Urdu

ریحان: جڑی بوٹیوں کا شہزادہ

ریحان یا نیازبوبرصغیر کا مقامی پودا ہے اور یہاں تقریبا ہر جگہ پایا جاتا ہے۔اس پودے کا قد 16 سے 18 انچ تک ہوتا ہے۔ باغوں اور گھروں میں یہ بکثرت لگایا جاتاہے اور خودرو بھی ہے۔ یہ برصغیر میں 5000 سال سے زائد عرصہ سے نہ صرف کاشت کیا جا رہا ہے۔بلکہ مختلف امراض میں اس کا استعمال ہو رہا ہے۔یہ بنیادی طور پر پودینہ کے خاندان سے تعلق رکھتا ہے۔اسکی 160 سے زیادہ اقسام ہیں۔

اسے عربی اور فارسی میں ریحان، اردو میں بھی ریحان، ہندی میں تلسی اور پنجابی میں نیاز بو کہتے ہیں۔ ریحان کے پودے کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس کی افادیت سے انسان اپنے ابتدائی زمانہ میں ہی آگاہ ہو گیا تھا۔ ایک روایت میں ہے کہ مُوسی علیہ السلام بیمار ہُوئے تو اللہ نے اُن سے کہا کہ آپ ریحان کے پتے کھا لیں جو مُوسٰی علیہ السلام نے کھائے اور اُن کو شفا ہو گئی۔ قران مجید میں اس کا ذکر سورہ الرحمن(آیت نمبر12) اور سورہ الواقعہ میں ہواہے۔اسی طرح بخاری، مسلم اور ترمذی کی ایک روایت کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ارشاد فرمایا کہ ”جب تم میں سے کسی کو ریحان دیا جائے تولینے سے انکار نہ کرو کیونکہ یہ پودا جنت سے آیا ہے۔

اس پودے کو ہندو مت میں ہولی باسل کہا جاتا ہے۔ کئی جگہ اس کی پُوجا بھی کی جاتی ہے۔اسے جڑی بوٹیوں کا شہزادہ بھی کہا جاتا ہے۔ یہ پودا ایک جراثیم کش پودا ہے، چہرے پر اس کا استعمال کیل مہاسوں ار دانوں سے محفوظ رکھتا ہے، دوران خون بہتر کرتا ہے اور چہرے پر نکھار لاتا ہے۔

Essential Life

جدید طبی تحقیق کے مُطابق ریحان کا سارا پودا ہی یعنی پتے ٹہنیاں بیج پھول سب دافع امراض ہیں اور یہ پھیپھڑوں، ملیریا،ڈائریا، متلی، الٹی، جلد کی بیماریوں، معدے کے سرطان، آنکھوں کی بیماریوں اور جسم سے زہر ختم کرنے کی صلاحیتوں سے مالا مال ہے۔ ریحان کا پودا، انڈونیشیا، ملائشیا،تھائی لینڈ، ویت نام، لاؤس، کمبوڈیا اور تائیوان میں بھی بڑا مقبول ہے۔ یورپ میں بھی اس کی مقبولیت کچھ کم نہیں۔اسے بطور سلاد بھی استعمال کیا جاتا ہے۔

ریحان میں پائے جانے والے کیمیائی اجزا:
اینٹی آکسیڈینٹ خوبیوں کے حامل یحان میں کیلوریز، پروٹین، فیٹ، کاربوہائیڈریٹ، فائبر، وٹامن اے، سی، ای، کے، کیلشیم، آئرن، میگنیشیم، فاسفورس، زنک، کاپر، مینگانیز، سلینیم، پوٹاشیم، سوڈیم، کیرٹین بیٹا، اومیگا تھری اوراومیگا سکس کے علاوہ متعدد مرکبات پائے جاتے ہیں۔

ریحان کے طبی فوائد:

ذہنی تناؤ اور اضطراب:
ذہنی تناؤ اور اضطراب موجودہ دور میں تیزی سے پھیلنے والی بیماریاں ہیں، جن کا شکار بڑوں کے ساتھ ساتھ بچے بھی ہو رہے ہیں اور سائنس کے مُطابق ریحان کے پتے شاخیں بیج یعنی پُورا پودا ہی اڈاپٹوجن کیمیائی جزو سے بھرا پڑا ہے، یہ جزو ذہنی تناؤ اور دماغ کے افعال کو درست رکھنے میں اکسیر کا درجہ رکھتا ہے۔ ایوردیک طریقہ علاج کے مطابق ریحان کے پودے میں اینٹی ڈپریشن اور اینٹی انگزائٹی خوبیاں شامل ہیں جو دماغ کو مشکلات سے لڑتے ہوئے پریشان نہیں ہونے دیتی اور پریشانی میں درست فیصلہ کرنے کی قوت دیتی ہیں۔

قدرتی اینٹی آکسیڈینٹ:
ریحان اینٹی آکسیڈینٹ،اینٹی بیکٹریا، اینٹئی وائرل، اینٹی فنگل، اینٹی اینفلامیٹری، اور پین کلیر جیسی خوبیوں سے بھر پور ہے اور جسم کو جہاں توانا رکھنے میں انتہائی مدد گار ہے وہاں یہ جسم کے اندر موجود فاضل اور نقصان دہ مادوں کو خارج کر کے خون کو صاف کرتا ہے اور جسم کو کینسر جیسے موذی مرض سے بچا کر رکھتا ہے

Essential Life

دانتوں، مسوڑوں کا علاج:
ریحان کے پتوں کو دھوپ میں سکھا کراور انھیں پیس کر(سفوف بنا کر) خالص سرسوں کے تیل میں شامل کرکے، اس پیسٹ کو اگردانتوں اور مسوڑھوں پر ملیں اس سے جہاں منہ کی بدبو ختم ہو گی وہیں مسوڑھوں سے خون رسنے کی بیماری پائیوریا کا بھی خاتمہ ہوگا۔

امراض چشم:
امراض چشم میں ریحان کا عرق اہم کردار ادا کرتا ہے، سوتے وقت آنکھوں میں اس عرق کے دو قطرے ڈالنے سے آنکھوں کی دکھن ختم ہو جاتی ہے۔

دانے اور کیل مہاسے:
روزانہریحان کے پتے چبانے سے خون صاف ہوتا ہے،جس سے جسم پر دانے اور کیل مہاسے نکلنے کی شکایت باقی نہیں رہتی، ریحان کے پتے صندل کی لکڑی اور عرق گلاب ملا کر پیسٹ پھنسیوں پھوڑوں پر لگانے سے آرام ملتا ہے اور اس سے برص کے دھبے بھی ختم ہو سکتے ہیں اور زخموں کے نشان بھی مٹ سکتے ہیں۔

ذیابطیس کا مرض:
ریحان کا پُورا پودا ذیابطیس ٹائپ 2 کے مریضوں کے لیے شفا ہے۔ جو ذیابطیس سے پیدا ہونے والی دوسری بیماریوں جیسے موٹاپا، بُلند کولیسٹرال لیول، خون میں انسولین کی زیادتی اور ہائپر ٹینشن جیسی بیماریوں کو قابو میں رکھتا ہے۔ جانورں پر ہونے والی ایک تحقیق کے نتائج کے مطابق ریحان کے پتوں کے ایکسٹریٹ 30 دن استعمال کرنے سے خون میں شوگر کا لیول 24 فیصد تک کم دیکھا گیا۔ اگر آپ ذیابطیس کے مریض ہیں اور تلسی کو اپنی روزانہ کی خوراک میں شامل کرنا چاہتے ہیں اور شوگر کنٹرول کرنے کے لیے کوئی اور دوائی بھی استعمال کر رہے ہیں تو پہلے اپنے ڈاکٹر سے مشورہ ضرور کریں کیوں کہ تلسی آپ کے خون میں شوگر لیول زیادہ کم کر سکتی ہے۔

دائمی بیماریوں کا علاج:
کولیسٹرال کا بڑھا ہوا لیول جسم میں خطرناک دائمی بیماریوں جیسے دل کی بیماریاں، شوگر اور جگر کی خرابی جیسی بیماریوں کو دعوت دیتا ہے، سائنس کی ایک تحقیق جو خرگوش پر کی گئی اور اُسے ریحان کے تازہ پتے کھلائے گئے اور نتائج میں دیکھا گیا کے ان کے اندر برے کولیسٹرال کا خاتمہ ہوا اور اچھے کولیسٹرال میں نمایاں اضافہ ہوا۔ ریحان کا تیل بھی جگر پھیپڑوں اور دل کے اندر موجود برے کولیسٹرول کو ختم کرنے میں انتہائی مُفید مانا جاتا ہے۔

Essential Life

جوڑوں کا درد:
جوڑوں کا درد انسان کو اپاہج بنا دیتا ہے اعضا کی سوزش جسم کو ناکارہ کر دیتی ہے۔ چنانچہ اس صورت میں ریحان کے پتوں کا قہوہ ان امراض کو ختم کرنے کے لیے اکسیر مانا جاتا ہے اور سائنس اس بات کو تسلیم کرتی ہے کیونکہ سائنس کے مطابق تلسی میں اینٹی آکسیڈینٹ خوبیوں کے ساتھ اینٹی اینفلامیٹری خُوبیاں بھی ہیں۔

معدے کے امراض:
نظام انہظام اور معدے کے امراض کیلئے ریحان جادوئی خوبیوں کا حامل ہے۔ یہ معدے سے تیزابیت کا خاتمہ کرتا ہے، بلغم کو خارج کرتا ہے۔

جلد کو نکھارے:
ریحان کا تیل بہترین سکن کلینزر مانا جاتا ہے جو جلد کو گہرائی تک صفائی کرتا ہے۔یہ چہرے کے کیل مہاسوں خاتمہ کیلئے اکسیر ہے۔اگر ریحان کے تیل کو صندل کی لکڑی کے سفوف اور عرق گُلاب میں ڈال کر چہرے پر لگایا جائے تو کیل مہاسوں کا بہت جلد خاتمہ ہو جاتا ہے۔ ریحان اینٹی اینفلامیٹری اور اینٹی مائیکروبل خوبیوں کی وجہ سے جلد کو تروتازہ اوربیماریوں سے محفوظ رکھتا ہے۔

بخار کا شافی علاج:
بخار میں ریحان کے پتوں کا عرق استعمال کرنے سے جسم کا درجہ حرارت نیچے آ جاتا ہے۔ اگر نزلہ زکام ہے تو خالی پیٹ ریحان کی چند پتیاں چبا لیں۔ اس سے آرام ملے گا۔

گلے کی خراش:
گلے میں خراش کی صورت میں ریحان کی چند پتیوں کو پانی میں جوش دیں، پھر اس پانی سے غرارے کریں، دمہ اور برونکائٹس کے مریضوں کو بھی اس سے بہت فائدہ ہو سکتا ہے۔

گردے کی پتھری:
روزانہ ایک گلاس پانی میں تلسی کے پتوں کا عرق شہد میں ملا کر پینے سے گردے کی پتھری خارج ہو سکتی ہے۔

ڈی این اے کا تحفظ:
ریحان کی سب سے اچھی بات یہ ہے کہ یہ جسمانی ڈی این اے کو بہتر حالت میں رکھتا ہے۔ جن کا بگاڑ کئی امراض کی وجہ بنتا ہے۔ حال ہی میں دریافت ہوا ہے کہ ریحان کے پتوں میں فلیوو نوئیڈز اور اینٹی آکسیڈنٹس جینیاتی نقائص کو دور کرکے ڈی این اے کو صحت مند حالت میں رکھتے ہیں۔

دل کے لیے اکسیر:
ریحان میں موجود اینٹی آکسیڈنٹس کا خزانہ دل کی حفاظت کرتا ہے۔ حال ہی میں ایک تحقیقی جرنل میں شائع ہونے والی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ریحان کے پتے کولیسٹرول کم کرتے ہیں۔ چینی ماہرین نے یہ خبر بھی دی ہے کہ ریحان کے پتے بڑھتے ہوئے بلڈ پریشر کو کم کرنے میں بہت مفید ثابت ہوسکتے ہیں۔

Essential Life

جراثیم بھگائے:
ریحان میں اینٹی بیکٹیریا خواص موجود ہیں جو کئی اقسام کے جراثیم کو ختم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس کا تیل بھی کئی جراثیم کو ختم کرنے کی حیرت انگیز صلاحیت رکھتا ہے۔

دفاعی نظام کو طاقتور بنائے:
ذہنی اورجسمانی تناؤ سے جسم کا قدرتی دفاعی یا امیون نظام شدید متاثر ہوتا ہے۔ دفاعی نظام کمزور ہونے سے کئی امراض جسم پر حملہ کردیتے ہیں۔ ماہرین نے کہا ہے کہ صرف 6 ہفتوں تک ریحان کے اجزا کھانے سے ذہنی تناؤ میں 40 فیصد تک کمی ہوتی ہے اور اس کے نتیجے میں جسمانی دفاعی نظام مضبوط ہوتا ہے۔

ریحان کے دیگر استعمال:
ریحان کا تقریباً پوری دنیا میں استعمال ہو رہا ہے۔ کہیں یہ پکوانوں میں استعمال ہوتا ہے تو کہیں اسے بطور دوا استعمال کیا جاتا ہے۔ اسے مشروبات اور کا سمیٹکس میں بھی استعمال کیا جاتا ہے۔چینی اپنے کھانوں اور سوپ میں اسے تازہ اور خشک حالت میں استعمال کرتے ہیں۔ تائیوان میں لوگ اسے سوپ کو گاڑا کرنے کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ تھائی لینڈ میں ریحان دودھ اور آئس کریم میں ڈالا جاتا ہے۔ ویت نام میں نوڈل سوپ کا اہم جزو ہے۔برصغیر پاک و ہند میں اس کے بیج جسے تخم بالنگا بھی کہتے ہیں، کو فالودہ اور شربت میں استعمال کیا جاتا ہے۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

خالص اور معیاری مصنوعات خریدنے کیلئے کلک کریں

Related Posts