Urdu

وہ علامات جو ہارٹ اٹیک کا باعث بن سکتی ہیں

ہارٹ اٹیک یا دل کا دورہ اکثر لاعلمی اور بروقت دوا نہ لینے کے باعث جان لیوا ہوتا ہے، جان بچ بھی جائے تو دوسرے حملۂ قلب کا خطرہ ہمیشہ موجود رہتا ہے، جس سے موت واقع ہوسکتی ہے۔ 

اس لیے آپ کو اپنی کئی عادتوں پر قابو پاکر صحت مند طرزِ زندگی کو اوڑھنا بچھونا بنانا ہوگا، اس سے ہارٹ اٹیک کی نوبت نہیں آئے گی اور دوسرا یہ کہ علامات کے بارے میں جان کر آپ فوری معالج سے رجوع کرکے ادویات اور ڈائٹ شیڈول حاصل کرسکتے ہیں۔

ہارٹ اٹیک کی علامات:

ذیل میں درج علامات ہارٹ اٹیک کا باعث بن سکتی ہیں۔

سینے میں درد:

سینے میں اٹھنے والی تکلیف دل کے دورے کی ایک بہت ہی عام علامت ہے، دل کے دورے کا سبب بننے والا یہ درد مختلف وجوہات کی جانب ایک اشارہ بھی ہوسکتا ہے، جن میں پٹھوں کا کھنچاؤ، وٹامن یا پھر معدنیات کی کمی شامل ہیں، طبی ماہرین کے مطابق دل کے دورے کا درد سینے کے دائیں جانب یا پھر وسط سے تھوڑا سا بائیں جانب ہوتا ہے۔

چکر اور سانس لینے میں دشواری:

اگر کسی کو سانس لینے میں دشواری کا سامنا ہویا پھر چکر آتے ہوں تو یہ علامات قابلِ توجہ ہیں، چکر آنا دل کے دورے اور دل کی بیماریوں کی عام علامت ہے، بالخصوص اس وقت جب چکر آنے کے ساتھ ساتھ سانس لینے میں بھی دقّت ہورہی ہو۔

غیرمعمولی درد:

گردن وغیرہ کی تکلیف ( غیر معمولی درد) دل کے دورے کا موجب بن سکتی ہے، اگر درد سینے کے درمیان سے ہوتا ہوا گردن پر آئے اور جبڑوں تک جا پہنچے، اس کے نتیجے میں گردن اور جبڑوں میں شدید تکلیف کا سامنا ہو تو یہ خطرے کی بات ہے، لہٰذا فوری معالج سے رجوع کرنا چاہیے۔

بےچینی:

بےچینی کے ساتھ اگر سر بھاری ہورہا ہو اور چکر بھی آئیں تو اس کا مطلب دل کی بیماری لاحق ہے۔ اس صورتحال میں خصوصی احتیاط برتنے کی ضرورت ہے۔

بلڈ پریشر میں کمی:

بلڈ پریشر میں کمی دل کے دورے کی جانب واضح اشارہ ہے، ایسے میں رنگت پیلی پڑ جاتی ہے اور نیم بےہوشی کی کیفیت طاری ہوجاتی ہے۔

دل کی دھڑکن:

دل کی دھڑکن میں بےترتیبی یا پھر تیز ہونے کا تعلق سانس لینے میں دشواری، کمزوری اور چکر آنے سے ہے، یہ تینوں علامات اچانک ہارٹ اٹیک کی طرف اشارہ ہیں، جو ہارٹ فیل ہونے کا سبب بھی بن سکتی ہیں۔ اس لیے علاج لازم ہے اور نظر انداز کرنا نقصان کا موجب بن سکتا ہے۔

تھکن اور کمزوری:

تھکن اور کمزوری مستقبل قریب میں دل کے دورے کی علامت ہیں، برٹش ہارٹ فاؤنڈیشن کی ایک تحقیق کے مطابق خواتین تھکن یا کمزوری کا زیادہ شکار رہتی ہیں، جو خطرناک صورتحال ہے ۔یہ ہارٹ اٹیک کی واضح علامات میں سے ایک ہے۔

ٹھنڈے پسینے:

اگر کسی شخص کو پہلے ہارٹ اٹیک ہوچکا ہے تو اسے دوبارہ دل کا دورہ پڑنے سے پہلے بےتحاشا ٹھنڈے پسینے آنا اس بات کی علامت ہے کہ فوری اسپتال کا رُخ کیا جائے۔ اس معاملے میں ذرا سی غفلت کسی بڑے نقصان کا پیش خیمہ ثابت ہوسکتی ہے۔

احتیاط:

ہم اپنے روزمرہ معمولات اور عادات میں تبدیلی لاکر ہارٹ اٹیک سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔

مرغن غذائیں کھانے میں احتیاط:

ہماری غذائی عادات ہی ہماری صحت کا تعین کرتی ہیں۔ زیادہ چربی والی، چٹخارے دار اور نمکین مرغن غذاؤں کا استعمال دل کی شریانوں کی صحت کے لیے تباہ کن ثابت ہوتا ہے اور اس کا نتیجہ ہارٹ اٹیک کی صورت میں نکل سکتا ہے۔ اپنی روزمرہ خوراک میں سبزیاں، پھل، مچھلی، میوہ جات اور اجناس پر مشتمل غذائیں شامل کریں جو ہارٹ اٹیک کے خطرے کو کم کرنے میں مدد دیتی ہیں۔

رات دیر سے کھانا نہ کھائیں:

تحقیق کے مطابق رات سونے سے دو گھنٹے قبل کھانے کی عادت کے نتیجے میں رات گئے بلڈ پریشر بڑھتا ہے جس سے ہارٹ اٹیک کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔ ساتھ ہی سونے سے کچھ دیر پہلے رات کا کھانا کھانے کی عادت بدہضمی اور نیند متاثر کرنے کا باعث بنتی ہے۔

موٹاپے پر قابو پائیں:

وزن زیادہ بڑھ جانے یا موٹاپے اور پیٹ کے ارگرد چربی جمع ہونا امراض قلب، ہارٹ اٹیک یا فالج کا خطرہ بڑھاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق صحت بخش غذا کے استعمال سے موٹاپے کے ساتھ ساتھ امراض قلب کا خطرہ بھی کم کیا جاسکتا ہے۔

تمباکو نوشی سے پرہیز:

تمباکو نوشی سے ہارٹ اٹیک یا امراض قلب کا خطرہ 2 سے 4 گنا زیاد ہ بڑھ جاتا ہے۔ اس کےدھوئیں میں شامل زہر آلود کیمیاوی اجزاء شریانوں کو نقصان پہنچاتے، کولیسٹرول بڑھاتےاور خون میں لوتھڑے بناکر ہارٹ اٹیک کی راہ ہموار کرتے ہیں۔

ہارٹ اٹیک کا علاج:

امراض قلب کی علامات ظاہر ہونے پر فوری طور پر کسی ماہر معالج سے رجوع کرنا چاہیے۔ ساتھ ہی ذیل میں بتائی گئی چند بنیادی باتوں پر بھی عمل کرنا چاہیے تاکہ ہارٹ اٹیک سے محفوظ رہا جاسکے۔

شوگر لیول کنٹرول کرنا:

ذیابطیس ٹائپ ٹو کے شکار افراد میں امراض قلب کا خطرہ دیگر افراد کے مقابلے میں زیادہ ہوتا ہے۔ تاہم، بلڈ شوگر لیول کو کنٹرول میں رکھنے سے اس خطرے سے دور رہا جاسکتا ہے، ذیابطیس میں شریانیں تنگ ہوجاتی ہیں، جس کے باعث ہارٹ اٹیک کا خطرہ بڑھتا ہے۔

کولیسٹرول کی فکر کرنا:

کولیسٹرول بڑھنے سے شریانیں تنگ ہوجاتی ہیں اور خون میں چربی کی مقدار بڑھ کر لوتھڑے بناتی ہے، جس سے دورانِ خون کی روانی میں رکاوٹ ہوتی ہے، جو دل کے دورے کےخطرے کو بڑھاتی ہے۔ لہٰذا کولیسٹرول لیول کو معمول کی سطح پر ہونا چاہیے۔

سالانہ چیک اَپ:

دل کی صحت کے لیے سالانہ بنیادوں پر ایک بار طبی معائنہ ہر فرد کے لیے اشد ضروری ہے، سالانہ چیک اَپ سے قبل ازوقت مسائل سے بچا جاسکتا ہے۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اسے استعمال کرنے کے حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

خالص اور معیاری اشیاء خریدنے کیلئے کلک کریں: