Urdu

سرسوں کا تیل صحت افزا کیساتھ ساتھ حُسن افزا بھی ہے

سرسوں پاکستان کی فصل ہے۔ موسم بہار میں اس کے پھول نکلتے ہیں جوزرد رنگ کے ہوتے ہیں۔یہ پھول بہت خوبصورت ہوتے ہیں اور موسم بہار کی رونق میں اس سے اضافہ ہوتا ہے۔ان پھولوں کے اندر بیج بنتے ہیں ان بیجوں میں سے تیل نکالا جاتا ہے جوسرسوں کاتیل کہلاتا ہے۔سرسوں کا تیل مختلف قسم کی ادویات میں بھی استعمال ہوتا ہے سرسوں کاتیل ایک بہترین خوردنی اشیاء سمجھا جاتا ہے۔آیوروید میں سرسوں کے تیل کو تمام تیلوں میں سے سب سے فائدے مند تصور کیا جاتا ہے۔

سرسوں کا تیل پرانے وقتوں میں کھانے پکانے کے لیے نہایت شوق سے استعمال کیا جاتا تھا۔ آج بھی خاص طور پر دیہی علاقوں میں سرسوں کا تیل ہی استعمال کیا جاتاہے، یہ صرف کھانا پکانے کے لیے ہی نہیں،بلکہ بطور دوا بھی اپنا جواب نہیں رکھتا۔

سرسوں کا تیل صحت افزا ہونے کے ساتھ ساتھ حُسن افزا بھی ہے۔ پرانے وقتوں سے ہی خواتین اپنی جِلد اور بالوں کی خوب صورتی اور صحت کے لیے اسے استعمال کرتی آرہی ہیں۔سرسوں کا تیل جِلد اور بالوں کی خوب صورتی و رعنائی میں اضافہ کرنے میں نہایت اہم کردار ادا کرتا ہے۔

سرسوں کے تیل میں شامل کیمیائی اجزا
سرسوں کا تیل نہ صرف حیاتین اور معدنیات (منرلز) کا مجموعہ ہے،بلکہ یہ بیکٹریا کش، فنگل کش اور وائرس کو دور رکھنے کی خصوصیات رکھتا ہے۔جبکہ سرسوں میں حیاتین الف،ب اور ج (وٹامنز اے،بی اور سی)کے علاوہ کیلسیئم،سوڈئیم،نمکیات،کلورین،فاسفورس،لحمیات (پروٹینز) فولاد اور گندھک بھی پائی جاتی ہے۔ اسے گوشت کا نعم البدل کہا جاتا ہے۔
سرسوں کے تیل میں میں کثیر مقدار میں بیٹا کیروٹین (BETACAROTENE)ہوتی ہے۔بیٹا کیروٹین جسم میں جا کر حیاتین الف میں تبدیل ہوجاتی ہے۔ سرسوں کے تیل میں فولاد، چربیلا تیزاب (فیٹی ایسڈ)، کیلسیئم اور میگنیز ے ئم جیسی اہم معدنیات پائی جاتی ہے، جو بالوں کی نشوونما میں کلیدی کردار ادا کرتی ہیں۔ اس میں موجود مونوسچورٹیڈ فیٹی ایسڈز یہ جسم میں نقصان دہ کولیسٹرول کی سطح کم کرتے ہیں۔

سرسوں کے تیل کے جادوئی اثرات

دانتوں کو جگمگائیں:
چٹکی بھر آئیوڈین سے پاک نمک لیں اور کچھ مقدار میں سرسوں کے تیل میں شامل کردیں، اگر چاہیں تو چٹکی بھر ہلدی کا بھی اضافہ کرسکتے ہیں۔اس کے بعد مکسچر کو لیں اور شہادت کی انگلی سے اس سے دانتوں پر دو منٹ تک مالش کریں۔ اس کے بعد چند منٹ کے لیے منہ بند کرکے رکھیں اور پھر نیم گرمی پانی سے کلیاں کرلیں اور اس مکسچر کا استعمال معمول بنانے سے چند دنوں میں آپ نمایاں فرق دیکھ سکیں گے۔

دل کی صحت کے لیے فائدہ مند:
امریکن جرنل آف کلینیکل نیوٹریشن میں شائع ایک تحقیق کے مطابق کھانوں میں سرسوں کے تیل کو شامل کرنے دل کی صحت کے لیے فائدہ مند ثابت ہوتا ہے، اس میں موجود مونوسچورٹیڈ فیٹی ایسڈز یہ جسم میں نقصان دہ کولیسٹرول کی سطح کم کرتے ہیں جبکہ خون میں چربی کی سطح مستحکم رکھ کر اس کی گردش میں مدد دیتے ہیں۔

ایڑیاں پھٹنے اور جلد ٹوٹ جانے والے ناخنوں کا مسئلہ:
ایڑیاں پھٹنے کا مسئلہ مون سون اور سردیوں میں کافی عام ہوجاتا ہے اور اس سے نجات کے لیے موم اور سرسوں کے تیل کی یکساں مقدار کو مکس کرکے گرم کریں، جس سے وہ گاڑھا ہوجائے گا۔ ایڑیوں کے متاثرہ حصے پر اس مکسچر کو لگائیں اور کاٹن کی جرابیں پہن کر سوجائیں۔ اسی طرح سرسوں کا تیل ناخن پر لگانا اس کی سطح پر جذب ہوکر انہیں غذائیت فراہم کرکے مضبوط کرتا ہے۔

انفیکشن سے تحفظ:
سرسوں کا تیل بیکٹریا کش، فنگل کش اور وائرس کو دور رکھنے کی خصوصیات رکھتا ہے، اس کا جسم کے بیرونی سطح پر استعمال یا کھانے میں ڈال کر استعمال کرنا موسمی انفیکشن سمیت نظام ہاضمہ کے انفیکشن کے خلاف مزاحمت کرتا ہے۔سرسوں کے تیل کا جسم پر مساج جِلد کو تروتازہ،جوان وصاف ستھرا کردیتا ہے اور خون کے دورانیے کو تیز کرنے میں معاونت کرتا ہے۔یہ نہ صرف جِلدی تعدیہ (انفیکشن) ختم کرنے میں نہایت مفید ہے،بلکہ جِلد کی سوزش وجلن کو کم کرنے میں بھی فائدہ مند ہے۔اس کے علاوہ زخموں کو بھی بہت تیزی سے مند مل کرتا ہے۔

دوران خون بہتر کرے:
سرسوں کے تیل سے جسم پر مالش کرنا دوران خون، جلد کی ساخت بہتر ہوتی ہے جبکہ مسلز پر دباؤ میں کمی آتی ہے۔ یہ پسینے کے غدود کو حرکت میں لاکر جسم سے زہریلے مواد کو خارج کرنے میں مدد دیتا ہے۔

جلد کے لیے بہترین:
سرسوں کا تیل وٹامن ای سے بھرپور ہوتا ہے جو جلد کے لیے بہترین ہوتا ہے، اسے جلد پر لگانے سے فائن لائنز اور جھریوں میں کمی آتی ہے اور یہ سن اسکرین کی طرح کام کرتا ہے۔یعنی یہ تیل سورج کی تمازت سے جھلس جانے والی جِلد کی درستگی میں مدد کرتا اور جِلد پر موجود داغ دھبوں کو صاف کرکے اسے قدرتی نکھار بخشتا ہے۔ جِلد کی اوپری سطح پر سرسوں کا تیل لگانے سے آپ کی جِلد سورج کی بنفشی شعاعوں کے اثرات سے محفوظ رہتی ہے۔تاہم بہت زیادہ تیل جسم پر لگانا نقصان دہ اور خارش کا باعث بن سکتا ہے، جبکہ آئلی اور حساس جلد والے افراد کو اس کی مالش سے گریز کرنا چاہئے۔ ناریل کے تیل اور سرسوں کے تیل کی یکساں مقدار کو ملاکر مالش کرنا جلد کی رنگت کو بھی بہتر بناتا ہے۔

بالوں کی نشوونما بہتر کرے:
اگر تو بال گر رہے ہیں یا ان کے بڑھنے کی رفتار سست ہوگئی ہو تو سرسوں کے تیل کا استعمال اس حوالے سے مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔ سرسوں کے تیل میں موجود بیٹا کیروٹین بالوں کی نشوونما کی رفتار تیز کردیتا ہے، اس کی مالش سے سر کے اندر دوران خون بہتر ہوتا ہے جبکہ بیکٹریا کش خصوصیات سر کو انفیکشن سے بچاتا ہے۔ اسی طرح سرسوں کے بیج کو پیس کر پیسٹ بناکر سرسوں کے تیل میں ملا کر سر پر رات بھر لگا رہنے دیں تو اس سے بالوں کے گرنے کے مسئلے کو کنٹرول کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

گنج پن ختم کرنے کا ٹانک:
یہ گنج پن کو ختم کرنے میں نہایت موثر ٹانک کا کام سر انجام دیتا ہے اور خشک وبے رونق بالوں کو چمک دمک وتروتازگی عطا کرتا ہے۔یہ تیل سر کی جِلد میں تعدیے کے باعث ہونے والی خارش کے خلاف مدافعت کرتا اور اس سے نجات دلاتا ہے۔بالوں میں تیل لگانے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ تیل کو ہلکا سا گرم کرکے اُس سے پندرہ منٹ تک سر کا خوب مساج کیا جائے۔بالوں کو ڈھانپ لیں اور دوتین گھنٹے بعد سرد ھو لیں۔یہ عمل بالوں کو ہر قسم کے جِلدی تعدیے سے بچا کر انھیں لمبا،گھنا اور خوب صورت بنا تا ہے،جس سے بال گرنا بند ہوجاتے ہیں۔

قدرتی سیاہ بال:
سرسوں کے تیل کی باقاعدگی سے سر میں مالش کرنے سے قبل ازوقت سفید ہونے والے بالوں کے مسئلے سے بھی نجات مل سکتی ہے اور بال قدرتی طور پر سیاہ و چمک دار ہو سکتے ہیں۔ہر دوسرے دن سونے سے پہلے سرسوں کے تیل سے سر کی مالش کریں،کچھ دنوں میں ہی آپ کو واضح فرق محسوس ہوگا اور بال سیاہ ہونے کے ساتھ ساتھ مضبوط بھی ہو جائیں گے۔سرسوں کا تیل بالوں کو صحت مند بناتا ہے۔

ایک حیرت انگیز علاج:
سرد موسم میں اکثر ہونٹوں کی جِلد خشک ہوجاتی ہے،جس سے ہونٹ پھٹ جاتے ہیں اور ان سے خون بھی رسنے لگتا ہے۔سرسوں کا تیل پھٹے ہوئے ہونتوں کو اچھا کرنے کا بہترین علاج ہے، لیکن اسے پھٹے ہوئے ہونٹوں پر نہیں لگائیں،بلکہ رات کو سونے سے پہلے ناف میں دو تین قطرے ڈال کر سوجائیں اور یہ عمل روزانہ کریں۔اس عمل سے آپ کے ہونٹوں کا پھٹنا پن ختم ہوجائے گا اور وہ کبھی خشک نظرنہیں آئیں گے۔یہ ایک حیرت انگیز وقدیم علاج ہے،جو ہونٹوں کو قدرتی نرمی دیتا ہے اور انھیں ملائم و نم آلود رکھنے میں معاونت کرتا ہے۔
(روزانہ رات کو سوتے وقت سرسوں کے خالص تیل میں انگلی کا پورا تر کرکے اپنی ناف (ٹنڈی یا دھنی) میں لگانے کا عمل مسلسل جاری رکھیں، ناف انسانی جسم کا ایک مرکزی حصہ ہے اور پیدائش سے پہلے شکم مادر میں اسی کے ذریعے خوراک اور توانائی ماں سے بچے کے جسم میں منتقل ہوتی ہے، اور پیدائش کے بعد بھی ناف کا جسم کے اندرونی نظام سے ربط رہتا ہے اس کے اندرونی طرف 72 ہزار رگیں جڑی رہتی ہیں۔ ناف کے کام کو متحرک رکھنے کیلئے سرسوں کے تیل کا استعمال ضرور کیا جائے۔ ناف میں تیل لگانے سے جسم کے خشک اعضاء جیسے کہ آنکھیں، دماغ، کان، پاؤں، گردے، جگر، داڑھیں وغیرہ میں چکنائی پہنچ جاتی ہے)۔

ناف میں سرسوں کا تیل لگانے کے فوائد:
ہاتھوں اور پاؤں کی خشکی اور ایڑیوں کا پھٹنا ختم ہو جاتا ہے۔
ذھنی دباؤ اور نفسیاتی بیماریاں دور ہو جاتی ہیں۔
آنکھوں کی خشکی اور خارش ہٹ جاتی ہے۔
نظر تیز ہو جاتی ہے۔
خشک جلد تر ہو جاتی ہے، اور خارش کو فائدہ ہوتا ہے۔
پیٹ کی نفخ (ہوا سے پھولنا) دور ہو جاتی ہے۔
پیٹ کے امراض شفا یاب ہوتے ہیں؟
بواسیراور قبض کا خاتمہ ہوتا ہے، بواسیری مسے بے اثر ہو جاتے ہیں۔
کمر کا درد رفع ہو جاتا ہے۔
ناخونوں سے پھپھوندی (فنگس) کے امراض دور ہوتے ہیں۔
ہونٹ نہیں پھٹتے۔

چہرے پر چمک عیاں ہوتی ہے۔
گال تروتازہ رہتے ہیں۔
بالوں میں نکھار آجاتا ہے۔
ریح کے اخراج سے طبیعت حشاش بشاش رہتی ہے،اور اچھی بھوک لگتی ہے۔
ناک کی بڑھی ہوئی ہڈی میں کمی آجاتی ہے، اور ناک کی پرانی بندش ختم ہو جاتی ہے، ناک کی جلن کو افاقہ ہوتا ہے۔
آنکھوں سے پانی بہنا اور چھینکوں کی کثرت ختم ہو جاتی ہے۔
گلے میں ریشہ گرنا بند ہو جاتا ہے۔
ناف میں تیل لگانے کے مسلسل عمل سے خون کی سخت اور تنگ شریانوں اور وریدوں کے مرض میں بھی افاقہ ہوگا کیوں کہ یہ عمل بواسیری مسوں کو درست کرتا ہے جس کا سبب خون کی شریانوں کی سختی بھی ہوتا ہے۔
الغرض سرسوں کے تیل کو روزانہ رات کو ناف میں لگاتے رہنے کے مسلسل عمل کے صحت پر بہت ہی مفید اثرات رونما ہوتے ہیں اور یہ مریضوں بلکہ غریب و نادار مریضوں کیلئے قدرت کا ایک سستا ترین اور مفید ترین تحفہ ہے۔

سرسوں کے تیل کے ٹوٹکے:

بالوں کے مسائل:
ایک پاؤ نیم کے پتے اور ڈیڑھ پاؤ سرسوں کا تیل،نیم کے پتوں کو کونڈی میں ڈال کر اچھی طرح رگڑیں، پانی نہ ڈالیے۔ جب یہ چٹنی کی طرح بن جائے تو ایک کڑاہی میں ڈال کر اس کے اوپر سرسوں کا تیل ڈال دیں۔پھر اس کے بعد اسے ہلکی آنچ پر پکائیں۔ جب نیم کی خوشبو آنے لگے اور تیل کا رنگ نیم کے پتوں جیسا ہوجائے تو اسے اتار کر چھان کر ایک بوتل میں محفوظ کرلیں۔نہانے سے آدھا گھنٹہ پہلے اسے اچھی طرح مالش کریں اور نہانے کے بعد بھی سر میں لگائیں۔ بالوں کے تمام مسائل کے لیے بہترین ہے۔

فنگس انفیکشن کے لیے:
اگر ناخنوں میں فنگس انفیکشن ہوگیا ہو توسرسوں کا تیل ڈراپر میں ڈال کر ناخنوں پر لگائیں جلدی افاقہ ہوگا۔

پھٹی ایڑھیوں کے لیے:
آدھا پاؤ سرسوں کا تیل لے کت فرائی پین میں پکائیں، ساتھ ہی ایک موم بتی کے ٹکڑے کرکے اس میں ڈال دیں اور چمچ چلاتی رہیں۔ ٹھنڈا ہونے پر ایک بوتل میں محفوظ کرلیں۔ یہ ایک طرح کی ویسلین بن جائے گی۔رات کو سوتے وقت ایڑھیوں پر لگائیں اور موزے پہن لیں۔ صبح اٹھ کر ایڑھیاں دھولیں، ایڑھیاں چمکدار اور خوبصورت ہوجائیں گی۔

کپڑوں پر داغ دھبے کے لیے:
کپڑوں کے دھبوں پر سرسوں کا تیل ڈال کر اس پر تھوڑا سا سرف ڈال کر رگڑیں داغ دھبے بہ آسانی اُتر جائیں گے۔

سر کی جوئیں ختم کرنے کا نسخہ:
فنائل کی ایک گولی پیس کر اس کا پاؤڈر بنانے کے بعد اسے سرسوں کے تیل میں اچھی طرح مکس کرلیں۔اس کے بعد سر میں یہ تیل لگاکر دو گھنٹے بعد سر دھولیں۔ جوؤں کا خاتمہ ہوجائے گا۔

خارش کے لیے دوا:
ایک چھٹانک سرسوں کے تیل میں د س گرام کافور پاؤڈر شیشے کی سفید بوتل میں ڈال کر اسے اچھی طرح بند کرکے دھوپ میں رکھ دیں۔ جب کافور حل ہوجائے تو دوا تیار ہے۔ یہ دوا ہرقسم کے جراثیم، خارش، مچھر،مکھی کاٹنے کی خارش کے لیے ازحد مفید ہے۔

نزلہ زکام کے لیے:
نزلہ زکام کے مریض ہروقت اپنے نتھنوں کو سرسوں کے تیل سے تر رکھیں۔خصوصاً رات کو سوتے وقت یہ کام ضرور انجام دیں۔

جلنے اورجلن کے لیے:
اگر جسم کا کوئی حصہ جل جائے تو فوری خالص سرسوں کا تیل لگالیں۔ فوراً ٹھنڈک پڑ جائے گی۔ رات کو سونے سے پہلے اگر پاؤں کے دونوں تلووں پر سرسوں کے تیل کی مالش کرلی جائے تو ہاتھ پاؤں کی جلن ختم ہوجاتی ہے۔

کمزور نظر کے لیے:
جو شخص غسل اور ناخن کے کاٹنے کے بعد پاؤں کے انگوٹھوں پر سرسوں کا تیل لگائے گا اس کی نظر کبھی کمزور نہیں ہوگی۔

سرسوں کا ساگ:
پنجاب کی اصل پہچان سرسوں کے ساگ اور مکئی کی روٹی سے بہتر اور کوئی نہیں، اس سوغات میں ذائقہ، غذائیت کی بہتات ہے۔یہ سردیوں اور بہار کی سوغات ہے۔حالانکہ یہ ایک مرغن کھانا ہے لیکن اس کی خالصیت، تازہ اور نباتاتی ساخت نے پراسیسڈ کھانوں کی دنیا میں اسے فاتح بنا دیا ہے۔

ساگ بنانے کا طریقہ
اجزاء:
سرسوں کا ساگ۔۔۔۔ ایک کلو
پالک۔۔۔۔۔چار سو گرام
بتھوا۔۔۔۔۔دو سو گرام
لہسن۔۔۔۔۔ چھ جوئے
ہری مرچ۔۔۔۔۔ آٹھ عدد
ادرک۔۔۔۔۔دو انچ کا ٹکڑا
نمک۔۔۔۔۔ حسبِ ضرورت
مکئی کا آٹا۔۔۔۔۔ ایک چوتھائی کپ
چینی۔۔۔۔۔ایک چائے کا چمچ
گھی۔۔۔۔۔4/3کپ
پیاز۔۔۔۔۔آدھا کپ
ٹماٹر۔۔۔۔۔ ایک کپ
سرخ مرچ پاؤڈر۔۔۔۔۔ ایک کھانے کا چمچ
ہلدی پاؤڈر َ۔۔۔۔۔ آدھا چائے کا چمچ
زیرہ۔۔۔۔۔ ایک چائے کا چمچ
ثابت سرخ مرچ۔۔۔۔۔ چھ عدد
مکھن۔۔۔۔۔سرونگ کے لئے
چھاج۔۔۔۔۔سرونگ کے لئے

سرسوں کا ساگ بنانے کی ترکیب:
سرسوں، پالک اور بتھوے کو اچھی طرح دھو کر صاف کرنے کے بعد کاٹ لیں۔
ادرک، لہسن اور ہری مرچ کو بھی کاٹ لیں۔
پریشر ککر میں پالک، سرسوں، بتھوا، ادرک، لہسن اور ہری مرچ ڈال کر پکائیں۔
پھر اسے ٹھنڈا کرکے گرائنڈر میں پیسٹ بنا کر چھوڑ دیں۔
ایک پین میں گھی گرم کرکے پیاز، زیرہ اور ثابت سرخ مرچ ڈال کر پکائیں۔
جب پیاز کا رنگ ہلکا براؤن ہوجائے تو اس میں نمک، پسی ہوئی سرخ مرچ، پسی ہوئی ہلدی اور تھوڑی سی چینی شامل کرکے پکائیں اور ساتھ ہی ٹماٹر کا پیسٹ بھی اس میں ڈال کربھون لیں۔
آخر میں ساگ کا پیسٹ اور مکئی کا آٹا شامل کرکے اچھی طرح مکس کریں۔
تیار ہونے پر کٹوری میں ڈالیں اور اس کے اوپر مکھن ڈال کر مکئی کی روٹی کے ساتھ پیش کریں۔

سرسوں کا ساگ کھانے کے فائدے:

خون کی شریانوں کے امراض کی روک تھام
سرسوں کا ساگ نائٹریٹ اور میگنیشم سے بھرپور غذا ہے جبکہ اس میں فیٹی ایسڈز کے ساتھ فائیتوکیمیکلز بھی موجود ہوتے ہیں اور یہ سب عناصر دل کی اچھی صحت کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔ مناسب مقدار میں نائٹریٹ کا استعمال خون اور ٹشوز میں نائٹریٹ اور نائٹرک آکسائیڈ کی موجودگی کو یقینی بناتا ہے، اسی طرح میگنیشم فشار خون کو کنٹرول کرتا ہے جس کی وجہ خون کی شریانوں کا پھیلنا ہوتا ہے، اسی طرح دیگر اجزا جسم میں گردش کرنے والے مضر اجزا کے اثرات کی روک تھام کرکے دل کو صحت مند رکھتا ہے۔

صحت مند اور جگمگاتی جلد
سرسوں کا ساگ وٹامن اے، بی، سی، ای اور کے سے بھرپور ہوتا ہے، جسم یمں جاکر وٹامن اے، سی اور کے اینٹی آکسائیڈنٹس کا روپ اختیار کرکے فری ریڈیکلز سے لڑتے ہیں اور زہریلے اثرات کو دوران خون سے خارج کردیتے ہیں، جس کے نتیجے میں جھریوں، کیل مہاسوں، فائن لائن اور ڈارک اسپاٹس ختم یا کم ہوجاتے ہیں۔

بینائی کے لیے فائدہ مند
ساگ میں موجود اینٹی آکسائیڈنٹس جیسے لیوٹین اور zeaxanthin بینائی کی صحت کے لیے ضروری ہوتے ہیں، یہ عمر بڑھنے سے لاحق ہونے والے امراض جیسے بینائی کی تنزلی اور موتیا وغیرہ کی روک تھام کرتے ہیں۔

کولیسٹرول کی سطح میں کمی اور جگر کے لیے فائدہ مند
ہائی بلڈ کولیسٹرول میٹابولک ڈس آرڈر کی ایک بڑی وجہ ہے، دوسری جانب ہمارا جگر مسلسل کام کرکے بائل یا صفرا کو تیار کرتا ہے جو کہ چربی اور مخصوص وٹامنز کو ہضم ہونے میں مدد دیتا ہے، مگر تکسیدی اور کیمیائی تنا? کے نتیجے میں جگر ورم کا شکار ہوتا ہے جس سے مکتلف امراض کا خطرہ بڑھتا ہے، سرسوں کا ساگ اس حوالے سے فائدہ مند ہے جو کہ صفرا سے بہتر تعلق بناکر کولیسٹرول کے اجتماع کی روک تھام کرتا ہے، ساگ کے پتوں کو ابال کر غذا میں شامل کرنا بلڈکولیسٹرول کو کم جبکہ جگر کو تحفظ فراہم کرتا ہے۔

یاداشت بہتر بنائے
عمر بڑھنے سے یاداشت کمزور ہونے لگتی ہے مگر طبی سائنسی رپورٹس میں سبز پتوں والی سبزیاں دماغی صحت کے لیے فائدہ مند قرار دی گئی ہیں، سرسوں کا ساگ بھی ان میں سے ایک ہے، جس کے ابلے ہوئے پتوں کا ایک کپ روزانہ کھانا یاداشت کو بہتر بناتا ہے بلکہ ذہنی عمر بھی کم کرتا ہے۔ اس ساگ میں موجود آئرن اور کیلشیئم بچوں میں دماغی نشوونما کو بھی بہتر کرتے ہیں۔

قبض سے نجات
ساگ میں موجود فائبر اور فولیٹ آنتوں کی سرگرمی بہتر کتا ہے، کچھ مقدار میں سرسوں کا ساگ کھانے سے جسم کو 3 گرام فائبر ملتا ہے جو قبض سے نجات دلاتا ہے، یہ فائبر آنتوں میں چربی کے اجتماع کو روکتا ہے جس سے بھی قبض کی روک تھام ہوتی ہے۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

 

سرسوں کے تیل سے متعلق اصلی اور خالص مصنوعات خریدنے کیلئے کلک کریں۔

Related Posts