Urdu

کیابچے بھی انزائٹی کا شکار ہوسکتے ہیں؟

لوگوں کا خیال ہے کہ صرف بڑے ہی انزائٹی کا شکار ہوتے ہیں لیکن ایسا نہیں ہے کیونکہ یہ بیماری بچوں میں بھی پائی جاسکتی ہے۔

انزائٹی کی کئی علامات ہیں جن کے ظاہر ہونے سے اس بات کا اندازہ آرام سے ہوسکتا ہے کہ بچہ انزائٹی کا شکار ہے۔

امریکی میڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق، عالمی سطح پر بچوں کا تقریباََ پانچواں حصّہ انزائٹی کی علامات ظاہر کرتا ہے۔

جبکہ یو ایس سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن کے مطابق، 2016 اور 2019 کے درمیان 3 سے 17 سال کی عمر کے 5.8 ملین بچوں میں انزائٹی کی تشخیص ہوئی۔

والدین اپنے بچوں میں ان علامات کو جتنی جلدی محسوس کریں گے، اتنی ہی جلدی ان کے بچوں کا علاج ممکن ہوسکے گا۔

برطانیہ کی نیشنل ہیلتھ سروس اور مشی گن اسٹیٹ یونیورسٹی کے مطابق، بچوں میں انزائٹی کی عام علامات میں توجہ مرکوز کرنے میں دشواری، بستر گیلا ہونا، اپنے بڑوں سے ضرورت سے زیادہ لپٹنا، اعتماد کی کمی، عوام سے اجتناب کرنا اور نیند میں دشواری شامل ہیں۔

انزائٹی بچوں کے بہت سے پریشان کن روّیوں کی بنیادی وجہ ہو سکتی ہے جیسے کہ غصّے کا مظاہرہ کرنا، ہوم ورک مکمل کرنے سے انکار، اور چڑچڑا ہونا۔

اس حوالے سے کلینیکل سائیکالوجسٹ ریچل بسمین کا کہنا ہے کہ ’بچوں کے پاس اس بیماری کے بارے میں بتانے کے لیے الفاظ نہیں ہوتے ہیں کہ وہ کس طرح اپنے

بڑوں کو بتا سکیں کے وہ تکلیف میں ہیں۔ لہذا، وہ عمل سے اس کا اظہار کرتے ہیں۔‘

ماہرین نے اس بیماری سے نمٹنے کے لیے بچوں کے ساتھ ہمدردی سے بات چیت کرنے پر زور دیا ہے۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

معیاری اور خالص مصنوعات خریدنے کیلئے کلک کریں: