Urdu

سورج مکھی کا تیل کے حیرت انگیز فوائد

جس طرح سورج کی پہلی کرن زمین کو روشن کردیتی ہے بالکل اسی طرح باغات میں لگے سورج مکھی کے پھول دیکھنے والوں کی نگاہوں پر اپنا ایسا رنگ جماتے ہیں کہ دیکھنے والا حیران رہ جاتا ہے۔ سورج مکھی کا پھول زرد ہونے کے ساتھ ساتھ اپنی خوبصورتی میں کوئی مثال نہیں رکھتا۔ سورج مکھی کا نباتاتی نامHelianthus annusہے۔ انگریزی میں اسے sunflowerکہتے ہیں۔ اس کا تعلق فیملی Asteraceae سے ہے۔ سورج مکھی کے پھول زمانہ قدیم سے زمین پرکاشت کیے جا رہے ہیں۔ اس پودے کے تقریباً 2600 قبل مسیح سے میکسیکو میں شواہد ملے ہیں۔

سورج مکھی میں پائے جانے والے کیمیائی اجزا:
سورج مکھی کی تقریباً 136اقسام پائی جاتی ہیں۔ اس پھول کی پیداور دنیا میں سب سے زیادہ روس،چائنا،انڈیا،امریکہ،ترکی میں ہوتا ہے۔سورج مکھی کے پودے میں قدرت نے یہ بھی خوبی رکھی ہے کہ یہ زمین سے زہریلے منرل یورینیم،سیسیم وغیرہ اپنے اندر جذب کرلیتا ہے۔

سورج مکھی کے بیج غذائی ریشہ،پروٹین،وٹامن ای، بی کمپلیکس، میگنیشیم، پوٹاشیم،آئرن،فاسفورس،کیلشیم اور زنک جیسے اہم غذائی اجزا کا اچھا ذریعہ ہے۔ ان میں کولیسٹرول کو کم کرنے والے فائیٹو سٹیرول مرکبات بھی پائے جاتے ہیں۔ بیجوں سے پولی اِن سیچوریٹڈ آئل حاصل کیا جاتا ہے۔اس میں زنک، کوپر اور کیروٹین بھی شامل ہوتا ہے۔

 

سورج مکھی پھول کے حوالے سے کچھ حقائق:
سورج مکھی کے چھوٹے پھولوں کا رخ ہمیشہ مشرق کی جانب ہوتا ہے اور دن کے وقت ان کا رخ سورج کی پیروی کرتا رہتا ہے۔ جب بیجوں کی وجہ سے پھول بھاری ہو جاتے ہیں تو ان کا رخ صرف مشرق کی طرف ہی رہتا ہے۔

سورج مکھی کے پتے اور پھول دونوں سورج کی روشنی سے نشوونما پاتے ہیں۔سورج مکھی کے پھول سورج سے اوکسن نامی ہارمون حاصل کرتے ہیں۔سورج مکھی کے بیچ پروٹین سے بھرپور ہوتے ہیں، اس سے اعلیٰ کوالٹی کا نباتاتی تیل تیار کیا جاتا ہے، جس سے مارجرین اور خوردنی تیل تیار کیا جاتا ہے۔سورج مکھی کا مونگ پھلی کی طرح بٹر بھی بنایا جاتا ہے۔ اس کے تیل کو بائیوڈیزل کے طورپر بھی استعمال کیا جاتا ہے۔

سورج مکھی کی متعدد اقسام ہیں اور اس کے پودے 16 فٹ تک اونچے ہو سکتے ہیں۔ گینیز بک آف ورلڈ ریکارڈ کے مطابق سورج مکھی کا لمبا ترین پودا 30 فٹ ایک انچ کا تھا۔ یہ ریکارڈ سن 2014 میں قائم ہوا۔

سورج مکھی کا خوبصورت پھول لمبے ٹہنی دار پودے پر کھلتا ہے۔ اس کے عام پودے کی لمبائی ایک سے تین میٹر کے درمیان ہوتی ہے اور اس پر ایک یا دو پھول کھلتے ہیں، جب کہ پھول کا قطر تیس سینٹی میٹر تک ہوتا ہے اور یہ ایک ہزار سے زائد بیج تیار کرتا ہے۔ اس کے بیجوں سے صحت اور غذائیت سے بھرپور ہلکی پھلکی غذا تیار کی جاتی ہے۔ پھول کا درمیانی حصہ کھانوں میں بھی استعمال کیا جاتا ہے۔

سورج مکھی کے تیل کے فوائد:
سورج مکھی کے پھول دیکھنے میں ہی حسین اور دلکش نظر نہیں آتے بلکہ قدرت نے ان میں بے شمار خوبیوں کے خزانے پوشیدہ رکھے ہیں۔ سورج مکھی کے پھول سے جہاں بیماریوں کا علاج کیا جاتا ہے وہاں اس کے بیچوں سے حاصل کیا جانے والا تیل صحت اور جلد کے لیے بھی کسی شفا سے کم نہیں۔واضع رہے کہ اٹھارویں صدی عیسوی میں سورج مکھی کا تیل یورپ میں استعمال ہونے لگا تھا۔اس میں چھپے فوائد آپ کو نا صرف حسن کی دولت سے مالا مال کرتے ہیں بلکہ آپ کے دماغ کی طاقت کو بھی بڑھاتے ہیں۔وٹامن ای کی وجہ سے اس کا استعمال دل کے امراض میں بہت مفید ہے۔ اس کے علاوہ اسے کاسمیٹکس میں بطور emollient استعمال کیا جاتا ہے۔

جلد کی نمی کے لیے سورج مکھی کا تیل:
سورج مکھی کے بیجوں میں فیٹی ایسڈز پائے جاتے ہیں جو جلد کو قدرتی نمی فراہم کرتے ہیں۔سورج مکھی کے بیچوں سے نکالا گیا تیل جلد پر لگانے سے جلد نرم و ملائم اور چمک دار ہوجاتی ہے۔چہرے پر ظاہر ہونے والے بلیک ہیڈز کا اگر کوئی دشمن ہے تو وہ ہے سورج مکھی کے تیلوں کا کشید کیا ہوا تیل۔ خشک موسم میں اس کا استعمال بہت فائدہ مند ہے۔

Essential Life

سور ج مکھی کے بیجوں کی خصوصیات
امریکی ماہرین صحت نے کہا ہے کہ خواتین اور بچوں کے غذائی شیڈول میں سورج مکھی کے بیجوں کا مغز ایک بہترین غذا ہے۔ اس کے استعمال سے تھکاوٹ، جھنجلاہٹ، ذیابیطس سے بچاؤ، دل، پٹھوں اور اعصابی بافتوں میں توازن برقرار رہتا ہے۔ یونیورسٹی آف پنسلوینیا کے شعبہ صحت کے ماہرین کی جدید تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ سورج مکھی کے بیجوں میں بھرپور غذائی اجزاء پائے جاتے ہیں۔ انہیں پیس کر یا کوٹ کر دودھ میں شامل کرکے بچوں اور ٹین ایجرز کو پلایا جائے تو یہ ان کی بڑھوتری میں اہم کردار ادا کرتے ہیں اور ان کی غذائی اور پروٹین کی ضروریات بھی پوری کرتے ہیں۔

ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ ناشتے میں سورج مکھی کے بیج کو شامل کرکے صبح کے اس اہم کھانے کو توانائی بھری غذا میں تبدیل کیا جاسکتا ہے کیونکہ سورج مکھی کے بیجوں میں وٹامن ای سے لے کر اینٹی آکسیڈنٹس اجزا موجود ہوتے ہیں اور اگر نصف کپ سورج مکھی کے بیج کھائے جائیں تو اس میں 6 گرام پروٹین،4 گرام فائبر اور وہ تمام ضروری اجزا شامل ہیں۔جو زندگی کو رواں دواں رکھنے کے لیے ضروری ہوتے ہیں۔

سورج مکھی بیجوں کی دیگر خصوصیات
بیجوں میں پوٹاشیم کی مقدار کافی زیادہ ہوتی ہے۔یہ پوٹاشیم روز مرہ کی غذا میں پائے جانے والے سوڈیم کے توازن کو برقرار رکھتی ہے جبکہ اس میں پائی جانے والی میگنیشیم کی وافر مقدار دل، پٹھوں اور اعصابی بافتوں میں کیلشیم اور میگنیشیم کے درمیان مناسب توازن قائم رکھنے میں معاون ثابت ہوتی ہے۔

پھولوں کا بیج رافع سوزش ہے۔تھکاوٹ کو دور کرتا ہے۔جراثیم کش ہے۔دافع تکسید ہے۔پیشاب آور ہے۔بلغم نکالتا ہے۔جسم میں موجود چکنائی کو کم کرتا ہے۔غذائیت بخش ٹانک ہے۔ڈپریشن کو کم کرتا ہے کیونکہ اس میں Tryptophann پایا جاتا ہے جو سیروٹونن بناتا ہے۔سیروٹونن بے چینی اور ذہنی دباؤ کو کم کرتا ہے۔

قوتِ مدافعت کو بڑھاتا ہے اور کینسر سے محفوظ رکھتا ہے۔ بیج میں موجود سیلینیئم بدن میں کینسر کو پھیلنے سے روکتے ہیں۔خلیوں کو فری ریڈیکلز کے نقصان سے بچاتا ہے۔
اس کے علاوہ سورج مکھی کے بیجوں میں موجود میگنیشیئم موڈ کو بہتر کرکے اداسی اور مایوسی کو بھگاتے ہیں۔ ڈپریشن کو کم کرتا ہے کیونکہ اس میں Tryptophanپایا جاتا ہے جو سیروٹونن بناتاہے۔سیروٹونن بے چینی اور ذہنی دباؤ کو کم کرتا ہے۔

سوزش اور زخموں کے جلد مندمل ہونے میں مدددیتا ہے۔آدھے سر کے درد میں فائدہ مند ہے۔

توانائی مہیا کرتا ہے۔

 

سورج مکھی کے بیج شکستہ ڈی این اے کو درست کرنے کے ساتھ ساتھ بدن کو زہریلے مرکبات سے بچاتے ہیں۔

سردی سے بچاتا ہے۔

بیجوں کو ہلکا بھون کر انکا جوشاندہ استعمال کرنا کالی کھانسی کیلیے فائدہ مند ہے۔

گردے اور مثانے کی سوزش میں بہت مفید ہے۔

غذائی ریشے کی موجودگی قبض نہیں ہونے دیتی۔

بیجوں کو ہلکا بھون کر انکا جوشاندہ استعمال کرنا کالی کھانسی کیلیے فائدہ مند ہے۔

ذیابیطس کے دوران پیدا ہونے والی پیچیدگیوں کو کم کرتا ہے۔

خواتین میں حیض کے بند ہونے کے زمانے دوران Hot flashes کی شدت کوکم کرتا ہے۔

دمہ، ہڈیوں اور جوڑوں کی سوزش کے لیے بیجوں کا استعمال فائدہ مند ہے۔

ترکی اور ایران میں بخار میں کونین کے استعمال کے بجائے سورج مکھی کے بیجوں کا سپرٹ کے ساتھ تیار کیا گیا ٹنگچر استعمال کیا جاتا ہے۔

ذیابیطس کے دوران پیدا ہونے والی پیچیدگیوں کو کم کرتا ہے۔

خواتین میں حیض کے بند ہونے کے زمانے دورانHot flashes کی شدت کوکم کرتا ہے۔

دمہ،ہڈیوں اور جوڑوں کی سوزش کے لیے بیجوں کا استعمال فائدہ مندہے۔

ترکی اورایران میں بخار میں کونین کے استعمال کے بجائے سورج مکھی کے بیجوں کا سپرٹ کے ساتھ تیار کیا گیا ٹنگچر استعمال کیا جاتا ہے۔

گردے اور مثانے کی سوزش میں بہت مفید ہے۔

غذائی ریشے کی موجودگی قبض نہیں ہونے دیتی۔

وٹامن ای سے بھرپور یہ تیل عام طورپر کھانے میں استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کا استعما ل دل کے امراض میں بہت مفید ہے۔ اس کے علاوہ اسے کاسمیٹکس میں بطورemollientاستعمال کیاجاتا ہے۔ یہ جلد کو نمی فراہم کرتا ہے۔ تحقیق میں یہ دیکھا گیا ہے کہ چھوٹے بچوں میں جلد کے انفیکشن کے خلاف مدافعت فراہم کرتا ہے۔ جن بچوں کو روزانہ اس تیل سے مالش کی گئی ان میں جلدی انفیکشن کا خطرہ چالیس فیصد کم ہوگیا۔

 

شائستہ لودھی کی خوبصورتی کا راز
کچھ عرصہ قبل مارننگ شو کی میزبان ڈاکٹر شائستہ لودھی نے اپنے انسٹا گرام پر ایک پوسٹ لگائی جس میں انہوں نے کہاکہ خوبصورت لڑکیوں! ایک ڈاکٹر کی حیثیت سے میں آپ کو تجویز کرتی ہوں سورج مکھی کے بیج۔اس میں شامل تیل آپ کی جلد کے لئے بہترین ہے اور یہ آپ کی بائیلوجیکل سائیکل کے لئے بھی بہترین ہے۔میں تو یہ اپنے ساتھ آفس میں رکھتی ہوں اور اسنیک کے طور پر کھاتی ہوں۔آپ لوگ کب کھائیں گی؟ ان کی اس پوسٹ کے بعد اکثر خواتین نے لکھا کہ انہوں نے بھی سورج مکھی کے بیج کو اپنی زندگی کا حصہ بنانا شروع کردیا ہے۔ شائستہ لودھی کی جلد کو دیکھ کر یہ یقین ہوجاتا ہے کہ لازمی انہوں نے اس انوکھے بیج سے کافی فائدے اٹھائے ہیں۔

سوج مکھی کے بیج استعمال کرنے کا طریقہ:
سورج مکھی کے بیجوں کو پیس کر استعمال کیا جا سکتا ہے۔سورج مکھی کی بعض اقسام کے بیج لمبے ہوتے ہیں، جنہیں بھون کر بھی کھایا جاتا ہے۔ سوج مکھی کے بیجوں کے چھلکے اتار کر بھی کھایا جا سکتا ہے۔وہ لوگ جو اس کے چھلکے اتارنا چاہتے ہیں تو ہاتھوں سے بہتر یہ ہوگا کہ آپ اس کو گرائنڈ کریں اور ٹھنڈے پانی میں ڈال دیں۔چھلکے تھوڑی دیر بعد خود ہی اوپر تیرنے لگیں گے۔آپ ان کو چمچے سے نکالیں اور ان میں سے نکالے جانے والے گودے کو باآسانی کھائیں۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

 

سورج مکھی کے تیل سے متعلق اصلی اور خالص مصنوعات خریدنے کیلئے کلک کریں۔

 

Related Posts