Urdu

بنفشہ انسان دوست پھول

بنفشہ ایک چھوٹا، نازک اور سدا بہار پودا ہے۔ جس کے پتے گہرے سبز رنگ اور دل کی شکل کے ہوتے ہیں۔ اس کی شاخیں پتلی نازک اور ٹیڑھی ہوتی ہیں۔جڑ گانٹھ دار اور آڑی ترچھی ہوتی ہے۔ اس کے پھول کو گل بنفشہ کہا جاتا ہے۔اس کے پھول کی ڈنڈی ڈیڑھ دو انچ لمبی جس پر آدھا انچ کا پانچ پنکھڑیوں والاخوشبودار پھول سرخی مائل نیلا (بنفشی)ہوتا ہے۔ لیکن بعض کے پھول سفید بھی ہوتے ہیں۔ ڈنڈی پر روئیں بھی ہوتے ہیں۔

مقامی اور ہندی زبان میں اسے بنفشہ، سنسکرت میں بنپشا۔ بنگالی و مرہٹی میں ونپس،سندھی میں بنفشو اورانگریزی میں وایولٹ ( Violet )کہتے ہیں۔

بنفشہ کا پودا ابتدائی طور پر ایشیاء اور یورپ کے کچھ حصوں سے تعلق رکھتا ہے۔ کشمیر نیپال اور مغربی ہمالیہ میں پانچ ہزار فٹ سے زائد بلندی پربکثرت پیدا ہوتا ہے۔لیکن اب اسے دنیا بھر میں کاشت کیا جاتا ہے۔ اس کو وسیع پیمانے پر فرانس اور نسبتاً کم پیمانے پر اٹلی اور چین میں خوشبوسازی کیلئے اگایا جاتا ہے۔

اس کا پودا عموماَ گرمیوں میں پیدا ہوتا ہے۔ اور موسم برسات میں اس پودے کو پہچاننا مشکل ہوتا ہے۔سردیوں میں پتے کم ہو جاتے ہیں۔ پھل گر جاتے ہیں۔جبکہ ماہ اپریل میں اس کو پھول لگتے ہیں اور اس موسم میں اکٹھے کئے جاتے ہیں۔ پھولوں کو اگر چبایا جائے تو کچھ خوشبودار لعاب نکلتا ہیبنفشہ کی 200سے زائد اقسام ہیں۔ بڑی اقسام جنہیں خوشبو کیلئے کاشت کیا جاتا ہے، ان میں پارما اور وکٹوریہ سر فہرست ہیں۔

Essential Life

بنفشہ کے پھول یا گل بنفشہ کو نزلے کی مشہور دواکے طور پر شہرت حاصل ہے۔ عام طور پر لوگ اس کے فائدے کو جانتے ہیں۔ بنفشے کے پتے بھی نزلے کی دوا کے طور پر گلِ بنفشہ ہی کی طرح جوش دے کر استعمال کیے جاتے ہیں، لیکن پھول اپنی تاثیر میں پتوں سے کہیں زیادہ موثر ہوتے ہیں۔ گل بنفشہ زیادہ تر پہاڑوں پر پیدا ہوتا ہے۔ کشمیر کا گل بنفشہ زیادہ بہتر سمجھا جاتا ہے۔

خاص نوٹ: جہاں بنفشہ ہوتا ہے، اس کے ساتھ ہی اس کے ہم شکل مشک بالا کے پودے بھی ہوتے ہیں۔ اس لئے ان دونوں میں فرق کر لینا چاہیے۔

روایتی طور پر ہربل علاج میں بنفشہ کے پھول اور پتے دونوں ہی اپنے استعمال کی ایک طویل تاریخ رکھتے ہیں۔ صدیوں قبل انسان نے اس کے خواص جان لیے تھے۔ اینٹی بیکٹیریل خصوصیات کی وجہ سے اسے خصوصی حیثیت حاصل رہی ہے۔

بنفشہ میں پائے جانے والے کیمیائی اجزا:
بنفشہ اینٹی سیپٹک، اینٹی بیکٹیریل اور اینٹی فلامیٹری خصوصیات رکھتا ہے۔ اس کا ایک اہم جزو سیلیکی لیک ایسڈ ہے جو اسپرین میں استعمال ہوتا ہے۔

بنفشہ کے فوائد:

نزلہ،زکام، کھانسی بخار:

Essential Life

نزلہ،زکام، کھانسی بخارکے لئے بہت مفید ہے۔بخار کے لئے ایک گرام گل بنفشہ، گرم پانی میں بھگو کر جوشاندہ کے طور پر ایک سے دو اونس کی مقدار میں پلانا بخار کو دور کرتا ہے۔ گل بنفشہ چھ ماشہ،عناب سات دانہ،لسوڑیاں گیارہ دانہ، سب کو پانی میں جوش دیں اور حسب ضرورت مصری ملا کر پئیں۔بند زکام کے لئے ازحد مفید ہے۔

قبض کی شکایت:
قبض کے لئے گل بنفشہ برابر چینی کے ہمراہ سفوف بنا کر رات کو سوتے وقت 9 ماشہ سفوف گرم پانی کے ہمراہ کھائیں۔

جوشاندہ نزلہ اور زکام:
گل بنفشہ ایک تولہ، گاؤزبان چھ ماشہ،عناب دس دانے، لسوڑیا ں بائیس دانے، سونف چھ ماشہ، تمام ادویات کا سفوف تیار کرلیں۔

دیگر فوائد:
معدے اور جگر کے امراض میں مفید ہے جبکہ نیند لاتا ہے، دماغ اور سینہ کی خشکی دور کرکے تری پیدا کرتا ہے۔ تازہ پھولوں کا سونگھنا بلڈ پریشر میں مفید ہے۔

بنفشہ کے مرکبات:
شربت بنفشہ، خمیرہ بنفشہ۔ تیل بنفشہ، نسوار بنفشہ،سفوف بنفشہ اور بنفشہ کی چائے وغیرہ اس کے مرکبات ہیں۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

معیاری اور خالص مصنوعات خریدنے کیلئے کلک کریں: