Urdu

طبّ ِنبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں شہد کی اہمیت

رب ِ ذوالجلال نے شہد کو باعثِ شفاء قرار دیا ہے؛چنانچہ قرآن میں ارشاد ہے:(النحل:۶۹)ترجمہ: اس(شہد)میں لوگوں (کی بہت سی بیماریوں)کے لیے شفاء ہے۔ اسی آیت کی تفسیر متعدد مفسرین کرام نے کچھ اس طرح کی ہے کہ اللہ تعالی کی وحدانیت اور قدرتِ کاملہ دیکھیے کہ ایک چھوٹے سے جانور کے پیٹ سے کیسا منفعت بخش اور لذیذمشروب نکلتا ہے؛ حالانکہ وہ جانور خود زہریلاہے،زہر میں سے یہ تریاق واقعی اللہ تعالی کی قدرتِ کاملہ کی عجیب مثال ہے،پھر قدرت کی یہ بھی عجیب صنعت گری ہے کہ دودھ دینے والے حیوانات کا دودھ موسم اور غذا کے اختلاف سے سرخ و زرد نہیں ہوتا اور مکھی کا شہد مختلف رنگوں کا ہو جاتا ہے. اسی وجہ سے اللہ تعالی فرماتے ہیں: ترجمہ:اس کے پیٹ میں سے پینے کی ایک چیز نکلتی ہے (شہد) جس کی رنگتیں مختلف ہوتی ہیں۔

Sidr Beri Honey

محسنِ انسانیت جنابِ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کے فرمودات سے بھی شہد کی اہمیت و افادیت کا اندازہ ہوتا ہے،جن میں سے چند کا ذکر کیا جاتا ہے:

حضرتِ ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ا نے ارشاد فرمایا:جو شخص ہر مہینے تین دن تک صبح میں شہد چاٹے تو اس کو کوئی بڑی مصیبت نہیں پہنچے گی۔

حضرت عبد اللہ ص نبی کریم ا کا فرمان نقل فر ماتے ہیں:دو باعثِ شفاء چیزوں کو لازم پکڑ لو ۱: شہداور ۲۔قرآن۔

رسولِ اکرم  کی یہ حدیث ِمبارک بڑی جامعیت کی حامل ہے، اس میں طبِ الٰہی وبشری،دواء ارضی و سماوی اورطبِ جسدی و نفسی کو جمع فرما کر دونوں کو اختیارکرنے کا حکم دیا گیا ہے،لہٰذا جسمانی امراض کے لاحق ہونے کی صورت میں جس طرح اطباء وحکماء کی طرف رجوع کرکے علاج کرانا سنت ہے،بالکل اسی طرح روحانی امراض ( تکبر،عجب، حسد،ریاء وغیرہ) سے اپنے قلب کو پاک رکھنے کے لیے قرآن کریم کی تلاوت،علماء کی راہنمائی میں احادیث کا مطالعہ اور اہل اللہ کی صحبت اختیار کرکے اپنی اصلاح کروانا بھی لازم او ر راحت ِدنیا وی واخروی کے حصول کی شاہِ کلید ہے۔

 ام ّالمومنین حضرتِ عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ آقائے دو جہاں صلی اللہ علیہ وسلم کو میٹھی چیز اور شہد مرغوب تھا۔

۴-حضرتِ ابو سعید  فرماتے ہیں: ایک آدمی سرکارِ دو عالم ا کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوا اور کہا:میرا بھائی پیٹ کے مرض میں مبتلا ہو گیا ہے،آپ انے فرمایا:اس کو شہد پلاؤ،وہ دوسری بار آیا تو پھر آ پ انے اس کو شہد پلانے کی تاکید کی اسی طرح تیسری مرتبہ بھی، جب چوتھی بار بھی آ کر اس نے شکایت کی تو رسول اللہ ا نے ارشاد فرمایا: تمہارے بھائی کا پیٹ تو جھوٹا ہوسکتا ہے؛ لیکن اللہ کا کلام تو سچاہی ہے،اس کو پھر شہد پلاو، اس نے اس مرتبہ جا کر جب شہد پلایا تو اس کو شفا نصیب ہو گئی۔

اس حدیث سے امراضِ بطن میں افادیتِ شہد کا علم ہونے کے ساتھ ساتھ طبّ کے ایک بنیادی اور اہم ترین اصول کی طرف راہنمائی بھی ملتی ہے کہ کسی بھی مرض کے علاج کے لیے دوا کی مقدار،اس کی کیفیت اور مریض کی قوت کی رعایت اور لحاظ رکھنا دوا کے مفید ہونے کے لیے انتہائی ضروری ہے، جیسا کہ مذکورہ بالا حدیث میں چوتھی بارشہد کے استعمال کرنے پر مرض سے افاقہ حاصل ہوا۔

Sidr Beri Honey

شہد کی افادیت اور اہمیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی اہتمام سے اس کو استعمال فرمایا کرتے تھے،آپ کا معمول تھا کہ صبح کو شہد کے شربت کا پیالہ نوش فرماتے اور کبھی عصر کے بعد بھی پیتے تھے،ان اوقات میں جب پیٹ خالی ہو اور آنتوں کی قوتِ انجذاب دوسری چیزوں سے متاثر نہ ہو، شہد پینا جسم کے اکثر و بیشتر مسائل کا حل ہے۔

اب سائنسی تحقیقات سے بھی یہ ثابت ہو گیا ہے کہ قدرت کی طرف سے جتنی اشیاء غذا کے طور پر انسان کو مہیا کی گئی ہیں، ان میں شہد سب سے زیادہ مکمل اور جامع غذا ہی نہیں؛ بلکہ اپنی طبّی خصوصیات کی بنا پر غذا اوردوا کے طور پر لا ثانی ہے؛ چنانچہ یورپ اور دوسرے ممالک میں ایلو پیتھک کی متعدد دواوں میں اس کا بے پناہ استعمال کیا جا رہا ہے،اسی طرح یورپ کے ہسپتالوں میں چہرے کی حفاظت کے لیے جو مصنوعات تیار کی جاتی ہیں ان میں شہد ایک لازمی جزو ہوتا ہے،شہد میں بہترین Presevative ہونے کی بناء پر اُسے پھلوں کو محفوظ رکھنے کے لیے بھی استعمال کیا جانے لگاہے؛ کیونکہ یہ خود بھی خراب نہیں ہوتا اور دوسری اشیاء کی بھی طویل عرصہ تک حفاظت کرتا ہے،یہی وجہ ہے کہ ہزارہا سال سے اطباء اس کو الکحل کی جگہ استعمال کرتے آئے ہیں۔

ماہرین ِ طب نے اپنی تحقیقات اور تجربات کی روشنی میں شہد کے کئی فوائد ذکر کیے ہیں جن میں سے چند فوائد درج ذیل ہیں۔
شہد پیاس کو بجھاتا ہے۔
حافظہ کو قوت بخشتا ہے؛چنانچہ امام ِزہری کا ارشاد ہے: ترجمہ:شہد کا اہتمام کرو؛ کیونکہ یہ حافظہ کے لیے بہترین ہے۔
شہد ردی رطوبتیں نکالتا ہے۔
اس کا کثرتِ استعمال استسقاء،یرقان، عسرالبول،ورمِ طحال،فالج،لقوہ،زہروں کے اثرات اور امراض سر وسینہ میں مفید ہے۔
پتھری کو خارج کرتا ہے۔
باہ، بصارت،اور جگر کو قوت ملتی ہے۔

Lavender Honey

 بو علی سینا اسے مقوی معدہ بھی قرار دیتے ہیں۔
دانتوں کے لیے شہد ایک بہترین ٹانک ہے،اسے سرکہ میں حل کرکے دانتوں پر ملنا ان کو مضبوط کرتا ہے، اور مسوڑھوں کے ورم دور کرنے کے علاوہ دانتوں کو چمکدار بناتاہے،گرم پانی میں شہد اور سرکہ کے ساتھ نمک ملا کر غرارہ کرنے سے گلے اور مسوڑھوں کا ورم جاتا رہتا ہے۔
نہار منہ شہد پینے سے پرانی قبض ٹھیک ہو جاتی ہے،کھٹے ڈکار آنے بند ہو جاتے ہیں اور اگر پیٹ میں ہوا بھر جاتی ہو تو وہ نکل جاتی ہے۔
۰۱- اطباء قدیم نے افیون،پوست اور بھنگ کے نشہ کو زائل کرنے کے لیے گرم پانی میں شہد مفید بتایا ہے۔
– انسان بڑھاپے میں عموماًتین مسائل کا شکار ہو تا ہے:۱۔ جسمانی کمزوری، ۲۔بلغم، ۳۔جوڑوں کا درد،قدرت کا کرشمہ ہے کہ شہد کے استعمال سے یہ تینوں مسائل آسانی سے حل ہو جاتے ہیں۔
شہد میں  خصوصیات ہونے کی بنا پر زخموں پر لگانا یا جلی ہوئی جلد پر لگانا نہایت مفید پایا گیا ہے۔
چہرے سے مہاسے اور پھنسیاں دور کرنے کے لیے بہت اچھا علاج سمجھا جا تا ہے۔
طب ِنبوی کے مشہور مرتب علاء الدین کحال (م۷۲۰ھ -۱۳۲۰م) نے شھد کو اسہال کے علاوہ غذائی سمیت یعنی  میں مفید قرار دیا ہے۔
طالبِ علموں کے لیے انتہائی مفید بتایا جاتا ہے،زیادہ دیر تک پڑھ سکنے کا باعث اور ان کی یادداشت کے بہتر رہنے کا ذریعہ ہے۔
دل کے مریضوں کو اسے پینے کے دوران دورے نہیں پڑتے۔
یہ شہد کی چند خصوصیات تھیں جن سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ قدرت کا یہ عظیم الشان تحفہ کتنی اہمیت و افادیت کا حامل ہے،جوایک معمولی سی مکھی جو ہر قسم کے پھل پھول سے مقوّی عرق اور پاکیزہ جوہر کشید کرکے اپنے محفوظ گھروں میں ذخیرہ کرتی ہے، اس سے حاصل کیا جاتا ہے۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کیلئے ہیں، قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی مشورہ کر لیں۔

شہد سے متعلق اصلی اور خالص مصنوعات خریدنے کیلئے کلک کریں

Related Posts