Urdu

موسم بہار: کھوئی ہوئی توانائی بحال کرنے کا وقت

موسمِ بہار کی آمد آمد ہے اس موسم میں نئے شگوفے پھوٹتے ہیں، نظاروں میں بانکپن نظر آنے لگتا ہے،باغوں کے حسین مناظر دیکھنے والوں کو عجیب احساس راحت و مسرت سے ہمکنارکرتے ہیں۔دلکشی اور خوبصورتی ہر طرف بکھری نظر آتی ہے۔ جہاں اس موسم میں شباب اپنے عروج پر ہوتا ہے وہیں ہمیں اپنے پہننے اوڑھنے، کھانے پینے میں بہت احتیاط اور اعتدال کی بے حد ضرورت ہوتی ہے۔

موسم بہار میں چونکہ نئی کونپلیں ٖپھوٹتی ہیں لہٰذا اس وجہ سے بہت سے لوگ الرجی کا شکار ہوجاتے ہیں۔ موسم کی اس بدلتی ہوئی صورت حال میں چھوٹے بچے بہت سی بیماریوں کا شکار ہوجاتے ہیں۔ اگر ان کی طرف مناسب اور بروقت توجہ نہ دی جائے تو پھر اِس مہینے کی خوبصورتیاں پریشانیوں اور تکلیفوں میں بدل سکتی ہیں۔

تاہم موسم کی تبدیلی کے ساتھ ہی بیماری کا شکار ہو جانے والوں کے لیے ایک اچھی خبر تو یہ ہے کہ وہ موسم بہار میں اپنی سال بھر کی کھوئی ہوئی توانائی بحال کر سکتے ہیں۔ دوسری یہ کہ اس موسم میں ہونے والی بیماری کے اثرات زیادہ سے زیادہ اپریل کے اواخر تک زائل بھی ہو جاتے ہیں۔

جرمن ڈاکٹر تھامس وائس کہتے ہیں کہ مئی کے مہینے تک لوگوں کا جسمانی نظام نئے سرے سے بحال ہو جاتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ موسم بہار میں ہونے والا بخار اس بات کی نشانی ہوتا ہے کہ انسانی جسم خود کو نئی صورتحال یعنی الٹرا وائیلٹ شعاعوں اور گرمی کے مطابق ڈھال رہا ہے۔ تاہم بدلتے موسم کا عادی ہونے میں بیمار بزرگ افراد کو سب سے زیادہ مشکلات پیش آتی ہیں جبکہ مردوں سے زیادہ خواتین اور بچے اس موسم سے متاثر ہوتی ہیں۔

Essential Life

اس موسم میں تھکن کیوں طاری ہوتی ہے؟ تواس کی ایک وجہ بتاتے ہوئے ڈاکٹر شیلبرگ کہتے ہیں کہ بہار میں بہت سے بیکٹریا فعال ہو جاتے ہیں۔ اکثر لوگوں کو اس بات کا احساس نہیں ہو پاتا کہ انہیں کوئی انفیکشن ہو گیا ہے۔ ان کا جسم بغیر کسی بیماری کے آثار ظاہر کیے انفیکشن کے خلاف لڑتا رہتا ہے، جس کے باعث لوگوں کو اپنے اندر توانائی کی کمی محسوس ہوتی ہے۔

اس موسم میں توانائی کی کمی اور تھکن کی کیفیت کا مقابلہ کرنے کے لیے ڈاکٹر تھامس وائس کہتے ہیں کہ ان دنوں لوگوں کو کوشش کرنی چاہئے کہ وہ ورزش کریں،تاکہ موسم کی مناسبت سے جسمانی نظام کے نئے حالات سے مطابقت پیدا کرنے کا عمل تیز ہو سکے۔

دوسرے چونکہ سردیوں کے ختم ہوتے ہی اس ماہ کا آغاز ہوتا ہے اس لیے سردیوں کے غذائی اثرات بھی ہمارے جسم پر ہوتے ہیں لہٰذا اس ماہ میں ہمیں متوازن غذا کھانے کیَ ضرورت ہوتی ہے۔پھر اس موسم کے ختم ہوتے ہی گرمیوں کا مہینہ شروع ہوجاتا ہے اور گرمیوں میں بچوں کو بہت سی بیماریاں مثلاً خسرہ، چیچک،کالی کھانسی،فلو اور جلدی بیماریاں وغیرہ کے امراض سے دوچار ہونے کا خدشہ ہوتا ہے۔ہمیں پوری کوشش کرنی چاہیے کہ اس ماہ میں ہم اپنا نظام ہاضمہ درست رکھ سکیں۔

Essential Life

کوشش کی جائے ان بیماریوں کے آنے سے پہلے ہی چند احتیاطی تدابیر ااختیار کرلی جائیں، مثلاً

*سب سے پہلے تو رات کوجلد سونے اور صبح جلد بیدار ہونے کی عادت ڈالیں۔
*بہت زیادہ گرم میوہ جات اورٹھنڈی اشیاء وغیرہ سے پرہیز کیا جائے۔
*بہت زیادہ میٹھا اور کھٹا کھانے سے بھی اجتناب کرنا چاہیے۔
*ہلکی پھلکی ورزش کو اپنا معمول بنالیں، خاص طور سے چہل قدمی کی جائے۔
*غذاؤں کو رنگ دار بنانے والے کیمیکلز اور تیز مرچ مسالوں سے بھی اجتناب ضروری ہے۔
*بلا ضرورت دوا استعمال کرنے سے گریز کریں۔
*نہانے کے لیے نیم گرم پانی استعمال کریں،بالخصوص بچوں کو یکدم ٹھنڈے پانی سے نہ نہلایا جائے۔
* موسمی پھلوں اور سبزیوں کاا ستعمال زیادہ سے زیادہ کیا جائے تو نظام ہاضمہ بھی درست رہے گا۔
*موسم بدلتے ہی فوراً گرم کپڑوں کو خیرباد نہ کہہ کر ہلکے پھلکے کپڑے نہ زیب تن نہ کریں بلکہ رفتہ رفتہ یہ تبدیلی لائیں۔
*اس موسم میں تبدیلی کے سبب اکثر بچوں اور بڑوں کو بخار کی شکایت بھی ہوجاتی ہے،لہٰذا جوشاندہ کا استعمال بھی سود مند ہے۔
*یکدم کھلے آسمان کے نیچے یا ایئر کنڈیشنر میں سونے سے گریز کریں، ورنہ یہ بدلتا موسم آپ کو مشکل میں ڈال سکتا ہے۔
*کوشش کریں ناشتہ ہلکا کریں، جیسے ڈبل روٹی مکھن، انڈا وغیرہ۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

معیاری اور خالص مصنوعات خریدنے کیلئے کلک کریں: