Urdu

لوبان: جو ایک زمانے میں ہر مرض کی دوا تھا

خوشبو اور علاج کے طور پر چھ ہزار سال سے استعمال کیا جانے والا لوبان (قدیم فرانسیسی زبان ‘فرانک اینسینس’ سے نکلا ہے جس کا مطلب ہے ‘خالص خوشبو’۔لوبان پرانے دور کی ایسپرین، پینسیلین اور ویاگرا بھی تھا، اس کو بواسیر سے لے کر ماہواری کی تکلیف اور میلانوما یعنی رسولی تک ہر چیز کا موثر علاج سمجھا جاتا تھا۔ یونانی فوج کے معالج پیڈینیئس ڈیوسورسائڈس نے لوبان کو ایک عجیب و غریب دوا قرار دیتے ہوئے لکھا ہے کہ چپچپی گوند ‘السر کے کھوکھلے پن کو بھر سکتی ہے’ یا ‘خونی زخموں کو ایک ساتھ جوڑ سکتی ہے۔

لوبان کا درخت:
لوبان کا درخت حبس زدہ آب و ہوا والے علاقے میں اگتا ہے جو ہارن آف افریقہ سے انڈیا اور جنوبی چین تک واقع ہے۔یہ کانٹے دار بڑا درخت ہے۔جس کی شکل لگ بھگ بلوط کے درخت کی طرح ہوتی ہے۔اس کے کانٹے اور پتے جب پک جاتے ہیں تو سرخ ہوجاتے ہیں۔بعض اطباء کے نزدیک یہ درخت املی کے برابر ہوتاہے۔اس کا تناموٹا ہوتاہے۔اورپتے بھی املی کے پتوں کی طرح ہوتے ہیں۔اس کی لکڑی ہلکی اورجلد ٹوٹنے والی ہوتی ہے۔اس کا پھل گول اور سرخ رنگ کا ہوتاہے۔اس کی رال دار گوند کو لوبان کہتے ہیں۔جو درخت کی چھال میں شگاف دینے سے حاصل ہوتی ہے۔اور ہوا لگنے سے جم جاتی ہے۔اس کا رنگ باہر سے بھورا سرخی مائل یا زرد اور اندرسے دودھ کی طرح سفیدہوتاہے۔ایک اور قسم کے لوہان کا رنگ سفید اور سرخی مائل بھورا داغ داریا چتکبرا ہوتاہے۔یہ آپس میں مل کر ڈلے بن جاتے ہیں۔
صومالیہ، اریٹیریا اور یمن جیسے ممالک شورش نے لوبان کی پیداوار پر منفی اثرات مرتب کیے ہیں لیکن پرامن عمان دنیا کا بہترین اور انتہائی مہنگا لوبان پیدا کرتا ہے جسے قدیم مصری باشندے ‘خداؤں کا پسینہ’ کہتے تھے۔

لوبان میں پائے جانے والے کیمیائی اجزا:
لوبان میں ایسڈ ریسن 6فیصد پائی جاتی ہے، 30سے36فیصد گوند، 3فیصد ایسیٹل بیٹا (باسویلک ایسڈ)،بوسویلک ایسڈ، سوڈیم بینزویٹ، اینٹیسول ایسیٹیٹ، C21H34O3 اور فیلینڈرین پائے جاتے ہیں۔

Essential Life

لوبان کے طبی فوائد:
لوبان کے حکما ئے طب نے بہت فوائد بیان کیے ہیں۔ جبکہ اس کا استعمال روحانیات میں کیا جاتا ہے۔

جلد کی حفاظت:
خوبصورت، نرم، ملائم اور چمکدار جلد ہر عورت کا خواب ہوتی ہے۔ جلد کی تازگی اور خوبصورتی ہی چہرے کی خوبصورتی بڑھاتی ہے۔لوبان کے تیل میں قدرت نے یہ خصوصیت رکھی ہے کہ یہ جلد کو سدا جوان، تازہ اور چمکدار رکھتا ہے، جبکہ چہرے پر پڑنے والی جھریوں کو ختم کر دیتا ہے۔

دافع تعفن:
دافع تعفن ہونے کے باعث مرہموں میں شامل کیاجاتاہے۔اور یہ زخموں کو صاف کرنے میں استعمال کیا جاتا ہے۔جلد یا بدن کو صاف کرنے اور خوشبو دار بنانے کے علاوہ دیگر ادویہ کے ہمراہ ابٹن بناکر مالش کیاجاتاہے۔

پرانے زخم:
لوبان میں موجود سوڈیم بینزویٹ زخموں کیلئے بہت مفید ہے۔ ویسے بھی سوڈیم بینزویٹ اکثر مرہموں کا اہم جزو ہوتاہے۔ خاص طور پھپھوندی سے پیدا ہونیوالی سوزشوں‘ داد‘ چنبل اور پرانے ایگزیما میں اس کا استعمال انتہائی مفید ہے۔

کان کا درد:
لوبان کا تیل اور زیتون کا تیل ملا کر اس کے دو یا تین قطرے کان میں ٹپکانے سے کان کے درد کو تسکین دیتاہے۔

قبض کشا:
لوبان قبض کشا ہے، معدہ کے درد کو دور کرتا ہے، کھانے کو ہضم کرتا ہے، معدہ کو تقویت دیتا ہے

Essential Life

گلے کی خارش:
لوبان کے غرارے کرنے سے گلے گی سوزش ختم ہوتی ہے جبکہ یہ زبان کے زخموں کوبھی ٹھیک کرتاہے۔بلغم صاف کرتا ہے اور بلغم پیدا کرنے کی وجہ کو ختم کرتا ہے۔

پرانی کھانسی:
لوبان کا تپ دق، سل اور پرانی کھانسی میں استعمال بہت سی دوسری ادویہ سے بہتر ہے۔یہ سردی کی کھانسی کوبھی دور بھگاتا ہے۔

دانت درد:
لوبان کے کھانے یا اس کے تیل کو لگانے سے دانتوں کا درد جاتا رہتا ہے۔

جراثیم کش:
لوبان ایک جراثیم کش دوا بھی ہے۔ اس کا دھواں ہر قسم کے جراثیم کو مار دیتا ہے۔ اس کے دھویں کی دھونی سے مکھی، مچھر اور دیگر حشرات الارض گھر سے بھاگ جاتے ہیں۔

پیشاب میں رکاوٹ:
لوبان پیشاب آور اثر کی وجہ سے بھی حکمت میں بہت مقبول ہے، یہ گردہ کی سوزش، اور پتھری کو زائل کرتا ہے۔جب پیشاب میں فاسفیٹ زیادہ ہو جائیں تو لوبان کے مرکبات انکو تحلیل کر کے نکال دیتے ہیں۔

اعصابی کمزوری:
لوبان عورتوں اورمردوں کے پٹھوں کی طاقت کیلئے بہت مثبت اثرات مرتب کرتا ہے، اعصابی کمزوری اور خاص طور پر مردانہ کمزوری کیلئے بہت مفید ہے۔

Essential Life

دیگر اشیاء کو محفوظ بنانا:
ادویات اور شربتوں کو تادیر استعمال کرنے اور جراثیم و پھپوند سے بچانے کے لئے ان میں لوبان سے تیار کردہ ایسڈ بینزوئک لازمی ملایا جاتا ہے۔ اس کے ملانے ادویات ایک عرصے تک قابل استعمال رہتی ہیں۔

طب نبویﷺ اورلوبان۔
حضرت علیؓ سے ایک شخص نے مرض نسیان کی شکایت کی تو آپ نے اس سے فرمایا کہ:”لوبان کا استعمال لازمی کرو کہ وہ دل کو مضبوط اور نسیان کو دور کرتا ہے۔ حضرت ابن عباسؓ سے منقول ہے کہ لوبان کو شکر کے ساتھ استعمال کرنا پیشاب اور نسیان کے لیے مفید ہے۔“
حضرت عبداللہ بن جعفر رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:اپنے گھروں میں لوبان اور شیح کی دھونی دیتے رہا کرو۔ ایک دوسری روایت میں ارشاد ہوا: اپنے گھروں میں لوبان اور صعتر کی دھونی دیتے رہا کرو۔

بخور بنانے کی ترکیب:
لوبان، گوگل، حرمل، صندل،اگر، عود
ان سب کو ہم وزن ملا کر بطور بخور دھونی دینے سے گھر سے جراثیم کا صفایا ہوجاتا ہے۔ روحانیات کے عاملین کے مطابق گھر میں روزانہ عصر و مغرب کے درمیان اس بخور کی دھونی سے جنات اور بداثرات دفع ہوجاتے ہیں۔

ماہر نباتات اور ‘بوسویلیا:
خوشبو کے مقدس درخت’ نامی کتاب کے مصنف جوشوا اسلامہ کا کہنا ہے کہ ‘ بین الاقوامی بازار میں خوشبودار تیلوں اور کلیت والی دواؤں میں خوشبودار لوبان میں لوگوں کی تازہ دلچسپیوں نے بوسویلیا کے قدرتی ذخائر پر اثرات مرتب کیے ہیں۔’ بوسویلیا سیکرا کو بین الاقوامی سطح پر تقریباً معدوم ہونے کے خطرے سے دوچار پودوں کی سرخ فہرست میں شامل کیاگیا ہے جبکہ نیچر میگزین میں شائع ایک حالیہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ پیڑ اس قدر تیزی سے ختم ہو رہے ہیں کہ آنے والے 20 سالوں میں لوبان کی پیداوار 50 فیصد ہی رہ جائے گی۔
ایک دوسری رپورٹ میں متنبہ کیا گیا ہے کہ ایک پیڑ سے دس کلو گرام اوسطا خوشبودار گوند حاصل کرنے میں کافی کمی آئی ہے اور اب یہ کم ہو کر 3 کلوگرام فی درخت رہ گیا ہے۔ اس کے ساتھ یہ بھی کہا ہے کہ گذشتہ دو دہائیوں میں ظفار کے سمہان پہاڑی کے قدرتی ذخائر میں بوسویلیا سیکرا کے درخت کی آبادی 85 فیصد کم ہو گئی ہے۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

روغن لوبان سے متعلق اصلی اور خالص مصنوعات خریدنے کیلئے کلک کریں۔

 

Related Posts