Urdu

ببول شہد: زہریلے زخموں کا موثر علاج

ببول یعنی کیکر برصغیر کا ایک مشہور درخت ہے۔یہ 5 سے 20 میٹر لمبا ہوتا ہے۔ببول برصغیر کے علاوہ افریقہ، اور مشرق وسطیٰ میں بھی ہوتا ہے۔ اس کی کئی اقسام ہیں۔ جس میں کانٹے کم اور شاخیں زیادہ ہوتی ہیں اس کا تنا سیاہ موٹا اور بڑا ہوتا ہے۔ دوسری قسم بھوری ہوتی ہے جس میں کانٹے زیادہ ہوتے ہیں۔اس کے پتے املی کے پتوں کی طرح سینک پر لگتے ہیں اس کے پھول پیلے رنگ کے گول ہوتے ہیں پھول عموماً ساون میں لگتے ہیں، پھاگن میں کیکر پر پھلیاں آنے لگتی ہیں ہر پھلی چار پانچ انچ لمبی، چپٹی اور خانہ دار ہوتی ہے، اس کے ہر ایک خانہ میں ایک بیج ہوتا ہے، ہر پھول میں 9 سے لے کر12 دانے ہوتے ہیں، ان دانوں کے درمیان اور ارد گرد ایک سفید پردہ ہوتا ہے، ہر دانہ چپٹا، چھوٹا اور کچھ چوڑا ہوتا ہے، پھلی کے اندر زرد رنگ کی لیسدار رطوبت ہوتی ہے۔

ببول کے پتے، پھول، پھلیاں، چھال، لکڑی سبھی دواءً استعمال کئے جاتے ہیں، بعض نسخوں میں ایک وقت میں یہ پانچوں اجزاء شامل ہوتے ہیں۔یہ صدیوں سے مختلف امراض کے علاج کیلئے استعمال ہو رہے ہیں۔ چونکہ یہ دور دراز علاقوں میں بسنے والے افراد کی پہنچ میں ہے، چنانچہ اسے غریب کا حکیم درخت بھی کہتے ہیں۔

ببول کے پھولوں سے بننے والا ببول شہد انسانی صحت کیلئے انتہائی فائدہ مند ہے۔ ہنی یا شہد ایک قدرتی لیس دار میٹھا سیال ہے۔جو شہد کی مکھیاں مختلف پھولوں کے رس سے بناتی ہیں۔شہد انسان کے لیے اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ ایک بیش قیمت نعمت ہے۔اس کی مختلف اقسام ہوتی ہیں اور یہ مختلف رنگوں میں دستیاب ہوتا ہے۔اس کے رنگ اور ذائقے کامعیار اس بات پر ہوتا ہے کہ اس کو کس قسم کے پھول سے حاصل کیا گیا ہے۔

تمام غذائی نعمتوں میں شہد کو ایک ممتاز درجہ حاصل ہے۔ شہد کا شمار ان کھانوں میں ہوتا ہے جن کی کوئی زائد المیعاد تاریخ نہیں ہوتی۔ شہد کو اگر کافی عرصے استعمال نہیں کیا جائے تو وہ جم جاتا ہے اور اس کا رنگ بھی تبدیل ہوجاتا ہے لیکن وہ خراب نہیں ہوتا۔ جمے ہوئے شہد کو پگھلانے کے بعد اس کو کچھ دیر سورج کی روشنی میں رکھ دیں یا پھر گرم پانی میں شہد کی بوتل رکھ دیں۔

ببول شہد کی خصوصیات
ببول شہد ایک منفرد خصوصیات کا حامل شہد ہے۔اس شہد میں سکروز کا لیول قدرتی طور پر کم ہوتا ہے، جبکہ گلوکوز کافی بڑی مقدار میں موجود ہوتا ہے۔

ببول شہد کے استعمالات
یہ شہد عام طور پر دوسرے مشروبات مثلاً کافی میں بطور سویٹنر ملانے کے کام آتا ہے۔ جام کی طرح بریڈ پر لگا کر کھانے میں استعمال ہوتا ہے۔ بیکری کی مصنوعات کی تیاری میں استعمال ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ دیگر چیزوں پر لگا کر کھانے میں استعمال ہوتاہے۔

ببول شہد کے فوائد
ببول شہد انسانی مجموعی صحت پر حیرت انگیز اثرات مرتب کرتا ہے جن میں خون میں شوگر کی مقدار میں کمی، بلڈ، کولیسٹرول لیول متوازن، نظام ہاضمہ، آنتوں اور معدے کی بہتر کارکردگی، جگر کی کارکردگی میں اضافہ اور بینائی میں بہتری جیسے حیرت انگیز نتائج سر فہرست ہیں۔

عام طور پر خون کی حدّت، معدے کی تیزابیت یا پھر گرم اشیاء کے زیادہ استعمال کے بعد ایک چمچ ببول شہد کھا لیا جائے تو یہ طبیعت کیلئے بہت مفید ہے۔

زہریلے زخم:
زہریلے زخموں کے علاج کیلئے ببول شہد اکسیر کا درجہ رکھتا ہے۔اس کے کھانے سے زخم جلد بھر جاتے ہیں۔

دانتوں کے امراض:
دانتوں کے جملہ امراض کیلئے ببول شہد کا استعمال اگر معمول بنا لیا جائے تو ان سے جلد ہی چھٹکارا مل جاتا ہے۔

دل کی دھڑکن:
ببول شہد کو پانی میں ملا کر پینے سے خفقان دل اور دل کی دھڑکن کی شکایت دور ہوجاتی ہے۔

ہچکی لگنا:
ببول شہد ایک چمچ کھانے سے ہچکی رک جاتی ہے۔

دست وپیچش:
ببول شہد کا استعمال کرنے سے ہر قسم کے دست و پیچش کو آرام آجاتاہے۔

پیشاب کی نالی کی سوجن:
اس مرض کیلئے بھی ببول شہد انتہائی مفید ہے۔

جریان کا مرض:
ببول شہد کا استعمال دودھ کیساتھ کیا جائے تو انشاء اللہ جلد فائدہ ہوگا۔

کھانسی کا علاج:
معمولی کھانسی اور حلق میں خراش کے لیے ببول شہد کھانے سے تکلیف رفع ہو جاتی ہے۔

ببول شہد کے استعمال کے نتیجے میں چہرے کی پیلاہٹ دور ہو جاتی ہے کیوں کہ اس میں آئرن بھی بڑی مقدار میں پایا جاتا ہے۔ اس کے استعمال سے ڈائیٹنگ کے مضر صحت اثرات سے بچا جا سکتا ہے۔

اس کے علاوہ ببول شہد کا استعمال اعصابی کمزوری، ورم، بڑھاپے میں کمزوری جیسی عام بیماریوں اور جسمانی تکالیف میں فائدہ پہنچانے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔

ببول شہد کا استعمال کیسے کیا جائے؟
ببول شہد کے دو چائے کے چمچ دودھ یا پانی میں ڈال کر پیا جا سکتا ہے، اسے چائے یا قہوہ میں بھی ڈال کر پیا جا سکتا ہے۔
ناشتے کے دوران استعمال کیا جا سکتا ہے۔
اس کا استعمال دن میں دوبار کیا جا سکتا ہے۔
ببول شہد کے ایک سے دو چمچ دن میں مفید ثابت ہوتے ہیں۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اسے استعمال کرنے کے حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

خالص اور معیاری اشیاء خریدنے کیلئے کلک کریں: