Urdu

مکئی غذا بھی اور دوا بھی

مکئی ایک اہم اجناس میں شمار ہوتی ہے۔اس کی کاشت پوری دنیا میں کی جاتی ہے۔مکئی کی اہم دو اقسام ہیں:زرد اور سفید۔مکئی کا ذائقہ نہایت عمدہ ہوتا ہے،جب کی زرد مکئی غذائیت کے اعتبار سے اچھی ہوتی ہے۔زرد رنگ کی مکئی میں بیٹا کیروٹین پائی جاتی ہے۔بیٹاکیروٹین نہ صرف جسم میں حیاتین الف (وٹامن اے) تیار کرنے میں مدد دیتی ہے،بلکہ اس کے ہضم وجذب میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔بیٹاکیروٹین آنکھوں کی صحت کے لیے بھی بہت فائدہ مند ہے۔

مکئی میں کاربن کی مقدار زیادہ ہوتی ہے،اسی لیے یہ تیزی سے اْگتی ہے اور اس کی پیداوار زیادہ ہوتی ہے۔مکئی ہمارے ملک میں بہت شوق سے کھائی جاتی ہے۔اس کے نرم اور میٹھے بْھٹے بھْون کر یا اْبال کر کھائے جاتے ہیں۔لوگ گرم بھْٹے پر نمک یا لیموں چھڑک کر کھاتے ہیں۔اس کے دانے بہت مزے دار ہوتے ہیں۔بچے اس سے تیارکردہ پاپ کارن بہت پسند کرتے ہیں۔بعض لوگ سادہ بھْٹا کھاتے ہیں۔

مکئی سے آٹا بھی بنایا جاتا ہے۔آٹے سے مختلف قسم کی اشیا بنائی جاتی ہیں۔کوہستانی علاقوں میں اس کی روٹی بنا کر ساگ کے ساتھ کھائی جاتی ہے۔مکئی کی روٹی غذائیت سے بھرپور ہوتی ہے۔مکئی سے دلیا بھی بنایا جاتا ہے۔مکئی دنیا بھر میں غلے کی حیثیت سے جانی جاتی ہے۔

مکئی میں پائے جانے والے کیمیائی اجزا:
غذائیت سے بھرپورمکئی میں نشاستہ، ریشہ، حیاتین، فولیٹ اور معدنیات بہت مقدار میں ہوتے ہیں۔ میٹھی زرد مکئی کے ایک کپ (164 گرام) میں 177 حرارے، 41 گرام نشاستہ، 5.4 گرام لحمیات، 2.1 گرام چکنائی، 4.6گرام ریشہ، روزانہ کی ضرورت کا 17 فیصد وٹامن سی، 24 فیصد تھیامین (وٹامن بی 1)، 19 فیصد فولیٹ (وٹامن بی9)، 11 فیصد میگنیشیم اور 10 فیصد پوٹاشیم ہوتا ہے۔ جبکہ اس کے تیل کی بات کی جائے تو اس میں فیٹی ایسڈز کی وجہ سے لیولولک ایسڈ، ٹائسیلگلیسرول، اینٹی آکسیڈنٹ، فیٹوسٹیرول، ٹوسٹرول جیسے مرکبات پائے جاتے ہیں جو صرف کھانے کے ذائقہ کو برقرار رکھنے میں مدد نہیں دیتے بلکہ صحت کے لئے بھی بہت اہم ہے۔

Essential Life

مکئی کی تاریخ:
مکئی کااصل وطن جنوبی امریکا ہے۔مکئی نشاستہ دار سبزی اور اناج ہے۔ صدیوں سے اسے دنیا بھر میں کھایا جا رہا ہے۔ یہ گھاس کے خاندان سے تعلق رکھتی ہے۔یہ ریشے، حیاتین اور معدنیات کا بھرپور ذریعہ ہے۔ مکئی کی عمر 9000 برس ہے۔ مقامی امریکی اسے اگاتے تھے اور یہ خوراک کا بنیادی ذریعہ تھی۔ عام طور پر مکئی زرد رنگ کی ہوتی ہے لیکن یہ سفید، سرخ، جامنی اور نیلے رنگ میں بھی پائی جاتی ہے۔ اسے مختلف طریقوں سے پکایا جاتا ہے اور مختلف طرح کے کھانوں میں استعمال کیا جاتا ہے۔ اسے جانوروں کی خوراک بھی بنایا جاتا ہے۔ دورِ جدید میں اس سے ایندھن بھی تیار کیا جاتا ہے۔ مکئی کی کل امریکی پیداوار کا 40 فیصد ایندھن بنانے کے کام آتا ہے، جبکہ دنیا میں مجموعی طور پر 60 سے 70 فیصد مکئی جانوروں کی خوراک بنتی ہے۔

مکئی کا صحت بخش تیل
مکئی کا تیل (Corn Oil)مکئی کے بیجوں سے حاصل کیا جاتا ہے۔اس میں ایسی چکناہٹ ہوتی ہے، جو کولیسٹرول کو کم کرنے میں مدد دیتی ہے۔یہ تیل دوسرے تیلوں سے تھوڑا مہنگا ہوتا ہے۔یہ قلب کے لیے مفید ہے۔صارفین کے لیے اسے بوتلوں اور ڈبوں میں محفوظ کر دیا جاتا ہے۔ماہرینِ صحت کے مطابق زیتون کے تیل کے بعد مکئی کا تیل دوسرے تیلوں کے مقابلے میں زیادہ صحت بخش پایا گیا ہے۔مکئی کھانے سے خون میں کولیسٹرول کی سطح کم ہوجاتی ہے۔

نشاستہ سے بھرپور خوراک:
خوراک میں نشاستہ کی زیادہ مقدار قولون کینسر‘ کولیسٹرول اور آئی بی ایس کے خطرات کم کرنے کا موجب بنتی ہے۔ تحقیقی ماہرین کے مطابق جو لوگ مکئی کا استعمال کرتے ہیں ان میں بلڈشوگر‘ انسولین کی مقدار مناسب حد تک کنٹرول کی جاسکتی ہے۔ اس حوالے سے ماہرین نے دو ایسے گروپس میں شامل افراد کا موازنہ کیا جو ٹائپ ٹو ذیابیطس میں مبتلا تھے۔ ایک گروپ نے فائبر (نشاستہ) پر مشتمل غذا کا استعمال کیا جبکہ دوسرے گروپ نے کم نشاستہ والی غذا استعمال کی گئی۔ پہلے گروپ میں صحت کی جانب سے مثبت نتائج ظاہر ہوئے کیونکہ ان افراد نے چوبیس گرام تک فائبر روزانہ استعمال کیا جبکہ دوسرے گروپ میں کولیسٹرول اور بلڈشوگر کی شکایات بدستور جاری رہیں۔مکئی کو پاپ کارن‘ سوپ‘ سلاد اور سالن وغیرہ میں پکایا جاتا ہے اور ایک طرح سے اس کو گرمیوں میں باربی کیو کے طور پر بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔ مکئی کے بھٹے اور سٹے بچوں میں مقبول عام ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پھلوں اور سبزیوں میں اگر مکئی کو زیادہ ترجیح دی جائے تو زیادہ مفید ہے۔

Essential Life

مکئی کھانے کے حیرت انگیز فائدے

آنکھوں کیلئے مفید:
مکئی میں لوٹین اور زیاکسن تھین زیادہ مقدار میں ہوتے ہیں۔ یہ دونوں کیروٹینائیڈز ہیں جو آنکھ کے عدسے کے دھندلے پن (cataracts) اور عمر کے ساتھ پٹھوں میں آنے والی کمزوری کو روکتے ہیں۔ دراصل ہماری آنکھ کا وہ حصہ جو پٹھوں پر مشتمل ہے، اس میں ان اجزا کی زیادہ مقدار پائی جاتی ہے۔ 365 بالغوں پر ہونے والی ایک تحقیق سے معلوم ہوا کہ جو افراد کیروٹینائیڈز، لوٹین اور زیاکسن تھین کی زیادہ مقدار کھاتے ہیں، ان میں عمر کے ساتھ پٹھوں کی کمزوری کا امکان تھوڑا کھانے والوں کی نسبت 43 فیصد کم ہوتا ہے۔

آنتوں اور انہضام کے مسائل:
آنتوں اور انہضام کے مسائل مکئی میں پایا جانے والا ریشہ آپ کو فائدہ پہنچا سکتا ہے۔ ریشے سے بہت سے امراض کا امکان کم ہو جاتا ہے جن میں دل کی بیماریاں اور چند اقسام کے سرطان شامل ہیں۔ مکئی نظام انہضام کے متعدد مسائل سے بچا سکتی ہے جن میں ”ڈائیورٹیکولر“ کا مرض شامل ہے جس کی اہم خصوصیت ہاضمے کے راستے میں سوزش کا ہونا ہے۔بالغ مردوں پر ہونے والی ایک تحقیق سے پتا چلا کہ ہفتے میں دو بار پاپ کارن کھانے والوں میں اس بیماری کا خطرہ قابلِ ذکر حد تک کم ہو جاتا ہے۔

شوگر:
ماہرین کے مطابق جو لوگ مکئی کا استعمال کرتے میں ان میں بلڈ شوگر، انسولین کی مقدار مناسب حد تک کنٹرول کی جاسکتی ہے۔ اس حوالے سے ماہرین کے دو ایسے گروپس میں شامل افراد کا موازنہ کیا جو ٹائپ ٹو ذیابیطس میں مبتلاء تھے۔ ایک گروپ نے فائبر (نشاستہ) پر مشتمل غذا کا استعمال کیا جبکہ دوسرے گروپ نے کم نشاستہ والی غذا استعمال کی۔پہلے گروپ میں صحت کی جانب سے مثبت نتائج ظاہر ہوئے کیونکہ ان افرادنے چوبیس گرام تک فائبر روزانہ استعمال جبکہ دوسرے گروپ میں کولیسٹرول اور بلڈ شوگر کی شکایات بدستور جاری رہیں۔مکئی کو پاپ کارن، سوپ سلاد اور سالن وغیرہ میں پکایا جاتاہے اور ایک طرح سے اس کو گرمیوں میں باربی کیو کے طور پر بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔

دل:
مکئی کا تیل وہ واحد اور جامع مرکب ہے جس میں لینولک ایسڈ اور وٹامن ای ایک ساتھ پایا جاتا ہے یہ دونوں مرکبات آپس میں مل کر دل کو صحت مند کرنے کا اہم کام انجام دیتے ہیں اور ہارٹ اٹیک کے خدشے کو بڑھنے سے روکنے میں مددگار ہیں۔

Essential Life

کولیسٹرول:
اگر کسی فرد کا کولیسٹرول بہت بڑھ گیا ہوتو اسے چاہیے کہ وہ روزانہ مکئی کی روٹی ساگ کے ساتھ کھائے۔اس طرح نہ صرف اس کے جسم کو درکار ریشے(فائبر)کی مقدار خوب مل جائے گی،بلکہ چند دن بعد کولیسٹرول کی سطح میں بھی کافی حد تک کمی واقع ہوگی۔اس کے علاوہ آنتوں کی کارکردگی بھی بہتر ہوجائے گی۔

سوزش:
اس میں اومیگا فیٹی ایسڈز پائے جاتے ہیں جو جسم کے کسی بھی حصے میں ہو جانے والی سوزش اندرونی ہو یا بیرونی اس کو کنٹرول کرنے کا اہم کام کرتے ہیں۔ سوزش کسی چوٹ یا زخم کی وجہ سے ہو یا کسی اندرونی مسئلے کی وجہ سے یہ آئل آپ کے لئے دونوں میں مفید ہے۔

ہڈیوں کی مضبوطی:
مکئی کا آئل آپ کو جلد بوڑھا ہونے سے بچاتا ہے کیونکہ اس میں کیلشیئم اور پوٹاشئیم کی ایک اچھی مقدار پائی جاتی ہے اور یہ دونوں مرکبات آپس میں مل کر ہڈیوں کی حفاظت کرتے ہیں۔

مکئی کے دیگر استعمال:
روزمرہ کے کھانوں میں مکئی کا تیل استعمال کیا جاتا ہے تاکہ خود کو صحت مند بنایا جاسکے۔
اس تیل کو روزانہ نہارمنہ ایک چمچ پینے سے وزن کو گھٹانے میں مدد ملتی ہے۔
بالوں میں مکئی کا تیل لگائیں اور آپ دیکھیں کے دوشاخہ بالوں سجلد ہی نجات مل جائے گی۔
دانت کے درد میں مکئی کے تیل میں لونگ بھگو کر دانتوں میں رکھنے سے آپ کو لونگ اور مکئی دونوں کے مرکبات کی وجہ سے جلد آرام مل سکے گا۔
جسم میں خشکی زیادہ ہونے کی صورت میں آپ اس آئل سے مالش کریں۔
مکئی کا تیل بدن کو فربہ کرتا ہے لیکن جس کو موافق نہ آئے اس کو لگاتار کھانے سے دست آنے لگتے ہیں۔
اس کی گلی کا کوئلہ کرکے اور پیس کر پھانکنا حیض اور بواسیر کے خون کو بند کرتا ہے۔
مکئی کی گُلی چھ ماشہ ہیضہ کے مریض کو پیس کردیں تو فوراً فائدہوتا ہے۔
اس کی گُلی کی راکھ میں نمک ملا کر پھنکی لگانے سے کالی کھانسی اور زکام کی کھانسی کو بہت فائدہ وہتا ہے۔
اس کی داڑھی کا جوشاندہ پلانے سے مثانہ کے امراض اور پیشاب کی جلن دور ہوتی ہے اور پیشاب خوب آتا ہے۔

Essential Life

مکئی کا تیل بنانے کی ترکیب:
مکئی کا تیل آپ گھر میں بھی بنا سکتے ہیں مگر اس کے لئے آپ کو بہت زیادہ محنت درکار ہوسکتی ہے۔ اس کو بنانے کے لئے آپ مکئی کے دانوں کو لگ کرلیں اور انھیں ایک بھگونے میں ڈال لیں۔اب اس میں پانی ڈالیں اور خوب پکائیں تاکہ مکئی کے دانے نرم ہوجائیں۔
20 منٹ بعد جب آپ مکئی کے دانوں کو بھگونے سے نکالیں گی تو وہ نرم ہوجائیں گے اب ان دانوں کو کرش کرلیں اس طرح وہ الگ الگ ہوجائیں گے اور ان کے اندر کا گودا سا نکل آئے گا۔
پھر اس گودے کو تین کپ پانی ڈال کر خوب پکائیں اور ہلکی آنچ پر دو گھنٹے کے لئے رکھ دیں بیچ میں چمچ چلاتے جائیں۔ اس طرح پانی سوکھ کر نیچے پیندے میں چپک جائے گا اور مکئی کا تیل بھگونے کی اوپری سطح پر آجائے گا۔
لیجیے تیار ہے گھر کا بنا مکئی کا تیل۔ اب آپ اس کو ایک دن کھلا رکھیں۔ جہاں سورج کی روشنی اس پر پڑ سکے تاکہ اس کے اندر موجود کثافتیں زائل ہوجائیں۔ اب اس تیل کو جس طرح چاہیں استعمال کریں۔

مکئی کی داڑھی کے فوائد:
خالق کائنات نے اس دنیا میں کوئی چیز ایسی نہیں بنائی، جس کا بنی نوع انسان کو فائدہ نہ ہو۔ مکئی کے لاتعداد فوائد ہیں مگر مکئی کے بال جسے داڑھی بھی کہا جاتا ہے، اس کے بھی فوائد کم نہیں ہیں۔طب یونانی میں مکئی کے بال امراض و علاج کیلئے بکثرت مستعمل ہیں۔ قدرت نے ان کے اندر بہت مفید و موثر اجزاء رکھے ہیں مثلاً سوڈیم، پوٹاشیم، نائٹروجنی مادے، ایک قسم کا تیل، میگنیز، سلی کون، کوبالٹ اور کچھ مقدار کیلشیم اور فاسفورس کی پائی جاتی ہے۔

گردے کے امراض:
مکئی کے بال گردے کے امراض کیلئے بہت مفید و موثر ہیں۔ اگر گردے میں ریگ یا پتھری ہو تو اس کو پیشاب کے ذریعے نکالنے میں ممدو معاون ہے اس طرح اگر گردے میں زخم یا انفیکشن ہو تو اس کو ختم کرنے کیلئے مفید ہے۔ بعض اوقات گردے کی جسامت میں کمی واقع ہونا شروع ہوجاتی ہے تو مکئی کے بال اس کیلئے مفید ہیں۔ موجودہ دور میں گردے کا سب سے بڑا مرض گردے کی پتھری یا مثانے کی پتھری ہے اس ضمن میں اگر مکئی کے بال20 گرام اور سرپھوکا(یہ دوائی پنساریوں سے عام مل جاتی ہے)10 گرام لے کر250 گرام سخت گرم پانی میں رات کو بھگو کر رکھیں۔ صبح ان ادویہ کو سردائی کی طرح رگڑ کر چھان کر کچھ عرصہ صبح و شام پلائیں۔ اگر موسم سرد ہو تو نیم گرم پلائیں۔ اگر موسم
گرم ہو تو ٹھنڈا کرکے پلائیں۔ اگر گردے سے چربیلے مادے خارج ہورہے ہوں یا پیشاب میں پیپ خارج ہورہی ہو تو مذکورہ ترکیب بہت فائدہ مند ثابت ہوتی ہے۔ اگر گردے کے اندر پتھری بار بار بن جاتی ہو تو اس کا استعمال اس عمل کو روک دیتا ہے۔

Essential Life

پتہ کی پتھری:
روغن زیتون کے اندر مکئی کے بال جلائیں اور اس روغن کو استعمال کیا جائے تو بہت مفید ہوتا ہے۔

امراض قلب:
امراض قلب کیلئے اس کے فوائد بہت زود اثر پائے گئے ہیں۔ جب خون کے اندر کولیسٹرول اور لسی تھین کی مقدار بڑھ جائے تو مکئی کے بال اس کی مقدار کو کنٹرول کر تے ہیں اور ان کو معمول کی مقدار پر لاتے ہیں۔

جسم میں زہر کے اثرات:
بعض اوقات کسی زہر کے جسم میں داخل ہونے سے جسم کے اندر زہر کے اثرات مرتب ہوتے ہیں یا کسی آدمی کو سانپ نے کاٹا ہو اور کچھ عرصہ بعد جلد پھٹ جائے یا جلد پر سیاہ رنگ کے دھبے پڑ جائیں تو اس صورت میں اس کا استعمال بہت مفید ہے۔

مکئی کی داڑھی کا سوپ:
اگر اس کے فوائد کو تمام سال کے لیے محفوظ و مامون رکھنا ہو تو مندرجہ ذیل ترکیب سے بناکر محفوظ رکھیں۔ مکئی کے بال ایک کلو، سرپھوکا آدھاکلو۔دونوں پانی میں خوب ابال کر پھر چھان کر مناسب چینی ملاکر شربت تیار کریں اور استعمال میں لائیں۔

احتیاط: ذیابیطس میں مبتلا افراد کو نشاستہ دار غذاؤں کا استعمال کم کرنا چاہیے جس میں مکئی بھی شامل ہے۔ وہ افراد جو اپنا وزن کم کرنا چاہتے ہیں، انہیں نشاستہ دار غذائیں کم کھانی چاہئیں۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

 

مکئی کے تیل سے متعلق اصلی اور خالص مصنوعات خریدنے کیلئے کلک کریں۔

 

Related Posts