Urdu

وٹامن سی کیا ہے؟

وٹامن سی ہمارے جسم میں انتہائی اہم کردار ادا کرتا ہے یہ ہارمونز کو درست رکھتا ہے پروٹین بناتا ہے، جسم کے لیے ضروری امائنو ایسڈ بناتا ہے ہماری ہڈیوں کو مضبوط بناتا ہے خون لیجانے والی شریانوں کو تندرست رکھتا ہے، زخموں کو بھرتا ہے، جلی ہُوئی جلد کو ٹھیک کرتا ہے، وٹامن سی آینٹی آکسائیڈینٹ ہے جو ہماری قوت مدافعت کو مضبوط بناتا ہے اور جسم کو آئرن جذب کرنے میں مدد دیتا ہے۔

ہمارے مُلک پاکستان کا شُمار اُن ممالک میں ہوتا ہے جہاں لوگوں کی ایک بڑی تعداد غذائی قلت کا شکار ہے اور مناسب خوراک نہ کھانے کی وجہ سے پاکستان میں لوگوں کی جسمانی نشوونما تکمیل نہیں پاتی اور خوراک اور وٹامنز کی کمی انہیں بہت سے بیماریوں کا شکار بنا دیتی ہے۔

وٹامن سی کا استعمال کافی پرانا ہے اوراب تو بہت عام ہو گیا ہے مغربی ماہرین جلد کا کہنا ہے خون میں جو پانی والا حصہ ہے اس کے لیے وٹامن سی بہت مفید ہے چونکہ وٹامن سی کو انسانی جسم میں سٹور نہیں کیا جا سکتا ہے اس لیے اس کا استعمال براہ راست جلد پر ہی مفید ہے۔

تحقیق سے ثابت ہوا کہ یہ جلد کی عمر کو تیزی سے بڑھنے سے روکتا ہے،سورج کی الٹرا وائلٹ شعاعوں سے محفوظ رکھتا ہے، آلودگی اور دھوئیں سے جلد پر جو اثرات مرتب ہوتے ہیں اس سے بھی بچاتا ہے، اس کے باوجود کچھ اندیشے بھی ہیں۔

Essential Life

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ وٹامن سی کے تمام تجربات جو چوہوں پر کیے گئے اس سے یہ تو پتہ چل گیا کہ یہ جلد کی عمر کو بڑھنے سے روکتا ہے مگر اس کے بارے میں یہ کہنا مشکل ہے کہ اس کی کتنی مقدار لی جائے۔ ماہرین نے کہا اگر وٹامن سی کو انسانی جلد پر کارآمد بنانا ہے تو اس میں زیادہ سے زیادہ تیزابیت ہونا ضروری ہے،۔ اگر ایسا نہیں ہو گا تو یہ کام نہیں کرے گا۔اس کی وجہ سے رنگت سرخ اور خارش زدہ بھی ہو سکتی ہے۔

وٹامن سی کیسے حاصل ہو سکتی ہے؟

موسم سرما کے یہ چھ پھل روزانہ کی بنیاد پر وٹامن سی مہیا کر سکتے ہیں۔

مالٹا:
سردیوں کا موسم ہے اور اب آپ میٹھے اور رسیلے مالٹوں سے لطف اندوز ہوسکتے ہیں۔ مالٹوں میں وٹامن سی کا ذخیرہ ہے۔ اس میں فائبر اور اینٹی آکسیڈنٹ بھی موجود ہے جو قوت مدافعت کو بڑھاتے ہیں۔ یہ آنتوں کے لیے بھی بہتر ہے۔

امرود:
مزیدار امرود کے ساتھ اگر کالا نمک اور سرخ مرچ استعمال ہو تو مزہ دوبالا ہوجاتا ہے۔ امرود میں قابل ذکر غذائی اجزا پائے جاتے ہیں۔ اس سے وزن بھی کم ہوتا ہے۔ یہ قوت مدافعت بڑھاتا ہے اور ذیابیطس کو بھی کنٹرول کرتا ہے۔

انار:
انار کو چاٹ یا سلاد میں استعمال کریں یا اس کو خالص ہی کھائیں یہ کٹھا میٹھا پھل مزے دار ہوتا ہے۔ اس کے رسیلے سرخ موتی جیسے دانے غذایئت سے بھرپور ہوتے ہیں۔ انار وائرسز کے خلاف قوت مدافعت بڑھاتا ہے۔

سٹرابیری:
سٹرابیری وٹامنز، فائبر، اینٹی آکسڈینٹ اور منرلز سے مالا مال ہے۔ اس میں زیرو کولیسٹرول، کیلوری اور فیٹ ہوتے ہیں۔

کیوی:
کیوی سردیوں کا ایک حیرت انگیز پھل ہے۔ امریکی محکمہ زراعت یو ایس ڈی اے کے اعدادوشمار کے مطابق محض سو ملی گرام کیوی 74.7 گرام وٹامن سی مہیا کرتا ہے، اگر آپ صحت کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں تو اس کو روزمرہ کی غذا میں شامل کریں۔

انگور:
انگور کے مزیدار ذائقے کے علاوہ یہ غذائی اجزا کا خزانہ ہے۔ اس سے مدافعتی نظام بہتر ہوتا ہے اور یہ جسم سے فاضل مادوں کے اخراج میں
بھی مدد کرتا ہے۔

وٹامن سی کی کمی کی چند اہم نشانیاں:

Essential Life

کھردری اور ناہموار جلد:
وٹامن سی ہمارے جسم میں کولاجن (جلد کو تندرست رکھنے والی پروٹین) پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے، کولاجن ہماری جلد، بالوں، ہڈیوں، جوڑوں، خون کی نالیوں کو تندرست رکھتی ہے وٹامن سی کی کمی ہمارے جسم کی جلد کو شدید نقصان پہنچاتی ہے اور اسے کھردرا اور ناہموار کر دیتی ہے خاص طور پر جب جسم کو یہ وٹامن 4 سے 5 ماہ تک مناسب مقدار میں نہ ملے تو بازوؤں کے اوپر کی جلد، رانوں کی جلد اور پیٹھ کی جلد پر دھدری پیدا ہونی شروع ہو جاتی ہے جسے وٹامن سی کے سپلیمنٹ کھانے سے دُور کیا جاسکتا ہے۔

بالوں کی جڑوں میں سرخ نشان:
جلد پر بالوں کی جڑوں کے ساتھ خون کی باریک نالیاں ہوتی ہیں جو جلد کے اُس حصے کو خون اور نیوٹرنٹس مہیا کرتی ہیں اور جب جسم وٹامن سی کی کمی کا شکار ہوتا ہے تو یہ باریک نالیاں لیک کر جاتی ہیں اور ٹوٹ جاتی ہیں اور بالوں کی جڑوں پر باریک سُرخ نشان نمایاں ہو جاتے ہیں اور یہ وٹامن سی کی کمی کی بڑی نشانی ہے جسے متواتر 2 ہفتے تک وٹامن سی کے سپلیمنٹس کھانے سے ٹھیک کیا جا سکتا ہے۔

دل کی بیماریاں:
وٹامن سی جسم کا اہم پانی میں حل پزیر اینٹی آکسائیڈینٹ ہے جو جسم کے سیلز کو خراب ہونے سے بچاتا ہے اور تکسیدی تناؤ سے پیدا ہونے والے ریڈکلز کو اعضا خراب نہیں کرنے دیتا اور جسم کو سوزش سے بچاتا ہے۔ وٹامن سی کی کمی دل کی بیماریوں کا باعث بنتی ہے اور ایک تحقیق کے مطابق ایسے افراد جو اس وٹامن کا کم استعمال کرتے ہیں اُن میں 40 فیصد ہارٹ فیل ہونے کے چانسز بڑھ جاتے ہیں۔

تھکاوٹ اور موڈ کا خراب ہونا:
یہ وٹامن سی کی کمی کی دو ایسی علامات ہیں جو اس وٹامن کی کمی کی صورت میں فوراً ظاہر ہوتی ہیں اور ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ چڑاچڑا پن اور تھکاؤٹ وٹامن سی کی کمی کی ابتدائی علامات ہیں جنہیں فوراً پہچان کر اس کمی کو دُور کرلینا چاہیے تاکہ کسی بڑے نقصان سے بچا جا سکے۔وٹامن سی اور آئرن کی کمی ایک دوسرے سے منسلک ہیں اور اس کمی سے چہرہ پیلا ہونا شروع ہو جاتا ہے اور اُس کی سُرخی غائب ہو جاتی ہے، ورزش کے دوران سانس پھولتا ہے اور جسم جلد تھکاؤٹ کا شکار ہو جاتا ہے، اور اکثر سردرد کی شکائت رہتی ہے۔

Essential Life

بے وقت جھریاں:
کولیگن جلد کو لچکدار رکھنے کے ساتھ جھریوں سے پاک رکھتا ہے، تو یہ حیران کن امر نہیں کہ وٹامن سی کی کمی آپ کو جوانی میں ہی بوڑھا بنا سکتی ہے کم از کم دکھا تو سکتی ہے جس کی وجہ چہرے پر موجود جھریاں ہوں گی۔ اسی طرح وٹامن سی کی مناسب مقدار درمیانی عمر میں بھی شخصیت میں جوانی کا تاثر برقرار رکھتی ہے۔ وٹامن سی سورج کی شعاعوں سے جلد کو ہونے والے نقصان کو بھی کم کرتا ہے، جبکہ اس کا زیادہ استعمال جلد کی ملائمت طویل عرصے تک برقرار رکھتا ہے۔

مسوڑوں سے خون آنا:
اگر جسم میں وٹامن سی کی کمی ہو تو مسوڑے سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں، ان میں زیادہ خون بہنے لگتا ہے کیونکہ وٹامن سی زخم بھرنے میں مدد دیتا ہے جس کی کمی کے باعث مسوڑے جلد ٹھیک نہیں ہوپاتے، اسی طرح وٹامن سی میں موجود اینٹی آکسائیڈنٹس مسوڑوں کو سوجن سے بچاتے ہیں۔

دانتوں کی فرسودگی:
وٹامن سی تیزابیت کو جذب کرتا ہے اور دانتوں کے ارگرد جھلی ہوتی ہے جو کہ اسے مضبوط بنانے کا کام کرتی ہے، اس جھلی یا ٹشو کو وٹامن سی کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ صحت مند رہ سکے، اس وٹامن کی کمی کے نتیجے میں دانت جوانی میں ہی ٹوٹ سکتے ہیں۔

جلد آسانی سے چھل جانا:
سی کی کمی کی علامت ہے، جریدے یوایس نیشنل لائبریری آف میڈیسین نیشنل انسٹیٹوٹ آف ہیلتھ میں شائع تحقیق کے مطابق وٹامن سی سپلیمنٹ کا استعمال اس مسئلے کو حل کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔ یہ علامت جسم میں وٹامن سی کی شدید کمی ظاہر کرتی ہے۔

زخم جلد نہ بھرنا:
جسم کے زخم بھرنے کا میکنزم کسی حد تک وٹامن سی پر انحصار کرتا ہے، یہ وٹامن کولیگن کی پیداوار بھی بڑھاتا ہے جو ان ٹشوز کو مضبوط کرتا ہے جو زخم کے اوپر بنتے ہیں، اس کی کمی یہ عمل سست کردیتی ہے۔

جوڑوں کی تکلیف اور سوجن:
جوڑوں کی کرکری ہڈیوں کا بڑا حصہ کولیگن سے بنتا ہے تو وٹامن سی کی کمی جوڑوں کی تکلیف کا باعث سکتی ہے جبکہ سوجن بھی زیادہ ہونے لگتی ہے۔

عام معمول سے زیادہ تھکاوٹ طاری ہونا:
ہر وقت تھکاوٹ متعدد امراض اور اجزا کی کمی کی علامت ہوسکتی ہے، مگر اس کے ساتھ اگر مزاج میں چڑچڑا پن بھی طاری ہو تو یہ وٹامن سی کی کمی کی نشانی ہوسکتا ہے، وٹامن سی جسمانی توانائی اور مزاج کو خوشگوار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

Essential Life

کمزور اور بھربھرے ناخن:
اگر آپ کے ناخن نازک اور آسانی سے ٹوٹ جاتے ہیں تو یہ بھی وٹامن سی کی کمی کی نشانی ہوسکتی ہے، وٹامن سی جسم میں آئرن جذب ہونے کے لیے بہت ضروری ہے، اسی وجہ سے ناخن نازک اور بھربھرے ہوجاتے ہیں۔

آئرن کی کمی:
وٹامن سی سبزیوں سے حاصل ہونے والے آئرن کو آسانی سے جذب ہونے میں مدد دیتا ہے اور اس کے بغیر وہ جذب نہیں ہوپاتا، یعنی وٹامن سی کی کمی خون کی کمی کا باعث بھی بن سکتی ہے۔

وزن بڑھنا:
جب وٹامن سی کی کمی ہو تو اس سے جسمانی توانائی متاثر ہوتی ہے جس سے میٹابولزم پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں، جب اس کی رفتار سست ہوتی ہے تو جسمانی وزن بڑھنے کا امکان بھی بڑھ جاتا ہے۔

اکثر بیمار ہونا:
وٹامن سی خون کے سفید خلیات کی پیدوار کے عمل کو حرکت میں لاتا ہے جو بیکٹریا اور وائرس کو نشانہ بناتے ہیں، وٹامن سی جسمانی دفاعی خلیات کی صحت کو بھی تحفظ فراہم کرتا ہے تاکہ عام موسمی بیماریوں کے خلاف وہ موثر طریقے سے کام کرسکیں۔ اگر آپ اکثر فلو یا گلے کی خراش کا شکار رہتے ہیں تو یہ کمزور جسمانی دفاعی نظام کا عندیہ ہے جس کا حل وٹامن سی کا زیادہ استعمال ہے۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

وٹامنز سے متعلق معیاری اور خالص مصنوعات خریدنے کیلئے کلک کریں:

Related Posts