Urdu

بھنگرہ: بچھو کاٹے کا موثرعلاج

بھنگرہ ایک جڑی بوٹی ہے۔ جو چھ سے بارہ انچ تک بلند ہوتی ہے۔ زیادہ تر پانی کے کنارے پیدا ہوتی ہے۔اس کے پتے پودینہ کے پتوں سے ملتے جلتے ہیں۔ لمبے، پتلے اور کھرکھرے ہوتے ہیں۔ اس کا پھول بالعموم سفید ہوتا ہے۔اس کے بیج کاسنی کے بیجوں سے مشابہ لیکن ان سے سائز میں چھوٹے ہوتے ہیں۔

یونانی اور آیورویدگ طب میں بھنگرہ کی تین اقسام کا ذکر ہے۔سیاہ پھولوں والا بھنگرہ کا پودا بہت ہی کم یاب ہے۔بھنگرہ کی ایک قسم کو کیثراج کہتے ہیں۔ اس کے پھولوں کا رنگ زرد ہوتا ہے اور اس کے پتے نسبتاً بڑے ہوتے ہیں اور یہ بنگال میں ملتا ہے۔جبکہ ایک نیلے رنگ والا بھنگرہ بھی پایا جاتا ہے۔ اسی طرح افریقہ کے بیشتر علاقوں میں بھنگرہ سیاہ بکثرت ملتا ہے۔

بھنگری صدیوں سے امراض کے علاج کیلئے استعمال ہوتا آ رہا ہے۔ آج بھی طب میں اس پودے کو بڑی اہمیت حاصل ہے۔ اور آیورویدگ اور یونانی طب میں سے اس متعدد امراض کی ادویات بنائی جاتی ہیں۔

بھنگرہ زیادہ تر پاکستان، ہندوستان اور بنگلہ دیش اوربر اعظم افریقہ میں پایا جاتا ہے۔ خصوصاً مشرقی و مغربی پنجاب کے ندی نالوں اور باغات کے اندر ہر موسم میں پایا جاتا ہے۔ لیکن برسات کے موسم میں زیادہ پیدا ہوتا ہے۔

بھنگرہ کوسنسکرت میں بھرنگ راج،نیلے رنگ کے پھولوں والا،بھینگرا،سفید پھولوں والا سورن بھنگار،زرد پھولوں والے کو بنگالی میں کیسوتی کہتے ہیں۔جبکہ لاطینی میں Eclipta Erects اور انگریزی میں Trailin Ecliptaکہتے ہیں۔

بھنگرہ کے طبی فوائد:
بھنگرہ کے پتے، جڑیں اور اس کا تنا مختلف امراض میں بطور علاج استعمال کیے جاتے ہیں۔ جبکہ اس کے بیجوں سے تیل نکالا جاتا ہے جو مختلف امراض میں استعمال کیا جاتا ہے۔

برص، جذام کا موثر علاج:
بھنگرہ کے پتوں کو زیادہ تر امراض فساد خون مثلاً برص شری جذام اور جرب وغیرہ میں استعمال کرتے ہیں۔اس کے پتوں کو کوٹ کر اس کا لیپ کرنے سے افاقہ ہوتا ہے۔

دانت درد کا علاج:
بھنگرہ کے مکمل پودے کا رس نکال کر اس سے کلی کرنا دانت کے درد اور مسوڑوں کے دیگر امراض میں شافی علاج ہے۔ اس کے پودے کو دھو کر اسے منہ میں چبایا بھی جا سکتا ہے۔

بچوں کو نزلہ، زکام:
بچوں اور خصوصاً نو زائیدہ بچوں کو زکام کی حالت میں بھنگرہ کے رس کی دو بوندیں آٹھ بوند شہد میں ملا کر دینے سے جلد افاقہ ہوتا ہے۔

قوت باہ:
بھنگرہ کے بیجوں میں ایسی صلاحیت پائی جاتی ہے جو مردانہ کمزوری کو دور کر دیتی ہے۔

بالوں کی صحت اور تندرستی:
بھنگرہ کے تیل لگانے سے بال سیاہ، گھنے، لمبے ور صحت مند ہو جاتے ہیں۔ جبکہ بال گرنا بند ہو کر ملائم چمکدار اور خوبصورت ہو جاتے ہیں۔
تاہم بھنگرہ کا تیل ناریل کے تیل یا تلوں کے تیل میں ملا کر استعمال کرنا چاہیے۔

بچھو کاٹے کا علاج:
بچھو کاٹے یعنی عقرب گزیدگی کے علاج کیلئے کاٹے کی جگہ پر بھنگرہ کے پتوں کا لیپ لگایاجاتا ہے۔جس سے فوری درد کوتسکین ہوتی ہے۔

پیٹ کے کیڑے:
پیٹ کے کیڑوں خصوصاً بچوں کے پیٹ کے کیڑوں کا موثر علاج ہے۔ اس کے پتوں کا رس مقعد پر تین چار بار ملنے سے پیٹ کے کیڑے مر جاتے ہیں۔

جلدی خارش:
بھنگرہ جلدی خارش کا بھی موثر علاج ہے۔بھنگرہ کے پتے دیگر جڑی بوٹیوں میں ملا کر اس کا مرہم بنایا جاتا ہے۔جس کو متاثرہ جگہوں پر لگانے سے بدن درست ہوجاتا ہے اور خارش کا نام و نشان بھی نہیں رہتا۔

زہریلے زخموں کا علاج:
بھنگرہزہریلے زخموں کا بھی موثر علاج ہے۔ خصوصاً بھنگرہ سفید کے رس سے زہریلے زخم کودھونے سے زخم جلدی خشک ہوجاتے ہیں۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

معیاری اور خالص مصنوعات خریدنے کیلئے کلک کریں:

Related Posts