی اسے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

اگر خوشبودار چورن:
اگر، کافور، کیسر، لوبان،خس،لودھ، ناگرموتھا، سب کو برابر لے کر باریک پیس لیں۔ اگر خوشبودار چورن تیار ہے۔ اس چورن کو جسم پر ملنے سے جسم خوشبودار ہو جاتا ہے۔کوچین میں اگر سے ایک قسم کا خاص خوشبودار کاغذ بناتے ہیں۔ اگر سے ہی اگربتیاں بنائی جاتی ہے جسے خوشبو کے لئے جلایا جاتا ہے۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اسے استعمال کرنے کے حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

خالص اور معیاری اشیاء خریدنے کیلئے کلک کریں: