Urdu

چاول کے چوکر (بھوسے) کا تیل, قدرتی اینٹی آکسیڈینٹ

چاول مستقل غذا کے طور پر گندم کے استعمال کے بعد دوسرے نمبر پر آتا ہے۔ جن ممالک کی مستقل اور اہم غذا گندم ہے،ان ملکوں کے باشندوں کے گھروں میں بھی چاول ہر روز نہیں تو کم از کم ہفتے عشرے میں دستر خوان کی زینت ضرور بنتے ہیں۔ اس کے استعمال میں اضافے کی وجہ یہ بھی بیان کی جاتی ہے کہ ایک تو چاول رکھنے سے خراب نہیں ہوتا‘ دوسرے اس کا پکانا زیادہ آسان ہے۔پھر چاول کی ایک اور بڑی خوبی یہ ہے کہ پکانے کے بعد اس کی مقدار تین گنا زیادہ ہو جاتی ہے۔

چاول کی تاریخ
چاول کا ذکرقدیم زمانہ سے چینی اور ہندوستانی تہذیب میں ملتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ چین میں چاول تقریباً 7 ہزار سال قبل بھی پکایا جاتا تھا۔ ماہرین ہندوستان میں بھی چاول کی قدامت کا عرصہ لگ بھگ چین جتنا پرانا ہی بتاتے ہیں۔ لیکن چاول کا اصل پیدائشی مقام چین ہی ہے۔ جہاں سے پھر یہ فصل آہستہ آہستہ دیگر ممالک میں پہنچی۔

چاول کا مختلف تہذیبوں میں استعمال:
چاول کا مختلف تہذیبوں میں مختلف استعمال رہا ہے۔ جیسے چین اور ہندوستان کی معاشرتی زندگی میں چاول کا ایک استعمال یہ بھی تھا کہ نوبیاہتا جوڑے پر لوگ نیک دعاؤں کے اظہار کے لیے چاول نچھاور کرتے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ اس سے جوڑے کی ہونے والی اولاد میں خیر و برکت آئے گی‘ فصلیں اچھی ہوں گی اور یہ گھرانہ پھلے پھولے گا۔جاپان کی ایک دیومالی روایت (myth) ہے کہ پہلے پہل سورج دیوتا نے آسمان پر چاول اگائے تھے اور پھر خوش ہو کر چاول کے بیج اس نے جاپان کے بادشاہ کی اولاد کو تحفتاً دیے۔ واضح رہے کہ جاپان میں صدیوں تک دولت ناپنے کا معیار چاول ہی تھا۔ جاگیرداروں کی حیثیت کا تعین اس بات سے کیا جاتا تھا کہ ان کی ملکیت میں چاول پیدا کرنے والی زمین کتنی ہے۔ عہدِ قدیم کی بعض تہذیبوں میں سامورے یعنی جنگجوؤں کو تنخواہ کے طور پر چاول دیے جاتے تھے۔ جاپانی اور چینی زبانوں میں مشترکہ طور پر ”کھانے“ کے لیے لفظ ”چاول“ بولا جاتا ہے۔ جاپان میں چاول کے دیوتا کو مذہبی عقائد میں اہم مقام حاصل ہے اور وہاں اس کے ہزاروں مندر ہیں۔ جاپانی لوگ سالِ نو کی خوشیاں منانے کے لیے صرف چاول کے کیک بناتے ہیں جن کو وہ ”موچی“کہتے ہیں۔ انڈونیشیا میں جاوا کے علاقے میں چاول کی دیوی سری کا دیا ہوا تحفہ مانا جاتا ہے۔ یہ لوگ اس بات پر بھی یقین رکھتے تھے کہ چاول میں روح ہوتی ہے۔

Essential Life

چاول میں پائے جانے والے کیمیائی اجزا:
چاول غذائیت سے بھرپور ایک فصل ہے۔اس میں اعلیٰ قسم کی پروٹین کی وافر مقدار پائی جاتی ہے، جسے انسانی جسم آسانی سے ہضم اور جذب کرسکتا ہے۔ یہ وٹامن بی اور وٹامن ای اور فیٹی ایسڈزسے بھرپور ہوتے ہیں۔ ان کے علاوہ چاولوں میں پوٹاشیم، میگنیشیم، زنک، آئرن، اور مینگنیزجیسے مرکبات بھی پائے جاتے ہیں۔ چاول کے چوکر (بھوسے) سے تیل بھی نکالا جاتا ہے، جس میں قدرتی اینٹی آکسیڈینٹ ہوتے ہیں یعنی ٹوکوفیرول، ٹوکوٹریئنول اور اورزینول جو جسم میں فری ریڈیکلز کے خلاف کام کرتے ہیں۔

چاول کے تیل کے فوائد

اینٹی آکسیڈینٹس سے بھرپور:
چاول کی چوکر کے تیل میں قدرتی اینٹی آکسیڈینٹ ہوتے ہیں یعنی ٹوکوفیرول، ٹوکوٹریئنول اور اورزینول جو جسم میں آزاد ریڈیکلز کے خلاف کام کرتے ہیں۔ فری ریڈیکل مختلف دائمی بیماریوں، جیسے اسٹروک، دل کی بیماریوں، اور یہاں تک کہ کینسر کی وجہ بنتے ہیں۔

Essential Life

قوت مدافعت میں اضافہ:
اوریزانول ایک بہت طاقتور اینٹی آکسیڈینٹ ہے اور بڑی مقدار میں چوکر کے تیل میں دستیاب ہوتاہے۔ اوریزانول دیگر فائیٹو کیمیکل اجزاء کے ساتھ مل کرمختلف بیماریوں سے بچنے کیلئے جسم کے مدافعتی نظام کومضبوط کرتا ہے۔

خراب ایل ڈی ایل کولیسٹرول کو کم کرنا۔
جرنل آف انڈین میڈیسن میں شائع ہونے والی ایک تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ چوکر کا تیل خراب ایل ڈی ایل کولیسٹرول کی سطح کو کم کرنے میں مدد فراہم کرسکتا ہے۔یہ مطالعہ ان لوگوں پر کیا گیا تھا جن میں ہائی کولیسٹرول تھا اور انہیں 3 ماہ کے لئے 80٪ رائس آئل اور 20٪ سورج مکھی کا استعمال کرنے کے لئے کہا گیا ہے۔ نتائج سے ظاہر ہوا ہے کہ ایل ڈی ایل کی سطح میں نمایاں

Essential Life

کمی واقع ہوئی ہے۔

کھانا پکانے کے تیل کا متبادل:
ماہرین خوراک کے مطابق رائس آئل ناریل کے تیل، پام آئل اور کارن آئل کے مقابلے میں کھانا پکانے کا ایک بہتر تیل ہے۔

بالوں کیلئے مفید:
رائس آئل سے بال مضبوط اور چمکدار ہوجاتے ہیں۔ رائس آئل کی سر پر مالش کرنے سے نہ صرف خشکی اور سکری دور ہو جاتی ہے بلکہ یہ سر کی قدرتی نمی کو برقرار بھی رکھتا ہے۔

چہرہ شفاف بنائیں:
رائس آئل سے چہرے کی کلینزنگ کی جاسکتی ہے۔ رائس آئل میں روئی بھگو کر چند منٹ کیلئے اپنے چہرے کی مالش کریں، تھوڑی دیر بعد چہرے کو اچھے صابن سے دھو لیں، اس عمل سے چہرہ نرم وملائم اور نکھر جائے گا،رائس آئل کے اس استعمال سے کیل مہاسے بھی ختم ہو جاتے ہیں۔

جلدی بیماریوں کا علاج:
جلد پر ہونے والی سوزش یا جلن کی صورت میں چاول کے چوکر کا تیل لگانے سے افاقہ ملتا ہے۔ جلد میں اگر سوزش ہو تو متاثرہ حصے پر صاف کپڑے سے چند منٹ تک یہ تیل لگائیں،یقیناً اس عمل سے سوزش میں کمی نظر آئے گی۔ جبکہ جسم پر اس کی مالش کی جائے تو جلد نہایت نرم اور ملائم ہو جاتی ہے۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

معیاری اور خالص مصنوعات خریدنے کیلئے کلک کریں:

Related Posts