Urdu

وٹامن ڈی کیا ہے؟

پاکستان سمیت دنیا کے متعدد ممالک میں لوگوں کو وٹامن ڈی کی کمی کا سامنا ہے لیکن نصف کرہ شمالی میں سورج کی روشنی کی کم مقدار کی وجہ سے یہ مسئلہ بڑھ رہا ہے۔ وٹامن ڈی قوت مدافعت بڑھانے، اعصابی کمزوری کے خاتمے، اعصاب کی مضبوطی، ہڈیوں کے درد اور ڈپریشن کے خاتمے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔ انھیں کینسر کے خاتمے اور بڑھاپے سے بچاؤ کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ وٹامن ڈی ہماری صحت میں اہم کردار ادا کرتا ہے یہ ہمارے جسم میں کیلشیم اور فاسفیٹ کی مقدار کو برقرار رکھتا ہے۔ درحقیقت نام کے باوجود وٹامن ڈی وٹامن نہیں ہے۔ اس کے بجائے اصل میں یہ ہارمون ہے جو کہ جسم میں کیلشیم کو جذب کرنے کی صلاحیت کو بڑھاتا ہے۔ اس میں چیلنج یہ ہے کہ بہت کم غذائیں ایسی ہوتی ہیں جن میں یہ موجود ہوتا ہے جیسا کہ آئلی فش۔ لیکن جسم میں عام طور پر وٹامن ڈی اس وقت بنتا ہے جب جلد پر سورج کی روشنی پڑتی ہے۔
وٹامن ڈی کی دو اقسام ہیں۔ وٹامن ڈی 3 جو کہ جانوروں سے حاصل ہونے والی خوراک میں پائی جاتی ہے۔ اس میں مچھلی شامل ہے۔ دوسری وٹامن ڈی2 ہے جو کہ پودوں سے حاصل ہونے والی خوراک میں شامل ہیں۔

جسم میں وٹامن ڈی کی کمی کی علامات:

وٹامن ڈی ہمارے جسم میں کسی ہارمون کی طرح کام کرتا ہے اور کسی اور وٹامنز کے مقابلے میں وٹامن ڈی کے لیے تمام خلیات ایک ریسیپٹر کی طرح کام کرتے ہیں۔ یہ وٹامن انسانی ہڈیوں کی صحت اور مدافعتی نظام کے لیے انتہائی ضروری ہے اور اس کی کمی کی چند علامات درج ذیل ہیں۔

عام امراض سے صحت یابی میں دیر ہونا:
وٹامن ڈی کے چند اہم ترین افعال میں سے ایک جسمانی مدافعتی نظام کو مضبوط بنانا ہے، تو اگر وٹامن ڈی کی کمی کا سامان ہو تو عام انفیکشن یا وائرسز کے حملے کے بعد ٹھیک ہونے میں بھی کافی وقت لگ جاتا ہے۔ درحقیقت وٹامن ڈی کی کمی کے نتیجے میں سانس کی نالی کے انفیکشن جیسے نزلہ زکام اور نمونیا وغیرہ اکثر شکار بنانے لگتے ہیں۔

Essential Life

چڑچڑا پن اور ڈپریشن:
ڈپریشن اور چڑچڑا پن کے درمیان تعلق ہے جس کے پیچھے متعدد جسمانی اور نفسیاتی عناصر ہوتے ہیں، ایسے سائنسی شواہد سامنے آئے ہیں کہ وٹامن ڈی کی کمی اور ڈپریشن کے درمیان تعلق موجود ہے، خصوصاً معمر افراد میں۔ ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ ڈپریشن کی شکار خواتین کو جب وٹامن ڈی کا سپلیمنٹ استعمال کرایا گیا تو اس میں بہتری آنے لگی۔ ایک اور تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ موٹاپے کے شکار افراد میں اگر وٹامن ڈی کی کمی ہو تو ان میں ڈپریشن کا خطرہ بھی بڑھتا ہے۔

مناسب نیند کے باوجود ہر وقت تھکاوٹ طاری رہنا:
ہر وقت تھکاوٹ طاری رہنے کے پیچھے متعدد وجوہات ہوسکتی ہیں اور وٹامن ڈی کی کمی بھی ان میں سے ایک ہے۔ مختلف طبی تحقیقی رپورٹس میں دریافت کیا گیا کہ وٹامن ڈی کی کمی بہت زیادہ ہونے پر شدید تھکاوٹ اور سردرد جیسی علامات سامنے آتی ہیں، یہاں تک کہ اس وٹامن کی معمولی کمی بھی جسمانی توانائی میں کمی اور تھکاوٹ کے احساس کا باعث بنتی ہے، خصوصاً اگر خواتین پر ہر وقت تھکاوٹ طاری رہتی ہو تو اس کا امکان زیادہ ہوتا ہے کہ انہیں وٹامن ڈی کی کمی کا سامنا ہے۔

کمردرد:
وٹامن ڈی ہڈیوں کی صحت کے لیے انتہائی ضروری ہے کیونکہ یہ جسم کو کیلشیم جذب کرنے میں مدد دیتا ہے جبکہ ڈھانچے کے نظام کو مضبوط کرتا ہے، اس وٹامن کی کمی کے نتیجے میں ہڈیوں کے مسائل اور کمردرد کا سامنا عام ہوتا ہے۔ ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ وٹامن ڈی کی کمی کے باعث 9 ہزار خواتین کو شدید کمردرد کا سامنا ہوا۔

جوڑوں کے مسائل:
وٹامن ڈی کی کمی صرف کمردرد کا باعث ہی نہیں بنتی بلکہ یہ جسم کے تمام جوڑوں کی صحت پر منفی اثرات مرتب کرتی ہے۔ گھٹنے، کولہے اور ریڑھ کی ہڈی اس وٹامن کی کمی سے زیادہ متاثر ہوسکتے ہیں، اگر اکثر ان جگہوں پر درد کا سامنا ہو تو ڈاکٹر سے رجوع کرکے ٹیسٹ کروائیں کہ یہ مسائل وٹامن ڈی کی کمی کا نتیجہ نہ ہوں۔

Essential Life

مسلز کی کمزوری یا تکلیف:
وٹامن ڈی کی کمی کے نتیجے میں مسلز کی کمزوری اور درد کا بھی سامنا ہوسکتا ہے۔ وٹامن ڈی ان اعصابی خلیات کی صحت میں اہم کردار ادا کرتا ہے جو کہ دماغ تک درد کا احساس پہنچاتے ہیں۔ اگرچہ مسلز کے مسائل کی وجوہات مختلف ہوسکتی ہیں، مگر ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ 71 فیصد افراد میں مسلز کے شدید درد کی وجہ وٹامن ڈی کی کمی ہوتی ہے۔

بالوں کا گرنا یا نازک ہوجانا:
اگر آپ کو لگے کہ بال پہلے جیسے گھنے نہیں رہے تو وٹامن ڈی کا استعمال بڑھانا اس مسئلے کو دور کرسکتا ہے۔ اگرچہ وٹامن ڈی کی کمی اور بالوں کے گرنے کے درمیان زیادہ شواہد موجود نہیں، مگر ایک تحقیق میں وٹامن ڈی کی کمی اور خواتین کے بالوں کے گرنے میں تعلق دریافت کیا گیا۔

خراشوں کو ٹھیک ہونے میں تاخیر:
کیا آپ کو اکثر معمولی خراشوں یا رگڑ سے نجات میں کافی دن لگ جاتے ہیں؟ اگر ہاں تو یہ بھی وٹامن ڈی کی کمی کا نتیجہ ہوسکتی ہے۔ کچھ طبی تحقیقی رپورٹس میں دریافت کیا گیا کہ یہ وٹامن نئی جلد بننے کے عمل کے لیے ضروری کمپا?نڈز کی مقدار بڑھانے میں مدد دیتا ہے۔ اسی طرح وٹامن ڈی ورم اور انفیکشن سے لڑنے میں بھی مدد دیتا ہے۔

مردوں میں کمزوری:
ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ وٹامن ڈی کی کمی مردوں میں مخصوص جسمانی کمزوری کا باعث بنتی ہے جس کے نتیجے میں erectile dysfunction نامی مرض کا خطرہ بڑھتا ہے، اس کا علاج ڈاکٹر کے مشورے سے ہی ممکن ہوتا ہے۔

بہت زیادہ پسینہ آنا:
اگر تو پیشانی پر پسینہ بہت اکثر چمکتا ہے تو یہ وٹامن ڈی کی کمی کی نمایاں علامات میں سے ایک ہے، خصوصاً اس وقت جب آپ کوئی خاص جسمانی محنت کا کام نہ کررہے ہوں اور پھر بھی پسینہ تیزی سے خارج ہورہا ہو، وہ بھی عام موسم میں۔ ان حالات میں وٹامن ڈی کا ٹیسٹ کرایا جانا چاہئے۔

Essential Life

وٹامن ڈی حاصل کرنے والی غذائیں:

چربی والی مچھلی اور سمندری غذائیں:
فیٹی فش اور سمندری غذاؤں میں وٹامن ڈی جیسا قدرتی اجزا کثیر مقدار میں پایا جاتا ہے۔مثلاً100گرام سامن مچھلی 386IU وٹامن کی مقدار فراہم کرتی ہے۔ وٹامن ڈی کی مقدار سمندری غذاؤں کی انواع و اقسام میں مختلف پائی جاتی ہے۔ جن سمندری غذاؤں میں وٹامن ڈی کی کثیر مقدار پائی جاتی ہے ان میں ٹونا،سرمئی مچھلی،کستورا مچھلی،جھینگے،سارڈین مچھلی،اور ین کووے (سبنا مورہ مچھلی)شامل ہیں۔

مشروم:
وٹامن ڈی کے حصول کے لیے مشروم کو ایک مکمل نباتاتی ذریعہ تسلیم کیا جاتا ہے۔ انسانوں کی طرح مشروم بھی سورج کی الٹراوائلٹ شعاعوں کے ذریعے وٹامن ڈی بنانے کی صلاحیت سے مالا مال ہوتے ہیں۔ سمندری نوع کی طرح مشروم کی بھی مختلف اقسام کی وٹامن ڈی کی مختلف مقدار فراہم کرتی ہیں مثلاً100گرام جنگلی مشروم وٹامن ڈی کے 2,384IU فراہم کرتے ہیں۔

انڈے کی زردی:
انڈے کی زردی بھی ایک ایسی غذا ہے جسے اپنی روزمرہ روٹین میں شامل کرکے وٹامن ڈی حاصل کیا جاسکتا ہے۔ لیکن وٹامن ڈی کے حصول ک لئے فارمی کے بجائے دیسی انڈوں کا استعمال زیادہ فائدہ مند تصور کیا جاتا ہے۔ طبی ماہرین کی رائے کے مطابق دیسی انڈوں میں فارمی انڈوں کے مقابلے وٹامن ڈی کی مقدار3 سے4 گنا زیادہ ہوتی ہے۔

Essential Life

سورج کی روشنی میں وقت گزاریں:
وٹامن ڈی کیلئے انگریزی میں ”Sunshine Vitamin“ کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے کیونکہ سورج کی روشنی وٹامن ڈی کے حصول کا سب سے بہترین ذریعہ ہے۔ ماہرین کے مطابق وٹامن ڈی کی کمی پوری کرنے کے لیے روزانہ کم ازکم نصف گھنٹہ دھوپ میں گزارا جائے۔انسانی جِلد پر پایا جانے والا کولیسٹرول وٹامن ڈی کے پیشرو کے طور پر کام کرتا ہے اور جب یہ کولیسٹرول سورج کی UVBشعاعوں سے گزرتا ہے تو وٹامن ڈی میں تبدیل ہوجاتا ہے۔

فورٹیفائیڈ فوڈ:
کچھ غذاؤں میں قدرتی طور پر وٹامن ڈی کی اچھی مقدار موجود ہوتی ہے۔لیکن اکثر غذائیں ایسی ہیں، جن میں فورٹیفیکیشن پروسیس کے دوران وٹامن ڈی کا اضافہ کیا جاتا ہے۔ اس لیے فورٹیفائیڈ فوڈ خریدتے وقت ڈبے پر اجزا میں وٹامن ڈی کی موجودگی کو یقینی بنائیں۔ کچھ فورٹیفائیڈ غذائیں بھی وٹامن ڈی کا اچھا ذریعہ ثابت ہوتی ہیں۔ مثلاً گائے کا دودھ، سویا، بادام کادودھ، اورنج جوس، سیریل، دہی وغیرہ۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

وٹامنز سے متعلق معیاری اور خالص مصنوعات خریدنے کیلئے کلک کریں:

Related Posts