Urdu

بیکنگ سوڈا: گھر کی صفائی سے لے کر خوبصوتی میں اضافے تک

ہر گھر کے کچن میں موجود سفید رنگ کا پاؤڈر، میٹھا سوڈا جسے ’بیکنگ سوڈا‘ کے نام سے بھی جانا اور متعدد فوائد حاصل کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، میٹھے سوڈے کے استعمال کے نتائج یقینی اور حیرت انگیز ہوتے ہیں، میٹھا سوڈا گھر کی صفائی سے لے کر خوبصوتی میں اضافے کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔
کھانے کا سوڈا، میٹھا سوڈا، بیکنگ سوڈا ایک ہی جُز کا نام ہے جس کے فوائد بے شمار ہیں، میٹھے سوڈے کا استعمال پرانے برتنوں اور چولہے پر جمی میل کی صفائی سے لے کر معدے سے جڑی شکایات اور چہرے سے ایکنی کے خاتمے تک مدد گار ثابت ہوتا ہے۔

بیکنگ سوڈا اور بیکنگ پاؤڈر میں فرق:
بیکنگ سوڈا سوڈیم بائی کاربونیٹ کو کہتے ہیں۔ جس کا فارمولا NAHCO3ہے۔ جب آٹے یا میدے میں بیکنگ سوڈا ملایا جاتا ہے تو اس میں سے کاربن ڈائی آکسائیڈ گیس خارج ہوتی ہے جو چھوٹے چھوٹے بلبلوں کی شکل میں ہوتی ہے، اس کی وجہ سے آٹا یا میدہ پھول جاتا ہے، جسے خمیری کہا جاتا ہے۔ جبکہ بیکنگ پاؤڈر بیکنگ سوڈا کی نسبت زیادہ پیورفائی ہوتا ہے، اگر آپ کسی چیز میں بیکنگ سوڈا ایک چمچ شامل کرتے ہیں تو ویسا ہی رزلٹ لینے کیلئے بیکنگ پاؤڈر تین چمچ شامل کرنے ہونگے، افادیت اور خصوصیات کے حوالے سے یہ تقریباً ایک جیسے ہیں۔

میٹھے سوڈے کو مختلف فوائد حاصل کرنے کے لیے مختلف طریقوں سے استعمال کیا جا سکتا ہے جن میں سے چند مفید گھریلو ٹوٹکے اور طریقے مندرجہ ذیل ہیں:

جسم سے مضر صحت مواد کا اخراج:
طبی ماہرین کے مطابق بیکنگ سوڈا لیموں پانی میں ملا کر پینے سے جسم میں موجود مضر صحت مواد کا اخراج ممکن ہوتا ہے اور ورزش کرنے کی صلاحیت بڑھتی ہے، معدے کی تیزابیت میں کمی اور نظام ہاضمہ کی کارکردگی بہتر ہوتی ہے، قبض سے نجات حاصل ہوتی ہے جبکہ آنتوں کی سوزش، گردوں کی صفائی اور سینے کے جلنے کی شکایات میں واضح اور فوری کمی آتی ہے۔

مدافعتی نظام مضبوط، جلد سے جھریوں کا خاتمہ:
طبی ماہرین کی جانب سے تجویز کیا جاتا ہے کہ ایک گلاس پانی میں آدھے لیمو ں کا رس ملائیں اور اس میں ایک چمچ میٹھا سوڈا شامل کر لیں، اس مشروب کو صبح نہار منہ پئیں، ایک ہفتے تک لگاتار پینے کے بعد دو ہفتوں کا وقفہ لیں اور پھر یہ مشروب صبح نہار پینا شروع کر دیں۔ اس عمل کے نتیجے میں جسم کا مدافعتی نظام مضبوط، جلد سے جھریوں کا خاتمہ، جوڑوں کے درد اور سوجن میں کمی واقع ہو گی، ماہرین کے مطابق یہ مشروب کینسر سے بچاؤ کا سبب بھی بنتا ہے اور موٹاپے کا خاتمہ کرتا ہے۔

گھر کی اشیاء کی صفائی کے لیے میٹھے سوڈے اور لیموں کا استعمال:
میٹھا سوڈا لیموں کے ساتھ ملا کر استعمال کیا جائے تو اس کی صفائی کرنے کی صلاحیت 100 گنا بڑھ جاتی ہے، لیموں اور میٹھے سوڈے کا مرکب بنا کر ضدی سے ضدی برتنوں، دیواروں، چولہے، دروازے اور کھڑکیوں کے داغ صاف کیے جا سکتے ہیں۔

دانتوں کی خوبصورتی کے لیے میٹھے سوڈے کا استعمال:
دانت جگمگانے، پیلاہٹ دور کرنے اور کیڑہ لگنے والے بیکٹیریا سے چھٹکارہ حاصل کرنے، سانسوں کو تازہ بنانے کے لیے ٹوتھ برش پر ایک چٹکی بیکنگ سوڈا چھڑکیں اور چند قطرے لیموں کا عرق ٹپکا دیں، اب اس سے دانتوں کو ہلکے ہاتھ سے آہستہ آہستہ گول دائروں میں برش کریں، پہلی بار ہی میں دانت صاف اور چمکدار نظر آئیں گے، اس عمل کو ایک ہفتے میں صرف ایک بار ہی دہرائیں۔

بلیک ہیڈ کے خاتمے کے لیے:
چہرے، ناک، ماتھے اور تھوڈی پر بلیک ہیڈ سے پڑنے والے کالے نشان بے حد بد نما لگتے ہیں، ان سے چھٹکارہ حاصل کرنے کے لیے بیکنگ سوڈے کی تھوڑی سی مقدار اور لیموں کا تازہ عرق لے لیں، اب انہیں ملا کر چہرے کے متاثرہ حصوں پر لگائیں اور سوکھنے تک لگا رہنے دیں، بعد ازاں چہرہ دھو لیں اور موئسچرائزر لگا لیں۔

گھر میں میٹھے سوڈے کی مدد سے پیڈی کیور:
گھر میں ہی اپنی پیڈی کیور کرنے والی خواتین کے لیے یہ ایک موزوں ٹوٹکا ہے، نیم گرم پانی میں کچھ مقدار بیکنگ سوڈا شامل کریں اور سفید رنگ کا شیمپو ڈال لیں، اب اس میں اپنے ہاتھ اور پاؤں کو 15 منٹ کے لیے بگھو دیں، اس سے ہاتھ پاؤں کی رنگت نکھر جائے گی۔

ایکنی کے خاتمے کے لیے:
ایکنی سے چھٹکارہ حاصل کرنے کے لیے ایک چٹکی میٹھے سوڈے میں شہد اور لیموں کا رس ملائیں اور اس سے چہرے پر صرف ایک منٹ مساج کریں اور چہرہ ٹھنڈے پانی سے دھو لیں، یہ عمل ہر تین دن بعد دہرائیں، چہرہ چمکدار، رنگت صاف اور ایکنی، کیل مہاسوں کا صفایا بھی ہو جائے گا۔

ہونٹوں کے اندر زخم کو آرام پہنچائے:
یہ تصور کرنا ہی مشکل ہے کہ منہ کے اندر ایک چھوٹا سا زخم یا چھالا کتنی تکلیف کا باعث بنتا ہے۔ اس تکلیف سے فوری نجات کے لیے ایک کپ گرم پانی میں ایک چائے کا چمچ بیکنگ سوڈا چمچ سے اچھی طرح مکس کرلیں اور پھر ہر دو گھنٹے بعد اس محلول سے کلیاں کریں۔

ہاتھوں سے بدبو دور بھگائے:
مچھلی یا کسی ایسے ہی چیز کو کاٹنے کے بعد اکثر ہاتھوں میں بو بس جاتی ہے جو عام صابن سے ہاتھ دھونے سے جاتی نہیں۔ اگر آپ اس کو دور بھگانا چاہتے ہیں تو ہاتھوں کوگیلا کرکے ان پر بیکنگ سوڈے کو رگڑے اور پھر گرم پانی سے دھو لیں۔ آپ کے ہاتھوں سے بو دور ہوجائے گی اور اس کی جگہ ایک میٹھی مہک آنے لگے گی۔

چہرے کی صفائی:
ایک چمچ بیکنگ سوڈا کو ایک چمچ خام شہد میں ملائیں، اس مکسچر کا چہرے پر نرمی سے مساج کریں اور دو منٹ کے لیے چھوڑ دیں اور پھر گرم پانی سے دھولیں۔

ہاتھ کی جلد کو نرم بنانا:
اکثر ہاتھوں یا پیروں میں کچھ جگہیں ابھر کر سخت ہوجاتی ہیں اور بدنما لگتی ہیں، دو چمچ بیکنگ سوڈا ایک ڈونگے گرم پانی میں ملائیں اور پانچ منٹ کے ہاتھ یا پیر اس میں ڈبو دیں۔ اس کے بعد اس جگہ کو خشک کرکے ساٹھ فیصد بیکنگ سوڈا، بیس فیصد پانی اور بیس فیصد براؤن شوگر سے بنے ایک پیسٹ سے رگڑیں۔ اس کے بعد موئسچرائزر لگا کر پانچ منٹ کے لیے ہاتھ یا پیر کو صاف تولیے میں لپیٹ کر رکھیں۔

پیٹ کی تکلیف سے نجات:
بیکنگ سوڈا کا محتاط استعمال مخصوص غذاؤں کو زیادہ کھانے کے قابل بنا دیتا ہے، ایک چٹکی سوڈا کافی، اورنج جوس یا ٹماٹر کے سوپ میں شامل کرنے سے انہیں پینے یا کھانے کے بعد معدے کی تیزابیت سے بچا جاسکتا ہے، مگر یہ احتیاط کرنی چاہئے کہ سوڈے کی زیادہ مقدار شامل کرکے اس غذا کے ذائقے کو خراب نہ ہونے دیں۔

دھوپ کی جلن سے بچاؤ:
بیکنگ پاؤڈر کا ایک کپ نیم گرم پانی سے بھری بالٹی میں ڈال دیں اور پھر اس سے نہالیں۔ اس سے آپ کو فوری طور پر دھوپ کی تپش سے ہونے والی جلن یا تکلیف کم کرنے میں مدد ملے گی۔

نومولود بچے کے سر کی جلد کی پرت ہٹانا:
ننھے فرشتوں کے سر کی جلد اکثر پرت کی شکل میں جھڑنے لگتی ہے جو کہ نقصان دہ تو نہیں ہوتی اور جلد ہی یہ مسئلہ بھی خودبخود ختم ہوجاتا ہے تاہم کچھ والدین کے لیے یہ نظارہ قابل برداشت نہیں ہوتا تو اس کے لیے اہنی ہتھلی پر دو چائے کے چمچ بیکنگ سوڈا اور ایک چائے کا چمچ پانی ڈال کر مکس کرلیں اور پھر بچے کے متاثرہ حصے پر نرمی سے رگڑے، اس بات کا خیال رکھیں کہ یہ محلول آنکھوں کے پاس نہ جائے، پھر خشک کپڑے سے وہ جگہ صاف کردے اور دو سے تین دن اس عمل کو دہرائے، جس دوران صابن یا بے بی شیمپو کا استعمال نہ کریں، یہ مسئلہ کافی حد تک حل ہوجائے گا۔

بارش کے دوران بچوں کے کھیل کا سامان:
تیز بارش کے دوران اگر بچے بیزار ہو رہے ہو تو دو کپ بینگ سوڈا، ایک کپ میدہ اور ڈیڑھ کپ پانی شامل کرکے اس وقت تک ابالیں جب تک وہ محلول گاڑھا نہ ہوجائے۔ پھر اسے ٹھنڈا کرکے اپنی مرضی سے اس سے مختلف چیزیں جیسے انسانی شکلیں، کپ، برتن کچھ بھی بنائیں۔ یہ سرگرمی بچوں کے اندر ایک نیا جوش دوڑا دے گی۔

بوسیدہ کتابوں کا تحفظ:
اگر تو آپ کی کوئی پرانی کتاب بوسیدہ ہوچکی ہے اور اس کے صفحات جھڑنے لگے ہیں تو اس بیکنگ پاؤڈر کی معمولی مقدار کو اس کے صفحات کے درمیان چھڑکیں اور پھر اس کتاب کو ایک کاغذی تھیلے میں ڈال دیں جبکہ اس کے باہر مزید سوڈا چھڑک دیں۔ کچھ دن تک انتطار کریں اور پھر کتاب کو باہر نکال کر اس میں موجود سوڈے کو نکال دیں اور پھر کتاب کو کچھ دیر کے لیے سورج کی تیز روشنی میں رکھیں۔اس سے بوسیدگی ختم تو نہیں ہوگی تاہم خشک جگہ پر اسے رکھیں گے تو یہ مزید تباہی سے ضرور بچ جائے گی۔

شیمپو میں میٹھے سوڈے کا استعمال:
شیمپو میں میٹھا سوڈا ملا کر استعمال کرنے سے بالوں میں جمی خشکی، سکری اور آلودگی کا صفایا ہو جاتا ہے اور بال سلکی، چمکدار اور قدرتی طور پر سیدھے ہو جاتے ہیں۔

کپڑوں کی صاف دھلائی کے لیے:
کپڑوں کی صاف دھلائی میں میٹھا سوڈا بہترین کردار ادا کرتا ہے، ڈیٹرجنٹ کے پانی میں ایک سے دو بڑے چمچ میٹھا سوڈا ملائیں اور کپڑے مَل کر دھو لیں، کپڑے نکھر جائیں گے اور ان سے اٹھنے والی پسینے کی بو بھی ختم ہو جائے گی۔

مائیکرو ویو کو چمکائیں:
کیا آپ کے مائیکرو ویو کی دیواروں پر سالن سے لے کر کافی دیگر مواد چپک گیا ہے؟ اگر ہاں تو ایک کپ پانی اور کچھ چائے کے چمچ بیکنگ سوڈا کسی گلاس میں مکس کرلیں، پھر اس گلاس کو تین منٹ تک مائیکروویو کریں اور پھر اسفنج کو استعمال کرتے ہوئے تمام گندگی کو کچھ منٹوں میں صاف کرکے اپنی مشین کو چمکا دیں۔

وال پیپرز کو نئی زندگی دینا:
دیواروں پر لگے اپنے پسندید وال پیپر ہر چکنائی کو دیکھ کر پریشان مت ہو، ان داغ دھبوں کو نرمی سے بیکنگ سوڈا اور اسفنج استعمال کرتے ہوئے رگڑیں اور پھر دھو کر کپڑے سے خشک کرلیں، وال پیپر میں ایک نئی جان پڑ جائے گی۔

مچھروں کو کاٹنے سے ہونے والی سوزش کو روکنا:
اگر تو آپ کو کسی جگہ مچھر نے کاٹ لیا ہے تو ایک چائے کا چمچ اپنی ہتھیلی پر ڈالیں اور اس پر پانی کے چند قطرے ٹپکا دیں، اس کے بعد اس محلول یا پیسٹ کو مچھر کے کاٹنے والی جگہ پر لگادیں، اسے خشک ہونے دیں اور پھر جو پرت جمے اسے صاف کردیں۔ ایسے کرنے سے وہاں پڑنے والا سرخ نشان چھوٹا ہوجائے گا اور خارش بھی روک جائے گی۔ یہی طریقہ کار شہد کی مکھی کے ڈنک میں بھی مددگار ثابت ہوتا ہے۔

پیروں کی بدبو سے نجات:
اگر پیروں سے بو اٹھ رہی ہے یا تھکاوٹ کے باعث انگلیاں درد کررہی ہیں تو اپنے پیروں کو ٹھنڈے پانی سے بھرے کسی برتن میں ڈال دیں اور اس پر کچھ مقدار میں بیکنگ سوڈا چھڑک کر پندرہ سے بیس منٹ تک ڈوبا رہنے دیں۔ پھر پیروں کو دھو کر خشک کرلیں، اس سے پیروں کی بو بھی دور ہوجائے گی اور پیروں میں تکلیف ہے تو اس کی شدت میں بھی کمی آجائے گی۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

 معیاری اور خالص تیل و دیگر مصنوعات خریدنے کیلئے کلک کریں: