Urdu

رمضان میں ڈی ہائیڈریشن سے کیسے بچا جائے؟

رمضان میں روزہ رکھنے اور گرمی کی شدت کے سبب ڈی ہائیڈریشن کا خطرہ بڑھ جاتا ہے، یعنی جسم میں پانی کی کمی پیدا ہو جاتی ہے، جو بعد ازاں مختلف طبی مسائل کا سبب بنتی ہے۔ اگرچہ صبح سحری میں اور شام کو افطاری کے وقت پانی کی مطلوبہ مقدار استعمال کر کے جسم کو پانی کی کمی سے بچایا جا سکتا ہے۔تاہم سارا دن بغیر پانی کے جسم پر یقینی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

چنانچہ افطار کے وقت بازاری چیزوں کی بجائے اگر سادہ پانی یا گھر پر تیار کیے گئے مشروبات استعمال کریں تو اس سے ایک تو جسم میں پانی کی کمی دور ہونے کے ساتھ صحت پر بھی مثبت اثرات مرتب ہونگے اور دوسرے بازاری اشیاء کے استعمال کے اثرات بھی کم ہو جائیں گے۔

ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ روزوں کے دوران خصوصاً گرمیوں کے موسم میں عام روٹین سے ہٹ کر پانی پینے کا استعمال بڑھا دینا چاہیے تاکہ براہ راست دماغ پر اثر انداز ہونے والی شکایت ڈی ہائیڈریشن سے بچا جا سکے۔

رمضان کے دوران چونکہ دن میں ایسا ممکن نہیں ہو پاتا اور دوسری جانب رمضان کے آتے ہی بے شمار افراد میں وزن کم کرنے کی خواہش بھی جاگ جاتی ہے، چنانچہ ان افراد کی پانی اور خوراک کے استعمال میں بے اعتدالی، بسا اوقات متعدد طبی پیچیدگیوں کا باعث بنتی ہے۔

Essential Life

ماہرین صحت کے مطابق روزے کا مطلب ہی صحت ہے، رمضان کے دوران پانی کی کمی کی شکایت دور کرنے، وزن میں کمی اور تلی ہوئی غذاؤں سے اجتناب کر کے وزن سے متعلق اپنے مطلوبہ نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔

پانی کی کمی سے جسم پر پڑنے والے اثرات:

کھڑے ہونے پر سر چکرانا یا ہلکا ہونا:
طبی ماہرین کے مطابق کھڑے ہونے پر سر چکرانا یا ہلکا پن اس بات کی علامت ہے کہ آپ کے اندر پانی کی کمی ہورہی ہے، اگر ایسا ہو تو دن بھر میں کچھ گلاس پانی زیادہ پینا شروع کردیں اور اگر تبدیلی آئے تو ثابت ہوجائے گا کہ یہ ڈی ہائیڈریشن کا نتیجہ تھا۔

ہر وقت تھکاوٹ:
مناسب نیند کے باوجود اگر آپ دن بھر تھکاوٹ کے شکار رہتے ہیں تو اس کی وجہ ڈی ہائیڈریشن ہوسکتی ہے، جسم میں پانی کی مناسب مقدار حسوں کو چوکنا رکھتی ہے اور توانائی بھی فراہم کرتی ہے، تو اگر آپ سستی محسوس کررہے ہوں تو پانی پی لیں، اگر پھر بھی شکایت دور نہ ہو تو ڈاکٹر سے رجوع کریں کیونکہ یہ دیگر امراض کا انتباہ بھی ہوسکتی ہے۔

کھانے کی خواہش بڑھ جانا:
اگر میٹھے یا نمکین کھانوں کی خواہش بڑھ جائے یا تھوڑی تھوڑی دیر بعد بھوک لگنے لگے تو یہ جسم میں پانی کی کمی کا نتیجہ ہوسکتا ہے جو کہ بھوک بڑھانے والے ہارمونز کی کارکردگی کو بڑھا دیتا ہے، جب ہم پیاسے ہوتے ہیں تو ہمارا جسم اسے بھوک سمجھتا ہے، تو ایسی صورت میں پہلے پانی پی کر دیکھیں کہ بھوک موجود رہتی ہے یا نہیں۔

Essential Life

سانس کی بو:
ہر وقت پیاز یا لہسن کو سانس کی بو کا ذمہ دار قرار نہیں دیا جاسکتا، درحقیقت پانی منہ میں جاکر لعاب دہن کو بو پیدا نہیں کرنے دیتا، تو اگر آپ پانی کی کمی کے شکار ہیں تو سانس کی بو کا سامنا ضرور ہوگا۔ ایک تحقیق کے مطابق منہ زیادہ دیر تک خشک رہے تو منہ میں موجود بیکٹریا بدبو دار ہوجاتے ہیں جو سانس میں بو کا باعث بنتے ہیں۔

ہر وقت سردرد رہنا:
اگر آپ کو اکثر شدید سردرد رہتا ہے تو یہ ممکنہ طور پر اس بات کی علامت ہے کہ آپ ڈی ہائیڈریشن کے شکار ہورہے ہیں، ایسا ہونے پر درد کش ادویات کے استعمال سے پہلے ایک یا دو گلاس پانی پی کر انتظار کریں کیونکہ ہوسکتا ہے کہ ایسا کرنے سے درد دور ہوجائے۔

گہرے زرد رنگ کا پیشاب:
پانی کی کمی کا ایک بڑا ثبوت پیشاب کی رنگت کا بدل جانا ہے، اگر وہ بہت زیادہ زرد یا پیلے رنگ کا ہے تو یہ واضح ہے کہ آپ کے جسم میں پانی کی کمی واقع ہوگئی ہے۔

قبض کی شکایت:
اگر آپ کو اکثر قبض کی شکایت رہتی ہے تو یہ بھی پانی کی کمی کی ایک علامت ہوسکتی ہے جس کا حل پانی کا استعمال بڑھا دینا ہوسکتا ہے، کیونکہ ایسا کرنے سے آنتوں کو کام کرنے میں مدد ملتی ہے۔

Essential Life

خشک جلد اور جھریاں:
اگر آپ کی جلد خشک اور جھریوں کا شکار ہورہی ہے تو اس کا مطلب ہے کہ جسم پانی کی طلب کررہا ہے جو کہ جلد کو روشن اور صحت مند رکھتا ہے، جب جسم میں پانی کی کمی ہوتی ہے تو وہ خشک اور پرت دار ہونے لگتا ہے خاص طور پر سردیوں کے موسم میں اور یہ ضروری ہے کہ اچھی جلد کے لیے مناسب مقدار میں پانی کا استعمال کیا جائے۔

مسلز اکڑنا:
اگر صبح اٹھنے کے بعد جسم کے مختلف حصوں میں اکڑن اور تناو محسوس ہو تو یہ بھی پانی کی کمی کا نتیجہ ہوسکتا ہے، اگر آپ اضافی اکڑن محسوس کریں تو فوری طور پر پانی پی لیں تاکہ تناو میں کمی آسکے۔

ڈی ہائیڈریشن سے کیسے بچا جائے؟

گنے کا رس:
ڈی ہائیڈریشن کی شکایت کی صورت میں فوری طور پر گنے کا جوس لیں جو فوراً توانائی بحال کر کے تروتازہ اور فرحت بخش احساس دلاتا ہے۔ تھکاوٹ دور کرتا ہے۔گنے کے رس کو گردوں کی صحت کے نہایت مفید قرار دیا جاتا ہے۔

ناریل کا پانی:
ناریل کا پانی صحت بخش مائع ہے، ناریل کا پانی بد ہضمی اور تیزابیت کا بہترین علاج ہے اور اس کے استعمال سے انسان خود کو ہلکا اور توانا محسوس کرتا ہے، ناریل کے پانی میں تخم بالنگا ملا کر بھی استعمال کیا جا سکتا ہے، ناریل کا پانی پیٹ پھولنے کی شکایت سے بھی بچاتا ہے۔

Essential Life

لال گلاب کے پھولوں سے تیار گل قند:
لال گلاب کے پھولوں سے تیار  گل قند نا صرف گرمی کی شدت کم کرتی ہے بلکہ فرحت بخش احساس بھی جگاتی ہے اورڈی ہائیڈریشن کے اثرات ختم کرتی ہے۔ روزہ افطار کرنے کے بعد اگر میٹھے کے طو ر پر گل قند کا استعمال کر لیا جائے یا پھر اسے پانی یا دودھ میں شامل کر کے پی لیا جائے تو غذا جَلد ہضم ہو جاتی ہے اور بھاری پن بھی محسوس نہیں ہوتا ہے۔

لیموں پانی:
لیموں پانی طبی ماہرین کی جانب سے ہر موسم میں تجویز کیا جاتا ہے، لیموں صحت، قوت مدافعت بہتر بنانے اور وٹامن سی کی بھر پور مقدار حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔لیموں پانی ناصرف ایک سستا ترین ڈیٹاکس واٹر ثابت ہوتا ہے بلکہ یہ گردوں کی صفائی کے لیے بھی بہترین مشروب قرار دیا جاتا ہے۔لیموں پانی کے استعمال سے وزن میں کمی آتی ہے، طبیعت کا بھاری پن دور ہوتا ہے اور غذا جَلد ہضم ہوتی ہے۔

ڈی ہائیڈریشن سے بچانے میں معاون غذائیں:

تربوز:
گرمیوں میں کھایا جانے والا پھل تربوز نہ صرف ذائقے میں اچھا ہوتا ہے بلکہ یہ جسم کو بہت سے طریقوں سے بھی غذائیت بھی فراہم کرتا ہے۔ اس میں 92 فیصد پانی ہوتا ہے جو جسم کو مناسب ہائیڈریشن دیتا ہے۔ اس کے علاوہ تربوز میں بہت سارے غذائی اجزاء جیسے وٹامن اے، وٹامن سی، وٹامن بی 1، وٹامن بی 5، وٹامن بی 6، پوٹاشیم اور میگنیشیم شامل ہیں جو پھلوں میں پانی کی کمی کو آسانی سے پورا کرسکتے ہیں۔

Essential Life

کدو:
کدو یالوکی میں 90 فیصد تک پانی ہوتا ہے اور باقی 10 فیصد ریشہ ہوتا ہے۔ نیز لوکی میں کاربوہائیڈریٹ قطعی طور پر موجود نہیں ہے لہذا روزوں میں اسے بھی غذا کا حصہ بنایا جا سکتا ہے۔لوکی میں بہت سی قسم کے پروٹین، وٹامن اور نمکیات پائے جاتے ہیں۔ وٹامن اے، وٹامن سی، کیلشیم، آئرن، میگنیشیم، پوٹاشیم اور زنک بھی اس میں پائے جاتے ہیں۔ آپ لوکی کو بطور جوس یا کھیر بنا کر بھی کھا سکتے ہیں۔

پپیتا:
پپیتا موسم گرما کا پھل ہے جو سندھ کی منڈیوں میں آسانی سے دستیاب ہوتا ہے۔ یہ پھل کھانے میں آسان اور لذیذ ہے جب کہ جسم سے پانی کی کمی کو بھی دور کرتا ہے۔ پپیتے میں وٹامن اے، سی اور بی، کیلشیئم، آئرن اور فاسفورس موجود ہوتے ہیں۔

کیلا:
کیلے میں پانی کی مقدار 74 فیصد ہونے کی وجہ سے ہائیڈریشن کے لیے کیلے کی مقدار کو بہت اچھا سمجھا جاتا ہے۔ کیلے میں کافی مقدار میں پوٹاشیم اور فائبر ہوتا ہے جو قوت مدافعت کو مستحکم کرنے کے ساتھ ساتھ آپ کو روزے کے دوران صحت مند رکھنے میں بھی مدد دیتا ہے۔
یہی خصوصیات کچے کیلے میں بھی پائی جاتی ہیں جس کا کچھ علاقوں میں سالن بھی بنایا جاتا ہے۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

معیاری اور خالص مصنوعات خریدنے کیلئے کلک کریں:

Related Posts