Urdu

جو کا پانی: صدیوں سے انسانی صحت کا محافظ

جو کی تاریخ پہ نظر ڈالیں تو پتہ چلتا ہے کہ برصغیر میں اس کی تاریخ دس ہزار سال قبل مسیح پرانی ہے۔اس کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ انسان نے جو پہلی فصل کاشت کی تھی وہ بھی جو کی فصل تھی۔

آج بھی یہ دنیا کی پانچویں بڑی فصل ہے۔جسے ساری دنیا میں کاشت کیا جاتا ہے۔ اتنے بڑے پیمانے پر اس کی کاشت کی وجہ اس اناج کے لاتعداد فوائد ہیں۔

جو کا استعمال بطور خوراک کئی طریقوں سے کیا جاتا ہے۔ جیسے جو کا پانی، ستو، جو کی روٹی، جو کا دلیہ وغیرہ۔

ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی جو کی روٹی اور جو کے دلیے کو بہت پسند کرتے تھے۔ اسیک جگہ پر فرمایا کہ جو معدے کو ایسے صاف کرتا ہے جیسا کہ صابن میل کوصاف کرتا ہے۔ ایک اور جگہ پر ارشاد ہے کہ جس گھر میں کوئی بیمار پڑ جائے یا فوت ہو جائے تو تلبینہ کھلایا جائے، کیونکہ اس گھر سے غم اور ڈپریشن کو کم کرتا ہے۔آج کی سائنس نے بھی کہا ہے کہ جو کا دلیہ کھانے سے دل کو تقویت ملتی ہے۔

جو میں پائے جانے والی کیمیائی اجزا:
جو میں پائے جانے والے نیوٹریشنز بہت افادیت کے حامل ہیں۔اس میں کیلشیم،آئرن، میگنیز، یعنی زنک کاپر کے علاوہ سلیوبل اور غیر سلیوبل فائبر کافی مقدار میں پایا جاتا ہے، اس میں وٹامنز کے علاوہ اینٹی اکسیڈنٹس بھی شامل ہیں جو دل شوگر اور ہائی بلڈ پریشر جیسی بیماریوں میں مفید ہیں۔

جو کے طبی فوائد:

جلد کے لیے انتہائی مفید:
جو کے پانی میں شامل زنک ہماری جلد کے زخموں کو جلد بھرنے میں انتہائی کارآمد منرل ہے اور اس میں شامل سلینیم ہماری جلد کی لچک بہتر بناتا ہے اور جلد کو صحت مند اور جوان رکھتا ہے اور چونکہ جو کے پانی میں اینٹی اینفلامیٹری خوبیاں ہوتی ہیں لہذا اگر اس کے پانی کو چہرے پر لگایا جائے تو یہ جہاں چہرے کے داغ دھبے اور کیل مہا سے ختم کرنے میں مدد کرتا ہے وہاں رنگت کو صاف بناتا ہے اور گورا کرتا ہے۔

بالوں کو صحت مند اور لمبا بنائے:
جو کے پانی میں شامل آئرن اور کاپر جہاں انیمیا کو ٹھیک کرتے ہیں وہاں یہ خون کے سرخ ذرات میں اضافہ کرتے ہیں جس سے بالوں کا گرنا بند ہو جاتا ہے، یہ ہمارے جسم میں ایک کیمیا میلانین پیدا کرتا ہے جو بالوں کی اُڑی ہوئی رنگت کو ٹھیک کر کے بالوں کا قدرتی رنگ واپس لیکر آتا ہے۔

وزن کم کرے:
بڑھے ہوئے وزن کو کم کرنے لیے جو کا پانی اکسیر کا درجہ رکھتا ہے کیونکہ اس میں دو قسم کی فائبر موجود ہوتی ہے اور یہ فائبر ہمارے معدے کو بھرا رکھتی ہے جس سے ہم بار بار بھوک لگنے کی شکایت سے بچے رہتے ہیں، یہ ہمارے جسم کی چربی کو پگھلاتی ہے اور خوراک کو جلد ہضم کرتی ہے۔

قوت مدافعت پیدا کرے:
اگر ہم جوکے پانی کو اپنی روزانہ کی خوراک کا حصہ بنائیں تو جو کے پانی میں شامل قدرتی اینٹی آکسیڈینٹس اور نیوٹریشنز ہمارے جسم کی قوت مدافعت کو مضبوط کرتے ہیں اور اسے بیماریوں سے لڑنے کی قوت عطا کرتے ہیں اور جراثیموں کو انفیکشن پیدا نہیں کرنے دیتے۔

ڈپریشن ختم کرے:
جسم میں غم اور اُداسی پیدا کرنے والے ہارمونز کی مقدار بڑھنے کی صورت میں ہم ذہنی تناؤ اور پریشانی جیسی بیماریوں میں مبتلا ہوتے ہیں جو کا پانی ان بڑھے ہُوئے ہارمونز کو کنٹرول کرتا ہے اور ہماری طبیعت کو خوشگوار بناتا ہے۔

ہڈیوں اور دانتوں کو مضبوط بنائے:
جو کے پانی میں شامل وٹامنز اور منرلز خاص طور پر مگینشیم، فاسفورس، کیلشیم اور کاپر وغیرہ ہماری ہڈیوں اور دانتوں کو مضبوط بناتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جو کے جوس میں دودھ سے 11 گنا زیادہ کیلشیم ہوتی ہے جو ہماری ہڈیوں کے لیے انتہائی مُفید ہے۔

حاملہ خواتین کے انتہائی مفید:
جو کے پانی کے طاقتور اجزا حاملہ خواتین کی صحت پر انتہائی اچھے اثرات پیدا کرتے ہیں، یہ جہاں خوراک کو جلد ہضم کر دیتا ہے وہاں حاملہ خواتین میں نہار منہ طبیعت کی خرابی پیدا نہیں ہونے دیتا اور اُن کا موڈ خوشگوار رکھتا ہے جو کہ ماں اور پیدا ہونے والے بچے دونوں کے لیے ہی انتہائی ضروری ہے۔

جسم سے فالتو مادوں کا اخراج:
جو کے پانی کا روزانہ استعمال ہمارے جسم سے فاضل مادوں کو خارج کرنے میں مدد کرتا ہے اور یہ ہماری آنتوں کی صفائی کرتا ہے۔ جو کے پانی میں ایک خاص قسم کی شوگر (بیٹا گلوکین) شامل ہوتی ہے جو ہمارے جسم کے اندرونی نظام کے فاضل مادوں کی صفائی کر دیتی ہے۔

نظام ہضم کو درست کرے:
جو کے پانی میں شامل سلیوبل اور نان سلیوبل فائبر خوراک کو ہضم کرنے اور فُضلے کی مقدار بڑھا کر اُسے خارج کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے اور ڈائریا اور قبض کے مریضوں کے لیے انتہائی مُفید ثابت ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ الیکٹرولیٹس کا بیلنس ٹھیک کر کے نظام میں موجود انفیکشن کو ختم کرتا ہے۔

کولیسٹرول اور بلڈ شوگر کنٹرول کرے:
جو کے پانی میں شامل فائبر اور بیٹا گلوکین بڑھے ہوئے کولیسٹرول کو کم کرنے کے علاوہ خوراک سے شوگر کو خون میں تیزی سے شامل ہونے سے روکتی ہے اور ٹائپ 2 کے ذیابطیس کے مریضوں کے لیے انتہائی فائدہ مند ہے، جو کے پانی میں ایسے کیمیا شامل ہیں جو ہمارے جسم کے درجہ حرارت کونارمل کرتے ہیں اور ہمارے دل کو مضبوط اور توانا کرتے ہیں۔

جو کا پانی بنانے کا طریقہ:
جو کی مقدار سے پانچ گنا زیادہ مقدار پانی لے کر اُس پانی میں جو بگھو دیں اور پھر اسے پکائیں حتی کہ پانی کی مقدار تین گنا رہ جائے اور پھر استعمال کریں۔اس کے علاوہ جو کی مقدار سے 15 گنا زیادہ پانی ڈالیں اور پھر اس کو پکائیں حتی کے پانی کی مقدار 66.7 فیصد رہ جائے پھر استعمال کریں۔

برصغیرمیں استعمال ہونے والا صدیوں پرانا طریقہ:
جو ¼ کپ لیکر اس میں چار کپ پانی ڈالیں اور اسے جوش آنے تک پکائیں پھر اس میں ایک چٹکی نمک شامل کریں اور دھیمی آنچ پر آدھا گھنٹا پکنے دیں اور تھوڑی تھوڑی دیر کے بعد چمچ سے پانی کو ہلائیں اور جو کو دبائیں تاکہ اُس کے تمام اجزا پانی میں شامل ہوجائیں۔
پھر اسے آنچ سے اُتار کر چھان کراس میں تھوڑا سا شہد اور لیموں شامل کریں اور ٹھنڈا کر کے پی لیں۔جو کے پانی میں حسب پسند دار چینی، ادرک اور زیرہ وغیرہ بھی شامل کرکے اس کی افادیت اور ذائقے میں اضافہ کر سکتے ہیں جو کے پانی کے فائدے حاصل کرنے کے لیے اسے روزانہ استعمال کریں۔

تلبینہ بنانے کا طریقہ:
تلبینہ جو کے دلیے کو کہتے ہیں۔جو کو اس سے دو گنا زیادہ پانی میں ڈال کر چولہے پہ رکھیں۔اور اس سے پہلے تین گھنٹے بھگو لیں گے تو جلدی پک جائیں گے وگرنہ کافی وقت لگتا ہے۔
جب پانی تھوڑا رہ جائے تو دودھ ڈال دیں اور پکائیں۔کھجور کی گھٹیلیاں نکال کر بھگو دیں اور ان کو گرینڈ کر کے چینی کی جگہ آخر میں ڈال دیں۔ شہد بھی ڈالا جا سکتا۔ آخر میں میوہ جات ڈال دیں۔ اور نوش فرمائیں۔
اور جو کے طبی فوائد کا حصول یقینی بنائیں۔

وٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

معیاری اور خالص مصنوعات خریدنے کیلئے کلک کریں:

 

 

Related Posts