Urdu

خس : صدیوں سے انسان دوست گھاس

خس جسے انگریزی میں Vetiver کہا جاتا ہے، ایک خوشبودار، سدا بہار لمبی،گچھے دار، سخت جان گھاس ہے۔اس کا تنا سیدھا اور پتے لمبے اور باریک ہوتے ہیں۔ جنوبی ہندوستان میں اسے خوس کہا جاتا ہے۔اس گھاس کی اونچائی 5 فٹ کے قریب ہوتی ہے، بعض حالات میں یہ 9فٹ تک لمبی بھی ہوجاتی ہے، جبکہ اس کی سفید جڑیں اس کی اونچائی سے زیادہ لمبی باریک تاروں پر مشتمل پیچیدہ گچھے بناتی زیر زمین پھیلتی رہتی ہیں۔یہی وجہ ہے کہ لمبی جڑیں ہونے کی وجہ سے یہ خشک سالی میں بھی پروان چڑھتی رہتی ہے۔
جھنڈ کی شکل میں اگنے والی خس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس کا اصل وطن جنوبی ہندوستان کا علاقہ خصوصاً قنوج اور آسام ہے، لیکن اب یہ ہیٹی، انڈونیشیا،سری لنکا،فلپائن، کومورو جزائر، جاپان، مغربی افریقہ اور رجنوبی امریکہ میں پائی جاتی ہے۔ خس کی جڑوں سے تیل نکالا جاتا ہے۔ یہ زیادہ تر ہندوستان، جاوا، ہیٹی اور کچھ مقدار یورپ اور امریکہ میں کشید کیا جاتا ہے۔

خس میں پائے جانے والے کیمیائی اجزا:
اینٹی بیکٹیریل، اینٹی سیپٹیک اوراینٹی فنگل خصوصیات کے حامل خس کے تیل میں کیلوریز، پروٹین کے علاوہ 100 سے زائد کیمیائی اجزا پائے جاتے ہیں، جن میں ویٹی ویرول، بینزوک ایسڈ،فر فرول، ویٹیوین، ویٹیوینائل، مورولین، کیلکورن، سیلینین اور دیگر شامل ہیں۔

خس کے طبی فوائد:

خس جنوبی ایشیاء (ہندوستان، پاکستان، سری لنکا)، جنوب مشرقی ایشیاء (ملائیشیا، انڈونیشیا، تھائی لینڈ)، اور مغربی افریقہ میں روایتی دوائیوں میں عرصہ قدیم سے استعمال ہو رہا ہے۔ اب یورپ اورامریکہ میں بھی اسے متعدد اداویات میں استعمال کیا جاتا ہے۔ جبکہ اروما تھراپی میں بھی اس کا استعمال ہوتا ہے۔

Essential Life

جلد کی دیکھ بھال:
خس کے تیل کواینٹی بیکٹیریل، اینٹی سیپٹیک اوراینٹی فنگل خصوصیات کی بنا پر جلد کی صحت کا ضامن قرار دیا جا سکتا ہے۔ یہ جلد کی قدرتی نمی کو برقرار رکھتا ہے اور عمر رسیدگی کے نشانات اور جلد میں کچھاؤ کو ختم کر کے اسے قدرتی حالت میں لاتا ہے۔

کیل مہاسوں کا علاج:
اینٹی سیپٹک خصوصیات کے حامل خس کا تیل جلدی کیل مہاسوں کو نہ صرف ختم کرتا ہے بلکہ ان کے نشان بھی ختم کر دیتا ہے۔یہ جلد پر پڑے داغ دھبے بھی دور کرتا ہے۔

اعصابی کمزوری:
خس کا تیل اعصابی کمزوری کا بہترین علاج ہے۔ اس کی خوشبو اور اس کی مالش نہ صرف ذہن کو پرسکون کرتی ہے بلکہ اعصابی کھنچاؤ کو ختم کر کے جسم کو آرام اور راحت پہنچاتی ہے۔خس کا تیل بے خوابی کا بھی موثر علاج ہے۔

جوڑوں کی سوزش اور درد:
ماہرین کے مطابق کچھ جڑی بوٹیوں کے تیل میں انالجیسک (درد کو کم کرنے) یعنی سوزش کو دور رکھنے کی خصوصیات شامل ہوتی ہیں جس کے باعث درد سے تحفظ فراہم ہوتا ہے۔ جیسے گھٹنے کا درد اکثر براہ راست چوٹ لگنے سے ہوتا ہے یا پھر پروٹین اور کیلشم کی کمی کے باعث اس کی شکایت سامنے آتی ہے۔ ایسے میں قدرتی اشیاء کے تیل نہایت مفید ہوتے ہیں اور قدرتی طور پر تیل میں دونوں قسم کی یعنی ٹھنڈی اور گرم تاثیر پائی جاتی ہے جو کہ گھٹنے کی درد کی شکایت سے لے کر جلد کی جلن اورسوجن کو دور کرنے میں مدد فراہم کرتی ہے۔
یہ خصوصیات خس کے تیل میں بھی پائی جاتی ہیں۔خس کا تیل جسم میں تیزی سے جلد میں جذب ہوجاتا ہے اس کا طاقتور کمپاؤنڈ خون کی گردش کو تیزی فراہم کرتا ہے جس کے تحت ہڈیوں میں کھچاؤ، درد اور سوزش کی شکایت ختم ہوجاتی ہے۔

Essential Life

فنگس کا قدرتی علاج:
دنیا بھر میں پیروں کی انگلیوں میں فنگس بہت عام مرض ہے۔اور اسکا علاج صدیوں سے حکماء، طب کے ماہرین مختلف ادوار میں مختلف انداز میں کرتے چلے آ رہے ہیں۔ اگر تاریخ طب کا مطالعہ کیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ اینٹی فنگل خصوصیات کا حامل خس کا تیل جلدی فنگس کے علاج میں بھی بہت مددگار ثابت ہوا ہے۔

اروما تھراپی میں استعمال:
خس کا تیل اروما تھراپی میں بھی استعمال کیا جاتا ہے۔اس کی خوشبو آپ کے دماغ کو ٹھنڈا رکھتی ہے، فرحت اور سکون بخشتی ہے۔ اعصابی دباؤ اور تناؤ کے خاتمے کیلئے خس کی خوشبو باکمال خصوصیت کی حامل ہے۔ یہ بے خوابی کا بھی علاج کرتی ہے۔

خس کا غسل:
ذہنی طور پر پریشان اور ڈیپریشن میں مبتلا ہونے کی صورت میں اگر خس کا تیل کو غسل کے پانی میں شامل کر کے اس سے نہایا جائے تو طبیعت ہشاش بشاش ہوجاتی ہے اور ڈیپریشن ختم ہو جاتا ہے۔

خس کے دیگر استعمال:

خس کا عطر:
خس عطر کا شمار قدیم ترین عطریات میں ہوتا ہے،یہ ایک خاص قسم کے پودے سے کشید کیا جاتا ہے جوکہ زیادہ تر قنوج اور آسام (انڈیا) میں پایا جاتا ہے، وہیں پہ اس کی کشید اور مینوفیکچرنگ ہوتی ہے۔جس کے بعد قیمت فی کلو ایک لاکھ سے اٹھارہ بیس لاکھ تک ہوتی ہے۔ آج کل فرنچ پرفیومز میں عود کی طرح خس کا استعمال بھی عام ہے اور پسند کیا جاتا ہے۔
اس کی تاثیر انتہائی ٹھنڈی ہے، اس لیے گرمیوں کا یہ خاص تحفہ ہے۔یہ آپ کے دماغ کو ٹھنڈا رکھتی ہے، فرحت اور سکون بخشتی ہے۔اس کی خوشبو لگانے کے بعد آہستہ آہستہ پھیلتی ہے۔

Essential Life

زمین کو کٹاؤ سے بچائے:
خس کے پودے جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا ہے کہ اس کی جڑیں زمین میں انتہائی گہری ہوتی ہیں، اگر پودا 8فٹ کا ہے تو اس کی جڑیں 12 سے 14فٹ تک گہرائی میں جاتی ہیں، جن کی وجہ سے مون سون کی بارشوں میں یا دریائی پانی کے کے کٹاؤ سے زمین محفوظ رہتی ہے۔ بھارت اور سری لنکا میں خس کی گھاس کو خصوصاً اس مقصد کیلئے بھی لگایا جاتا ہے۔

جانوروں کی خوراک:
خس جہاں انسانوں کے کام آتا ہے وہاں پالتو جانوروں کی خوراک کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ خس کی گھاس گائے، بھینسیں، بھیڑ اور بکریاں بڑے شوق سے کھاتی ہیں۔ خس کھانے والے جانور دیگر جانوروں کی نسبت زیادہ صحت مند اور بہتر دودھ دیتے ہیں۔

کاسمیٹکس میں استعمال:
خس کا استعمال کاسمیٹکس مصنوعات اور صابنوں میں عام ہوتا ہے۔ اس کی خوشبو ان مصنوعات کو مزید قابل استعمال بنا دیتی ہیں جبکہ اس کے فوائد بھی ہوتے ہیں۔

مشروبات میں استعمال:
خس کا متعدد مشروبات میں بھی استعمال کیا جاتا ہے۔

قابل استعمال پانی:
مغربی افریقی علاقوں مثلا مالی اور سینیگال میں خس کی جڑیں پانی کے ذخیروں میں ڈالی جاتی ہیں، جس کی بدولت پانی سے بیکٹیریا ختم ہو کر پانی صاف اور قابل استعمال ہو جاتا ہے۔جب پانی میں خوشبو بھی شامل ہو جاتی ہے۔

Essential Life

پانی کو ٹھنڈا کرے:
بھارت کے دیہی علاقوں میں لوگ پانی کو ٹھندا کرنے کیلئے خس کی جڑوں کو گھڑوں میں ڈالتے ہیں۔ خس چونکہ انتہائی ٹھنڈی ہوتی ہے چنانچہ گھڑے کا پانی ٹھنڈا اور صاف ستھرا ہوجاتا ہے۔

ہوا کو ٹھنڈا کرنا:
برصغیر، افریقہ، فلپائن، انڈونیشیا اور دیگر ممالک میں اکثر پانی کے کولر میں خس کی صفیں استعمال کی جاتی ہیں۔ جن سے نہ صرف پانی ٹھنڈا ہوجاتا ہے بلکہ خوشبودار ہوجانے کی وجہ سے ہوا ٹھنڈی ہوجاتی ہے۔

فصلوں کی حفاظت:
بھارت اور دیگر ممالک میں کسان کھیتوں کے قریب خس کی گھاس لگاتے ہیں، یہ اپنی خوشبو کی وجہ سے متعدد اقسام کے کیڑوں مکوڑوں کو اپنی طرف راغب کرتی ہے۔ یہ کیڑے فصلوں میں رہنے کی بجائے خس میں رہنے کو ترجیح دیتے ہیں۔

دیمک کا خاتمہ:
خس کا تیل دیمک کے خاتمے میں انتہائی مجرب نسخہ ہے۔اس میں اینٹی ٹائمٹیم کیمیکل دیمک اور اس کے انڈوں کو ختم کر دیتا ہے۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے ضرور مشورہ لیں۔

معیاری اور خالص مصنوعات خریدنے کیلئے کلک کریں:

Related Posts