Urdu

ککروندا کی چائے: قوت مدافعت بڑھائے، جگر کو دے سہارا

ککروندا(Dandelion) ایک معجزاتی پودا ہے،جو پاکستان بھرمیں خودرو اگتا ہے اور جس کو ہم بیکار جڑئی بوٹی سمجھ کر کاٹ پھینکتے ہیں۔ لیکن ترقی یافتہ ممالک میں اسے فائیو سٹار ہوٹلوں میں سلاد کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے۔ یہ خوش ذائقہ پودا اپنے اندر کینسر کے مرض کے خلاف معجزاتی فوائد رکھتا ہے۔یہ قوت مدافعت بڑھاتا ہے، جگر کو مضبوط کرتا ہے۔

ککروندا میں پائے جانے والے کیمیائی اجزا:
طاقتور اینٹی آکسائیڈینٹ خوبیوں سے بھرپور ککروندا وٹامنز، منرلز اور کھانے والی فائبر کا خزانہ ہے۔اس میں وٹامن کے، وٹامن اے، وٹامن سی، وٹامن ای اور وٹامن بی کے علاوہ فولیٹ پائی جاتی ہے۔ اس پودے کی جڑیں حل پزیر ڈائٹری فائبر سے بھر پور ہوتی ہیں۔

ککروندا کے طبی فوائد:

ککروندا کی جڑ میں کینسر کا علاج:
اس پودے کی جڑیں کینسر کے خلیوں کو ختم کر دیتی ہیں اور دوسرے خلیوں کی حفاظت کرتی ہیں۔ کینیڈا کی ونڈسر یونیورسٹی کے کیمسٹری اور بائیو کیمسٹری کے ڈیپارٹمنٹ کے محققین کے تجرباتی مطالعہ سے معلوم ہوا کہ اس پودے کی جڑیں ٹیومر کے خلیوں کو نکال دیتی ہیں اور جن خلیوں کو بچانا ہے ان کی حفاظت بھی کرتی ہیں۔ ان کی تحقیق کے مطابق کیمو تھراپی سے زیادہ اچھی دوا ککروندا(Dandelion)کی جڑیں ہیں۔

غذائی اجزا سے بھرپور:
جڑ سے لیکر پھولوں تک ککروندا وٹامنز، منرلز اور کھانے والی فائبر سے بھرپُور پودا ہے جس میں وٹامن کے، اے، سی، ای اور بی کے علاوہ فولیٹ، پولی فینلز اور بیٹا کیروٹین پائی جاتی ہے۔ حل پزیر ڈائٹری فائبر کے علاوہ اس میں متعددبائیوایکٹیو کمپاونڈز پائے جاتے ہیں۔

طاقتور اینٹی آکسائیڈینٹ:
جدید میڈیکل سائنس کی تحقیقات کے نتائج کے مطابق ککروندا طاقتور اینٹی آکسائیڈینٹ خوبیوں کا حامل ہے اسی لیے اسے طب ایوردیک اور طب یونان میں بڑی اہمیت دی جاتی ہے۔
ککروندے میں جہاں طاقتور اینٹی آکسائیڈینٹ پائے جاتے ہیں وہاں بیٹا کیروٹین بھی پائی جاتی ہے جو جسم کے سیلز کو خراب ہونے سے بچاتی ہے اور ہماری آنکھوں کو توانا رکھنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔

سوزش کو ختم کرے:
سوزش یعنی Inflammationجسم میں بیماری یا چوٹ کے باعث پیدا ہوتی ہے اور جسم کے اعضا کو متاثر کرتی ہے اور اگر اسے دیر تک نظر انداز کیا جائے تو یہ خطرناک ہو سکتی ہے۔ککروندا میں کئی بائیو ایکٹیو کمپاونڈز پائے جاتے ہیں جو سوزش کو دُور کرنے میں مفید مانے جاتے ہیں۔

بلڈ شوگر کو کنٹرول کرے:
ککروندا خون میں شوگر کو کنٹرول کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

کولیسٹرول کم کرے:
بُرا کولیسٹرول جسم میں دائمی بیماریوں کی ماں ہے اور جب یہ بڑھ جاتا ہے تو دل، بلڈ پریشر اور شوگر جیسی خطرناک بیماریوں کو پروان چڑھاتا ہے، ککروندا کے پودے میں ایسے کیمیائی اجزا شامل ہیں جو اس بُرے کولیسٹرول کو کم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

وزن کم کرے:
میڈیکل سائنس کی کُچھ تحقیقات کے مُطابق ککروندا میں شامل کمپاونڈز ہمارے جسم میں موجود اضافی چربی کو پگھلانے میں مُفید ثابت ہوتا ہے خاص طور پر اس کی جڑ جو حل پزیر فائبر پر مشتمل ہوتی ہے وزن کم کرنے میں کافی مدد گار ثابت ہو تی ہے۔

ہاضمہ بہتر بنائے:
طب یونانی اور ایوردیک میں اس پودے کو قبض کے خاتمے کے لیے صدیوں سے استعمال کیا جارہا ہے اور جدید میڈیکل سائنس کی کئی تحقیقات کے نتائج قدیم ادویات کے اس نقطے کو تسلیم کرتی ہے۔

قوت مدافعت کو بڑھائے:
میڈیکل سائنس کی کُچھ تحقیقات کے مطابق ککروندا میں اینٹی وائرل پراپرٹیز شامل ہیں جوہمارے جسم کو اینفکشین سے لڑنے میں مدد دیتی ہیں۔دُنیا میں ایسے بیشمار جراثیم موجود ہیں جن کا میڈیکل سائنس کے پاس کوئی علاج نہیں ہے لیکن انسانی جسم کے اندر موجود قوت مدافعت قدرتی طور پر ایسے جراثیموں کے خلاف دفائی نظام پیدا کر لیتی ہے اور اگر ہمارا ایمیون سسٹم ٹھیک کام کر رہا ہو تو کرونا جیسی وبائیں ہماری صحت کو متاثر نہیں کرسکتیں۔

جلد کے لیے مفید:
ککروندا جلد کے لیے انتہائی مُفید چیز ہے جو چہرے کے کیل مہاسوں ایکنی وغیرہ کوختم کرتا ہے۔ جلد کو دُھوپ کے اثرات سے بچاتا ہے اور خراب نہیں ہونے دیتا۔

ککروندا کے استعمال کا درست طریقہ:

ککروندا کا پاؤڈر کھانا پکاتے ہوئے اس میں بھی شامل کیا جا سکتا ہے۔لیکن اس کے استعمال کرنے کا درست طریقہ یہی ہے کہ اس کی چائے بنا کر پی جائے۔ جو دن میں ایک بار ہی کافی ہے۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اسے استعمال کرنے کے حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

خالص اور معیاری اشیاء خریدنے کیلئے کلک کریں: