Urdu

نیم کے درخت کے فائدے ہزار

نیم ایک گھنا سایہ دار درخت ہے، لیکن یہ بکائن کی طرح محض سایہ کی خاطر ہر دلعزیز نہیں بلکہ اس کے بے انتہا فوائد بھی ہیں۔ نیم کا پھل بھی بکائن کی طرح ہوتا ہے جس کو نمکولی کہتے ہیں۔ پکنے پر اس میں قدرے مٹھاس سی آجاتی ہے۔ یہ درخت، بڑ کی مانند چاروں طرف پھیلتا ہے۔ اس کا تنا بھی موٹا ہوتا ہے۔ جب یہ درخت پرانا ہو جاتا ہے تو اس میں سے ایک قسم کی رطوبت خارج ہونا شروع ہو جاتی ہے جو نہایت شیریں ہوتی ہے۔ لوگ اس کو جمع کرکے بطور خوراک استعمال کرتے ہیں۔ اس کے پتے بھی طبی خواص رکھتے ہیں۔ اس کے جوشاندے میں نہانے سے خارش دور ہو جاتی ہے۔ زخموں پر بھی باندھے جاتے ہیں۔ یہ بہترین جراثیم کش درخت ہے۔جوشاندہ معدے کو بھی درست کرتا اور خون کو صاف کرتا ہے۔ لیکن کڑوا ضرور ہوتا ہے۔ اس کی لکڑی بکائن سے مضبوط ہوتی ہے۔ اگر اس کی لکڑی سے صندق یا الماریاں بنا کر کپڑے رکھے جائیں تو ان کو کیڑا نہیں لگتا۔

نیم درخت کا تعارف
نیم کے درخت کی تاریخ قریب 4000 سال پرانی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ خوبصورت اور گہرے سبز پتوں والا چھتری نما درخت نیم انگریزوں کا پسندیدہ درخت ہے۔ اس درخت کو انگریزی میں Margosa Tree کہتے ہیں اور اس کانباتاتی نام Melis Azedarach ہے۔ عربی و فارسی میں نیب اور پنجابی میں اسے نم کہتے ہیں۔جبکہ ویدک سنسکرت میں اس کا نام نمبا (NIMBA) ہے۔

یہ ایک سدا بہار درخت ہے اور ہر طرح کے موسم کو برداشت کرنے کی قوت رکھتا ہے۔ نیم کا درخت بذات خود تو کڑوا ہوتا ہے لیکن اس کا بیج نمولیاں میٹھی ہوتی ہیں۔ شاخیں تریاق کا کام دیتی ہیں۔ جون کی گرمی میں اس کا بیج بخوبی پک جاتا ہے۔ یہ بیج جنہیں نمولیاں بھی کہا جاتا ہے پکنے کے بعد بیج بن جاتا ھے جو اسی وقت لگا دینا چاہیے۔ بیج لگانے کے بعد ایک ہفتے میں پودا نکل آتا ہے۔

نیم کے پیڑ 30 سے 40فٹ اونچے اور خوب سایہ دار ہوتے ہیں۔ یہ سائے کے لحاظ سے اپنا کوئی ثانی نہیں رکھتا۔ اس کے پتے نوک دار لمبوترے دو ڈھائی انچ لمبے کنارے کٹے ہوئے ہوتے ہیں۔ پتے نہایت خوبصورت ہوتے ہیں۔ ٹہنی چھ سے دس انچ لمبی جن پر پتوں کے چھ سے گیارہ جوڑے لگتے ہیں۔ موسم بہار کے شروع میں پتے جھڑتے اور نئے سرخ رنگ کے ملائم چمک دار اور خوبصورت پتے نکلتے ہیں۔ جو نکلتی دھوپ میں بڑا ہی خوبصورت نظارہ دیتے ہیں۔

اس کا تنا اور شاخیں سیاہی مائل سبز ہوتی ہے۔ موسم بہار کے آخر میں بہت چھوٹے سفید رنگ کے پھول لگتے ہیں اور پھولوں کے بعد پھل گچھوں میں جوپہلے سبز رنگ کے نیم گول لمبے پتلے پکنے پر ان کا رنگ پیلا ہوجاتاہے۔اور پھل جون میں پک جاتے ہیں جس کو بچے اور بڑے شوق سے کھاتے ہیں۔ ان پھلوں کے اندر تخم ہوتے ہیں۔جن کو نمبولی کہتے ہیں۔اس سے تیل نکالا جاتا ہے جوکہ ادویات اور صابن بنانے کے کام آتا ہے۔ نیم نر درخت کے تنے میں سے ایک قسم کا گاڑھا مادہ خارج ہوتاہے اس کو ہندی میں نیم کا مدھ کہتے ہیں۔ اس درخت کی عمر دو سو برس سے پانچ سو سال تک ہوتی ہے۔ اس درخت کے تمام اجزاء پتے پھول تخم چھال پھل اور گوند بطوردواء استعمال ہوتے ہیں۔

نیم میں پائے جانے والے کیمیائی اجزا:
قدرت کے بے بہا قیمتی تحائف میں سے نیم کا درخت ایک ایسا انمول تحفہ ہے جس کا ایک ایک ذرہ انوکھے فوائد کا حامل ہے۔ خواہ پھل ہو، پتے ہوں، ڈالیاں ہوں، ان میں بے شمار فوائد ہیں مگر نقصانات سے بالکل پاک ہے۔ نیم ایک اینٹی بیکٹیریل ہے۔اینٹی پیراسائٹک ہے، اینٹی فنگل ہے، اینٹی انفلامیٹری ہے،نیم میں موجود ”وٹامن سی“ جلدی امراض میں نہایت کارآمد ثابت ہوتی ہے۔ مانع وائرس ہے۔ جو سوزش، پیچش،دست اور بخار وغیرہ کے علاج میں فائدہ مند ثابت ہوتے ہیں۔ نیم جراثیم کش ہونے کے سبب اس کے تیل میں 135 کیمیائی اجزاء پائے جاتے ہیں،جن میں شامل Quercetin اور Beta-Sitosterol جراثیم اور پھپوند کے علاج کے لئے مفید ہیں۔نیم کی چھال سے کشید کردہ محلول میں پرولین بھی پایا جاتا ہے، جو جوڑوں کے درد کے لئے اکسیر ہے۔

نیم کی 1250 ایم جی  خوراک کھانے سے گلوکوز 15 فیصد،یوریا 13 فیصد،کریٹنین 23 فیصد اور چکنائی 15 فیصد کم ہو جاتی ہے۔ واضح رہے کہ چکنائی، ٹرائی گلیسرائڈ اور کولیسٹرول کی مقدار میں کمی بلڈ پریشر،امراض قلب،فالج اور ذیابیطس،جب کہ یوریا اور کریٹنین کی کمی امراض گردہ میں فائدہ مند ثابت ہوتی ہے۔

نیم کے بعض اجزاء جراثیم کے خلاف کام کرتے ہیں۔ ممکنہ طور پر نیم مختلف خامروں (Oxidative Enzymes) کو متحرک کرتا اور جراثیم کی خلیاتی دیوار توڑ دیتا ہے۔ واضح رہے کہ ضد حیوی ادویہ (Antibiotics) بھی جراثیم کی خلیاتی دیوار توڑ کر ان کے خاتمے کا باعث بنتی ہیں۔ کسی بھی فرد میں بیماری کا ایک ممکنہ سبب آزاد اصلیے (Free Radicals) بھی ہوتے ہیں۔ آزاد اصلیے اوکسیجن کے متحرک یا ایکٹیو عناصر کو کہتے ہیں۔

نیم کے فوائد
نیم کا استعمال طبی مقاصد کیلئے صدیوں سے ہوتا چلا آ رہا ہے اور خصوصاً برصغیر میں اس کی طبی اہمیت مسلمہ ہے۔ جلدی مسائل کے حل اور خوبصوری میں اضافہ کیلئے نیم کے پتے مجرب نسخے ہیں، اس کے کچھ اہم فوائد مندرجہ ذیل ہیں۔

جلد کے انفیکشن اور کھجلی سے نجات:
نیم کے پتے پانی میں ابال لیں۔ جب پتے نرم ہو جائیں اور پانی سبزی مائل ہو جائیں تو پانی کو چھان لیں، غسل کرتے وقت نیم کا پانی دوسرے پانی میں ملا لیں، اس سے جلد کے انفیکشن اور کھجلی سے نجات مل جائے گی۔

جلدی دانوں کا خاتمہ:
جلد کے دانوں کے خاتمہ کیلئے مندرجہ بالا طریقہ سے ابالے گئے پانی میں روئی بھگو کر متاثرہ جگہ پرلگائیں۔ آپ نیم کے پانی کو کھیرے یا دہی کے ساتھ ملا کر بھی متاثرہ جگہ پر لگا سکتے ہیں۔

چہرے کی جھریاں:
نیم کے پانی کو چہرے کی جلد پر لگانے سے جلد جھریوں محفوظ رہتی رہے اور رنگت بھی نکھر جاتی ہے۔

جلد کی تروتازگی
خشک جلد کو تاروتازہ کرنے کیلئے نیم پاؤڈر میں چند قطرے گلاب کا عرق  ڈال کر متاثرہ جگہ پر لگائیں اور تقریباً دو منٹ تک لگائے رکھنے کے بعد پانی سے دھو دیں۔

چہرے کے کیل مہاسے:
چہرے کے کیل مہاسوں کے علاج کیلئے نیم کے پتوں اور مالٹے کے چھلکے کو اکٹھا کوٹ لیں اور اس میں شہد، سویا ملک اور تھوڑا سا دہی شامل کر لیں، اس آمیزے کو ہفتہ میں کم از کم تین دفعہ استعمال کریں۔

بالوں کو مضبوطی:

بالوں کو مضبوط اور صحت مند کرنے کیلئے نیم کے تیل سے بالوں کی جڑوں میں مالش کریں۔ خیال رکھیں کہ بال ٹوٹنے نہ پائیں۔

سر کی خشکی:
سر کی خشکی دور کرنے کیلئے نیم کے پاؤڈر کو پانی میں مکس کر لیں اور اسے سر کی جلد پر ایک گھنٹہ لگا رہنا دیں۔ اس کے بعد شیمپو سے بالوں کو اچھی طرح دھو لیں۔

شوگر کے مریضوں کیلئے تحفہ:
شوگر کے مریض اس سے فائدہ اٹھاسکتے ہیں نیم کے وہ پتے جو زرد ہوجاتے ہیں انہیں توڑ کر سایہ میں خشک کرلیں۔ 100 گرام پتوں میں 50 گرام پودینہ کے خشک پتے اور 25 گرام مرچ سیاہ ملالیں۔ ان کو پیس کر میدہ کی طرح سفوف بنالیں۔ صبح نہار منہ 2 گرام کی مقدار نیم گرم پانی سے لیں اور ناشتہ ایک گھنٹہ بعد کریں۔اسی طرح دوپہر غذا سے ایک گھنٹہ قبل نیم گرم پانی سے لیں۔ اسی طرح رات کو کھانے سے پہلے لے لیں۔ یہ عمل دو سے تین ماہ جاری رکھیں۔

نیم کی چھال کا تیل:
جدید سائنٹفک دریافت کے مطابق نیم کی چھال سے نکلنے والا تیل بہت اہم ہوتا ہے اوراس میں موجود بعض زہریلے مادوں کا استعمال فنگس کے لیے بہت مفید ہوتا ہے۔ پاکستانی سائنس دان ڈاکٹر سلیم الزماں صدیقی وہ پہلے سائنسدان ہیں، جو نیم کے درخت سے کیڑے مار،پھپوندی کش، اور بیکڑیا مارنے والے اجزائتیار کرنے میں کامیاب ہوئے۔ 1942ء میں انھوں نے نیم کے تیل سے تین مرکبات نمبین، نمبنین اور نمبدین تیار کئے۔ یہ مرکبات نیم میں کافی مقدار میں پائے جاتے ہیں۔

نیم کے استعمال کے چند طریقے:

نیم کا ابلا ہوا پانی:
ایک لیٹر پانی میں 40 نیم کے پتے یا پھر مٹھی بھر پتے ڈال کر ابالیں۔ جب پتے رنگ بدل دیں اور پانی ”ہرا“ ہوجائے تو اسے چھان کر کسی صاف بوتل میں بھر کر رکھ دیں۔ یہ پانی کارآمد ہے۔ اگر بال بہت جھڑتے ہوں اور خشکی بھی ہو تو شیمپو کے بعد آخر میں یہ پانی بالوں پر ڈال دیں۔ اس کی اینٹی سیپٹک اور اینٹی بیکٹیریل خوبیاں آپ کو خشکی سے نجات دلائیں گی۔ بالوں میں اکثر گرمی کے موسم میں پسینے کی بدبو ہوجاتی ہے اس کی وجہ بھی خشکی ہوتی ہے۔ اس کے استعمال سے آپ کے بال صاف ہوجائیں گے جبکہ یہ بالوں کی جڑوں کو مضبوط بناتے ہوئے انہیں بڑھنے میں مدد دے گا۔ یہ پانی آپ سکن ٹونر کی طرح بھی استعمال کرسکتے ہیں۔ اگر آپ روزانہ رات کو سونے سے پہلے اس ٹونر سے چہرہ صاف کرتی ہیں تو کچھ ہی وقت میں چہرے کے جملہ مسائل جیسے بلیک ہیڈز، وائٹ ہیڈز، داغ دھبے چھائیاں اور سیاح حلقے اور ایسے دیگر مسائل حل ہوجائیں گے۔ اگر مسوڑھوں میں انفیکشن ہوتو اس ابلے ہوئے نیم کے پانی سے کلیاں کرنے سے فائدہ ہوگا۔

نیم کی نبولی:
روزانہ ایک نیم کی نبولی پانی کے ساتھ کھانا جوڑوں کے درد میں مفید ہے۔ یہ خون صاف کرتی ہے اور ماہرین کہتے ہیں کہ نیم کھانا ڈائبیٹک مریضوں کیلئے انسولین کا کام کرتی ہے۔ یہی نبولی (پیلے رنگ کی) چوسنے سے خون صاف ہونے کے علاوہ قبض بھی دور ہوجاتی ہے۔ اگر پیٹ میں کیڑے ہوں تو وہ بھی ان کے استعمال سے مرجاتے ہیں۔

نیم کا تیل:
اگر آپ کی جلد بہت حساس ہے اور بلیک ہیڈز سے چھٹکارا مشکل لگتا ہو تو نیم کے تیل کے فقط 2 سے 3 قطرے پانی میں گھول کر بلیک ہیڈز پر لگائیں۔ روزانہ کے استعمال سے بلیک ہیڈز جھڑ جائیں گے اور دوبارہ نہیں ہوں گے۔ آپ اپنے بالوں کیلئے جو بھی تیل استعمال کرتے ہیں خواہ وہ زیتون کا تیل ہو یا بادام کا یا پھر ناریل کا تیل ہو بس اس میں تھوڑا سا نیم کا تیل ملاکر سر کی مالش کریں اس سے جڑوں تک بلڈ سرکولیشن بہتر ہوگا اور بال تیزی سے بڑھیں گے۔ ناخنوں میں فنگل انفیکشن ہوتو چند قطرے نیم کے تیل سے ناخنوں کی ہلکی مالش کریں۔ اس سے انفیکشن بھی کم ہوگا بڑھے گا نہیں۔ یہ انفیکشن اکثر ایک ناخن سے ہی باقی ناخنوں کو بھی لگ جاتا ہے۔ روزانہ کی مالش سے دوسرے ناخن اس انفیکشن سے محفوظ رہیں گے اور ناخن اگر کمزور ہیں اور مڑ جاتے ہیں تو یہ صحت مند ہوجائیں گے۔ مگر یہ احتیاط لازمی ہے کہ نیم کا تیل خوش ذائقہ نہیں ہوتا اس لئے کچھ بھی کھانے سے پہلے ہاتھ اچھی طرح دھولیں تاکہ تیل کے اثرات سے محفوظ رہیں۔

نیم کا پاؤڈر:
نیم کے پتے دھوکر سکھالیں پھر پیس کر پاؤڈر بنالیں‘ چہرے کی رنگ نکھارنے اور چہرہ پررونق بنانے کیلئے نیم کا پاؤڈر، گلاب کی پتیوں کا پاؤڈر، دہی اور تھوڑا سا دودھ ملاکر ایک پیسٹ بنالیں۔ چہرے پر لگاکر 15 منٹ کے بعد پانی سے دھولیں مگر پانی میں 2,3 کھانے کے چمچ عرق گلاب ملا لیں۔ چہرے پر رونق اور نکھار آجائے گا۔ اس کے علاوہ داڑھ کی درد میں یہ پاؤڈر منجن کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔

نیم کا لیپ:
تازہ پتوں کو پسے کر لیپ بنالیں۔ آگ کے جلے ہوئے پر نیم کا لیپ لگانے سے انفیکشن نہیں ہوتا۔ کوئی بھی چوٹ ہو،معمولی زخم ہو یا ایکسیڈنٹ کے خطرناک زخم ہوں، ان پر نیم کا لیپ لگانے سے زخم جلدی پھر جاتے ہیں۔

نیم کے پھول:
نیم کے پھولوں کا کاجل لگانے سے پلکیں موٹی ہوں گی اور اگر پلکوں کے بال جھڑ گئے ہوں تو وہ بھی اُگ آئیں گی۔ اس کے علاوہ یہ آنکھوں کی خارش بھی دور کردیتا ہے۔ طریقہ یہ ہے کہ نیم کے پھول لے کر روئی میں لپیٹ کر بتی بنائیں اور چراغ میں سرسوں کے تیل میں جلائیں اور اس کا کاجل حاصل کریں۔ اس کے بعد یہ کاجل چھ ماشے، پھٹکڑی بھونی ہوئی، ایک ماشہ کو دو تولے مکھن میں ملاکر کانسی کے کٹورے میں نیم کے ڈنڈے سے رگڑیں اور آنکھوں میں لگائیں۔

نیم کی شاخ:
شاخ کے ٹکڑے ٹکڑے کرکے اس سے مسواک بھی بنائی جاتی ہے۔ اس مسواک سے دانتوں اور مسوڑھوں کو فائدہ پہنچتا ہے۔یہ صدیوں سے انسان کے زیر استعمال ہے۔

نیم کی خشک پتے:
نیم کی خشک پتیوں کو جلانے سے مچھر بھاگتے ہیں۔ یہی کام نیم کے تیل سے بنے کوائل سے بھی لیا جاتا ہے۔بلکہ ان پتوں کو کپڑوں میں بھی رکھا جاتا ہے، تاکہ انھیں کیڑا وغیرہ نہ لگے۔نیم کے پتے پھوڑے پھنسیوں کو دور کرتے، درد کو تسکین دیتے اور اُن کو پکاکر پھوڑتے ہیں اور زخموں سے مواد کو نکال کر پاک صاف کرتے ہیں۔

نیم کے دیگر فوائد:
نیشنل ریسرچ کونسل امریکہ کے مطابق نیم برتھ کنٹرول، ماحولیاتی آلودگی اور کیڑوں سے نجات کا ذریعہ بن سکتا ہے اور ترقی پذیر ملکوں کے لیے زیادہ مفید ثابت ہوسکتا ہے۔ دوسرے کیمیائی اجزا کے ساتھ نیم قوتِ مدافعت کو کم کرنے والے وائرس (مثلاً ایڈز کے وائرس) کے پھیلاؤ کو روکتا ہے۔

نیم حیاتی کیڑے مار(Biopesticide) ثابت ہوا ہے۔ فصلوں کو تباہ کرنے والے کیڑوں میں سے 80 انواع پر اثرانداز ہوتا ہے۔

نیم کے تمام اجزا کڑوے ہوتے ہیں، لیکن نیم مزے کے لحاظ سے جس قدر کڑوا ہے، فائدے کے لحاظ سے اسی قدر میٹھا ہے۔ اس کے تمام اجزا پتے، پھول، پھل، چھال بطور دوا استعمال کیے جاتے ہیں، یہاں تک کہ اس کا سایہ بھی صحت بخش ہے۔

ہندوستان میں نیم فاؤنڈیشن کے ہیڈ ڈاکٹر رمیش سکسینا نے جنوبی ایشیا، فلپائن، مشرقی افریقہ اور آسٹریلیا میں پہلی بار نیم کو ایک قدرتی زہر یعنی کیڑے مار دوا کے طور پر متعارف کیا تھا۔ سکسینا کا کہنا ہے کہ نیم دنیا بھر میں بخار، ڈینگو، ملیریا اور ایڈز جیسی جان لیوا بیماریوں پر قابو پانے موثو رول ادا کرسکتا ہے۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

 

نیم کے تیل سے متعلق اصلی اور خالص مصنوعات خریدنے کیلئے کلک کریں۔

 

Related Posts