Urdu

کیمو مائل کی چائے: جادوئی اثرات کی حامل

طبی فوائد رکھنے والی جڑی بوٹیوں میں ایک بابونہ ( chamomile )نامی پودا ہے۔ جس کو کیمو مائل بھی کہا جاتا ہے۔ کیمو مائل جنوبی ایشیا سے امریکا تک پایا جانے والا مشہور پودا ہے۔ اس کی کئی اِقسام ہیں۔ بعض اِقسام کے پھولوں سے تیل بنتا ہے۔بعض اقسام کے پھولوں سے سفوف بنتا ہے اور کچھ اقسام کے پھولوں سے چائے تیار ہوتی ہے۔
اس پودے کے پھول کو گل بابونہ کہتے ہیں، اس کے سفید پھول زیادہ خوشبودار اورموثر ہوتے ہیں۔ پھولوں کے اندر ہی بیج بھرے ہوتے ہیں۔اس پودے کے پھول، بیج اور جڑیں دواؤں میں استعمال ہوتی ہیں۔

بابونہ کے بنیادی اجزا
بابونہ سے حاصل کیے گئے تیل میں چامولین (chamazulene) ہوتا ہے۔ جو بنیادی طور پر اینجلک ایسڈ(angelic acid) اور ٹائگلک ایسڈ((tiglic acid سے تشکیل پاتا ہے۔
طب اسلامی و یونانی میں کیمومائل کا بہت زیادہ استعمال ہوتا ہے۔جرمنی میں اس جڑی بوٹی کو ہومیو میڈیسن میں استعمال کیا جاتا ہے۔

بابونہ سے بنی چائے کے  فوائد
کیمومائل سے تیار کردہ چائے متعدد امراض کا شافی علاج ہے۔ اسے قدرتی انسولین کا خزانہ بھی کہا جاتا ہے، یہ بوٹی شوگر کی دشمن بھی کہلائی جاتی ہے۔

اس سے بنی چائے انسان کو سکون بخشتی ہے اور تنے ہوئے اعصاب کو نارمل کرتی ہے۔ پاکستان کے شمالی علاقہ جات میں کیمومائل فلاور کی چائے بہت شوق سے پی جاتی ہے جو اپنے طبی فوائد اور مسحور کن خوشبو کے لحاظ سے بے مثال ہے۔ جبکہ پاکستان کے دیگر علاقوں جیسے پنجاب، سندھ وغیرہ میں گل بابو نہ کی چائے کم پی جاتی ہے، لیکن امریکہ اور یورپ میں اس کا اِستعمال عام ہے۔ وہاں بابوبہ کے جوہر سے بنی ادویات بھی عام ملتی ہیں۔ 2018میں امریکہ کے طبی سائنس دانوں نے بے چینی کے شکار متعدد افراد جن میں خواتین اور مرد شامل تھے کو آٹھ ہفتے تک بابونہ سے بنی ہوئی چائے پلائی۔انھوں نے دیکھا کہ اس کی بدولت وہ تقریباً سب بے سکونی سے نجات پاگئے۔

صدیوں سے اس کی چائے یونان، مصر اور روم میں زخموں کوٹھیک کرنے کیلئے استعمال کی جاتی رہی ہے۔ جسے جدید تحقیق نے بھی درست ثابت کیا ہے۔

طبی ماہرین کے نزدیک یہ چائے شوگر کے مریضوں کیلئے بھی انتہائی افادیت کی حامل ہے۔

یہ اینٹی بکٹیریل ہے اور سردی سے ہونے والی کھانسی فلو اور بخار وغیرہ کے مریضوں کیلئے انتہائی سود مند ہے۔

برطانیہ میں ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق کیمومائل کی چائے پٹھوں کے درد اور کچھاؤ میں آرام دیتی ہے۔

اس کی بنی ہوئی چائے معدے کے امراض مثلا گیس اور السر وغیرہ کیلئے انتہائی مفید ہے۔

کیمومائل ٹی کی مدد سے نیند کے مسائل سے چھٹکارا پایا جا سکتا ہے۔ اس کے استعمال سے بہتر اور پر سکون نیند آتی ہے۔

یہ بواسیر کا قدرتی علاج ہے اور اکسیر کی حیثیت رکھتا ہے۔

اس کی بنی چائے صحت مند جلد کے حصول کے لئے بھی مفید ہے اور خواتین اسے نیچرل سکن کلینزر کے طور پر استعمال کرتی ہیں۔

مغربی محققین طب نے اس بات کا امکان بھی ظاہر کیا ہے کہ یہ کینسر کے خلاف بھی موثر ہے لیکن فی الحال اس کے بارے میں مزید تحقیق جاری ہے۔

گل بابونہ کی چائے پر ہونے والی ایک اور تحقیق کے مطابق اسکو روزانہ ایک ہفتہ پینے والوں کا امیون سسٹم مضبوط ہوجاتا ہے اور نروس سسٹم کو طاقت ملتی ہے۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اسے استعمال کرنے کے حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

خالص اور معیاری اشیاء خریدنے کیلئے کلک کریں: