Urdu

دماغ اور قیلولے کا آپس میں کیا تعلق ہے؟

کیا کبھی آپ نے سوچنے کی کوشش کی ہے کہ آپ کا دماغ کس طرح کام کرتا ہے؟ درحقیقت اپنے دماغ کو سوچ سے خالی کرنا ممکن ہی نہیں مگر اپنے دماغ کے بارے میں جاننا ضرور ممکن ہے۔
درحقیقت ہمارا دماغ اتنا طاقتور ہے کہ وہ کسی بھی چیز کی مکمل شناخت اس کا معمولی سا خیال آتے ہی کر سکتا ہے۔ یہ دعویٰ برطانیہ میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آیا۔لندن کالج یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ انسانی دماغ کسی جانی پہچانی چیز کو ایک سیکنڈ کے 10 ویں حصے کے اندرمکمل طور پر شناخت کرسکتا ہے۔

محققین نے ای ای جی امیجنگ کی مدد سے دماغ کی برقی سرگرمی کو ریکارڈ کیا اور ایک اور تیکنیک pupillometry سے اس کا تجزیہ کیا۔ انہوں نے دریافت کیا کہ انسانی دماغ پسندیدہ چیز کو 100 ملی سیکنڈ میں پہچان لیتا ہے اور اوسطاً یہ وقت سو سے 300 ملی سیکنڈ کے درمیان ہوتا ہے۔

اس سے قبل 2016 میں امریکا کی سالک انسٹیٹوٹ کی تحقیق میں انسانی دماغ اتنی معلومات ذخیرہ کرسکتا ہے جتنی اس وقت پورے انٹرنیٹ پر موجود ہوسکتی ہے۔تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ کمپیوٹرز کے برعکس جو معلومات کو کوڈز 0s اور 1s میں اسٹور کرتے ہیں، دماغی خلیات 26 مختلف طریقے سے ان اطلاعات کو کوڈ کرتے ہیں۔محققین کا تخمینہ ہے کہ دماغ پیٹابائیٹ (ایک پدم بائٹس) معلومات کو ذخیرہ کرسکتا ہے۔محققین کا کہنا ہے کہ یہ دماغی سائنس کے شعبے کے حوالے سے بہت بڑی دریافت ہے اور ہمارے اندازے کے مطابق دماغ کی یاداشت کی گنجائش میں دس گنا اضافہ ہوتا ہے۔

تاہم عمر بڑھنے کے ساتھ دماغ کمزور ہونا شروع ہوجاتا ہے لیکن ذہن کو ہمیشہ تیز رکھنے کیلئے اگر ایک بات کو عادت بنا لی جائے تو یاداشت کا عمل بڑھاپے میں بھی اسی طرح کام کرتا ہے جیسا جوانی میں۔ اور وہ عادت ہے دوپہر کو کچھ دیر کی نیند یا قیلولہ کرنا۔خیال رہے کہ قیلولہ یا دوپہر کو کچھ دیر سونا سنت نبوی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بھی ہے۔
تاہم اب یہ بات ایک نئی طبی تحقیق میں ثابت کی گئی ہے۔طبی جریدے جرنل جنرل سائیکاٹری میں شائع اس تحقیق میں 60 سال سے زائد عمر کے 22 سو سے زیادہ صحت مند افراد کی نیند کی عادات کا جائزہ لیا گیا تھا۔تحقیق میں شامل 1534 افراد دوپہر کو 5 منٹ سے 2 گھنٹے تک قیلولہ کرنے کے عادی تھے جبکہ 680 افراد میں یہ عادت نہیں تھی۔دونوں گروپس میں رات کی نیند کا دورانیہ اوسطاً ساڑھے 6 گھنٹے تھا۔

Essential Life

محققین نے ان افراد کا دماغی تنزلی (ڈیمینشیا) کا ایک ٹیسٹ لیا۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ قیلولہ کرنے والے افراد کو اپنے گردونواح کا زیادہ بہتر شعور ہوتا ہے، ان کی یاداشت بہت اچھی تھی۔تحقیق میں بتایا گیا کہ دوپہر کی نیند سستی و غنودگی کم کرتی ہے جبکہ یاداشت کو منظم کرنے، کچھ سیکھنے، دماغی افعال میں بہتری اور جذباتی استحکام جیسے فوائد فراہم کرتی ہے۔دماغی کارکردگی کے ٹیسٹوں میں دوپہر کو نیند کے مزے لینے والے افراد نے زیادہ بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔

یہ ایک مشاہداتی تحقیق تھی تو اس میں وجہ کا تعین نہیں کیا گیا، مگر محققین کا کہنا تھا کہ نتائج کی کچھ ممکنہ وضاحتیں کی جاسکتی ہیں۔ ایک خیال تو یہ ہے کہ نیند جسم کے مدافعتی ردعمل کو ریگولیٹ کرتی ہے اور دوپہر کی نیند ورم کا ارتقائی ردعمل ہے، یعنی جن افراد کو زیادہ ورم کا سامنا ہوتا ہے، وہ قیلولہ کے زیادہ عادی ہوتے ہیں۔تاہم محققین کا کہنا تھا کہ تحقیق میں یہ حتمی نتیجہ سامنے نہیں آیا کہ قیلولہ معمر افراد میں ڈیمیشیا کی روک تھام اور دماغی تنزلی کی روک تھام کرسکتا ہے یا نہیں۔

کچھ عرصے قبل جرمنی کی سارلینڈ یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ دوپہر کو کچھ دیر کے لیے سونا یاداشت کو پانچ گنا بہتر بنانے میں مدد دیتا ہے۔تحقیق میں بتایا گیا کہ دوپہر کو 45 منٹ تک کی نیند یا قیلولہ معلومات کا ذخیرہ ذہن میں برقرار رکھنے اور اسے دوبارہ یاد کرنے میں مدد دیتا ہے۔تحقیق میں بتایا گیا کہ نیند کے دوران دماغی سرگرمیاں نئی معلومات کو محفوظ رکھنے کے لیے اہمیت رکھتی ہیں اور صرف 45 منٹ کا قیلولہ یاداشت کو پانچ گنا تک بہتر بناتا ہے۔اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے جرنل نیوروبائیولوجی آف لرننگ اینڈ میموری میں شائع ہوئے۔

اس سے قبل امریکن ہیلتھ ان ایجنگ فاؤنڈیشن کی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ یہ عادت دماغ کی عمر بڑھنے سے بچاتی ہے۔تحقیق میں بتایا گیا کہ دوپہر میں ایک گھنٹے تک سونا دماغ کے لیے فائدہ مند ہے تاہم یہ دورانیہ اس سے زیادہ یا کم نہیں ہونا چاہئے ورنہ فائدہ نہیں ہوتا۔

تحقیق کے مطابق جو لوگ دوپہر میں ایک گھنٹے سونے کے عادی ہوتے ہیں وہ یاداشت، ریاضی کے مختلف سوالات اور دیگر چیزوں کو زیادہ بہتر طریقے سے کرپاتے ہیں۔محققین نے بتایا کہ عمر بڑھنے کے ساتھ دماغی کارکردگی میں کمی آنے لگتی ہے مگر دوپہر کو سونے کی عادت ان افعال کو بہتر رکھنے میں مددگار ثابت ہوتی ہے، جبکہ الزائمر یا دیگر امراض کا خطرہ بھی کم ہوتا ہے۔

Essential Life

مختلف طبی تحقیقی رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ قیلولے کا مثالی وقت 10 سے 45 منٹ تک ہوتا ہے، بہت زیادہ دیر تک سونا نقصان دہ بھی ثابت ہوسکتا ہے۔اس کے فوائد درج ذیل ہیں۔

ذہن تیز کرے:
دوپہر کو کچھ دیر کے لیے سونا یا قیلولہ کرنا آپ کی ذہنی صلاحیتوں کو ایک بار پھر بہتر بنانے میں مدد دیتا ہے۔ برطانیہ کی لیڈز یونیورسٹی کی ایک تحقیق کے مطابق دوپہر کا وقت ایسا ہوتا ہے جب لوگوں کے لیے اپنے دفتری کام پر توجہ مرکوز کرنا مشکل ہوتا ہے جبکہ تخلیقی سوچ بھی زوال کا شکار ہورہی ہوتی ہے۔ تو اس کا علاج دوپہر کو کچھ دیر کی نیند میں چھپا ہے۔ تحقیق میں بتایا گیا کہ 20 منٹ کا قیلولہ لوگوں کی مسائل حل کرنے کی صلاحیتوں کو بڑھاتا ہے۔

یادداشت بہتر کرے:
دوپہر کو کچھ دیر کے لیے سونا یادداشت کو پانچ گنا بہتر بنانے میں مدد دیتا ہے۔ جرمنی کی سارلینڈ یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ دوپہر کو 45 منٹ تک کی نیند یا قیلولہ معلومات کا ذخیرہ ذہن میں برقرار رکھنے اور اسے دوبارہ یاد کرنے میں مدد دیتا ہے۔ تحقیق میں بتایا گیا کہ نیند کے دوران دماغی سرگرمیاں نئی معلومات کو محفوظ رکھنے کے لیے اہمیت رکھتی ہیں اور صرف 45 منٹ کا قیلولہ یاداشت کو پانچ گنا تک بہتر بناتا ہے۔

دماغ جوان رکھے:
امریکن ہیلتھ ان ایجنگ فاؤنڈیشن کی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ یہ عادت دماغ کی عمر بڑھنے سے بچاتی ہے۔ تحقیق میں بتایا گیا کہ دوپہر میں ایک گھنٹے تک سونا دماغ کے لیے فائدہ مند ہے تاہم یہ دورانیہ اس سے زیادہ یا کم نہیں ہونا چاہئے ورنہ فائدہ نہیں ہوتا۔ تحقیق کے مطابق جو لوگ دوپہر میں ایک گھنٹے سونے کے عادی ہوتے ہیں وہ یاداشت، ریاضی کے مختلف سوالات اور دیگر چیزوں کو زیادہ بہتر طریقے سے کرپاتے ہیں۔

Essential Life

دل کی صحت کے لیے فائدہ مند:
دوپہر کو کچھ دیر کی نیند امراض قلب سے موت کے خطرے کو کم کرتی ہے۔ امریکی ہاورڈ یونیورسٹی کی اس تحقیق میں 23 ہزار سے زائد افراد کا جائزہ چھ سال تک لیا گیا۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ جو لوگ دوپہر میں آدھے گھنٹے کی نیند لیتے ہیں، ان میں امراض قلب یا ہارٹ اٹیک سے موت کا خطرہ 37 فیصد تک کم ہوجاتا ہے۔ تحقیق میں بتایا گیا کہ قیلولے کے بلڈ پریشر پر مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں اور فشار خون وہ مرض ہے جو امراض قلب اور ہارٹ اٹیک کا خطرہ نمایاں حد تک بڑا دیتا ہے۔

ذہنی تناو سے بچائے:
جرنل آف کلینیکل اینڈرینولوجی اینڈ میٹابولزم میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق جو لوگ دوپہر کو سونے کے عادی نہیں ان میں تناؤ کا باعث بننے والے ہارمون کی سطح زیادہ ہوتی ہے اور انہیں نفسیاتی مسائل کا تجربہ بھی زیادہ ہوتا ہے۔ نیند پوری نہ ہونے سے طاری ہونے والی غنودگی بلڈپریشر کے ساتھ ساتھ ذہنی تناؤ کا باعث بننے والے ہارمون کی سطح بھی بڑھاتا ہے، جس سے تناؤ طاری ہونے لگتا ہے۔

موٹاپے سے بچائے:
کیا آپ کو معلوم ہے کہ دوپہر کو جنک فوڈ سے منہ موڑنا کس وقت بہت مشکل ہوتا ہے؟ درحقیقت اس وقت جسمانی گھڑی کا میکنزم سست روی کا شکار ہوتا ہے جس کی وجہ سے لوگ تھکاوٹ محسوس کرتے ہیں اور خود کو متحرک کرنے کے لیے کسی چیز کا سہارا لیتے ہیں، تاہم اگر آپ کچھ منٹ کی نیند لے لیں تو صحت کے لیے نقصان دہ غذاؤں کی خواہش دبانے میں مدد ملتی ہے، اس کا نتیجہ جسماین وزن کو کنٹرول میں رکھنے کی صورت میں نکلتا ہے۔

Essential Life

مزاج خوشگوار بنائے:
ایک پرانی تحقیق میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ وہ طالبعلم جو دوپہر کو کچھ وقت کے لیے سوتے ہیں ان کے اندر جسمانی توانائی بڑھتی ہے اور مزاج بھی خوشگوار ہوتا ہے، جبکہ دماغی الجھن کا امکان بھی کم ہوتا ہے۔

جسمانی دفاعی نطام مضبوط کرے:
قیلولے کا ایک اور فائدہ جسم کی جراثیموں کے خلاف مزاحمت کو بڑھانا بھی ہے، نیند کی کمی سے جسمانی مدافعتی نظام کمزور ہوتا ہے جبکہ دوپہر کو کچھ دیر کی نیند اس نظام کے افعال کو بحال کرنے میں مدد دیتی ہے۔ ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ قیلولے سے جسمانی مدافعتی نظام مضبوط ہوا۔

جسمانی کارکردگی بڑھائے:
جیسا اوپر درج کیا جاچکا ہے کہ قیلولے سے جسمانی توانائی بڑھتی ہے جس کے نتیجے میں کارکردگی بھی بہتر ہوتی ہے، اب وہ ورزش ہو یا دفتری امور، یہ عادت جسمانی و دماغی کارکردگی بڑھانے میں مدد دیتی ہے، کچھ منٹ کی اس نیند کے دوران مسلز اور ٹشوز کو مرمت کا موقع ملتا ہے جو جسمانی کارکردگی بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

تخلیقی صلاحیت بہتر کرے:
قیلولہ کے بعد لوگوں کا ذہن تازہ دم اور غنودگی کی کیفیت محسوس نہیں ہوتی، جس کے نتیجے میں ذہن کی تخلیقی صلاحیت کو فائدہ پہنچتا ہے، اس کی مثال کچھ اس طرح ہے جب کمپیوٹر پر بہت زیادہ اوورلوڈ ہو یعنی بہت زیادہ فائلز اوپن ہو تو اسے ری بوٹ کیا جاتا ہے تاکہ اس کی کارکردگی بہتر بنائی جاسکے، ایسا ہی کچھ دوپہر کی نیند سے بھی ہوتا ہے جو ذہن کی صفائی کرکے اس کے لیے مسائل کا حل اور نئے آئیڈیاز کی تلاش آسان بنادیتا ہے۔

Related Posts