Urdu

گل منڈی: آشوب چشم کا قدرتی علاج

مختلف نباتات اور جڑی بوٹیاں نہ صرف انسان کی غذائی ضروریات پوری کرتی ہیں بلکہ صدیوں سے مختلف بیماریوں کے علاج کے لیے بھی استعمال ہورہی ہیں۔اسی طرح گل منڈی بھی ایک مشہور جڑی بوٹی ہے، جسے انگریزی میں Sphaerathusi Indicus کہتے ہیں۔ جس کے بارے میں اطبا کی تحقیق اور تجربات نے ثابت کیا ہے کہ اس کا ایک پھول صبح نہار منہ نگل لیا جائے تو آشوبِ چشم سے محفوظ رہا جاسکتا ہے۔ تاہم یہ بات آپ کے لیے تعجب کا باعث ضرور ہو گی کہ اس کا ایک پھول صرف ایک سال تک ہی اس مرض سے بچا سکتا ہے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ جتنی تعداد میں کوئی شخص یہ پھول نگلے گا، اتنے ہی وہ برس آشوب چشم سے محفوظ رہے گا۔ یعنی دس پھول نگلنے کی صورت میں 10 سال تک آشوبِ چشم سے محفوظ رہا جاسکتا ہے۔

گل منڈی کا پودا زمین پر پھیلا ہوا ہوتا ہے جب کہ پتّے چھوٹے ہوتے ہیں جن پر رواں ہوتا ہے۔ دیکھنے میں یہ پودینے کے پتّوں کی طرح ہوتے ہیں۔ اس کا پھول سبز گلابی مائل اور گول ہوتا ہے۔ اکثر علاقوں میں اسے گھنڈی بھی کہتے ہیں۔ یہ دھان کے کھیتوں میں اور گیہوں، جو وغیرہ، ربیع کی فصلوں کے کھیتوں میں زیادہ تر پائی جاتی ہے۔ چھوٹے چھوٹے تالابوں کا پانی سوکھ جانے پر اس جگہ میں بھی موسم سرما میں پیدا ہوتی ہے۔

گل منڈی کے پھول خون صاف کرنے والی ادویہ میں استعمال ہوتے ہیں۔ اطبا کے مطابق خون صاف کرنے میں اس جڑی بوٹی کا کوئی ثانی نہیں۔ کہا جاتا ہے کہ اس کے استعمال سے دل، دماغ اور حافظے کو فائدہ ہوتا ہے۔ یہ جڑی بوٹی بینائی کے لیے بھی مفید بتائی جاتی ہے۔

ماہرین کے مطابق اگر سالم پھول نہ نگلنا چاہیں، تو اس کے پھولوں کو سایہ دار جگہ پر رکھ کر خشک کر لیا جائے اور اس کے ہم وزن سونف ملا کر کُوٹ لیں۔ پھر اس میں اسی توازن سے شکر ملا کر سفوف کو کسی شیشی میں محفوظ کر لیں۔ اس سفوف کا ایک چمچ روزانہ صُبح دودھ کے ساتھ استعمال کریں جو بصارت کے لیے مفید ہے۔

ماہرینِ طب بتاتے ہیں کہ گل منڈی کا استعمال پھوڑے پھنسیوں، خارش، داد، چنبل اور فسادِ خون کے نتیجے میں لاحق ہونے والے عوارض سے بھی محفوظ رکھتا ہے۔ اس جڑی بوٹی کے حوالے سے ایک جدید تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ اس میں ایک ایسا کیمیائی جزو پایا جاتا ہے، جو وَرم میں فائدہ دیتا ہے۔

گل منڈی کے طبی فوائد:

آشوب چشم کا علاج:
جیسا کہ شروع میں بتایا گیا کہ گل منڈی سے آشوبِ چشم کے مرض سے محفوظ رہا جاسکتا ہے۔ تاہم یہ بات آپ کے لیے تعجب کا باعث ضرور ہو گی کہ اس کا ایک پھول صرف ایک سال تک ہی اس مرض سے بچا سکتا ہے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ جتنی تعداد میں کوئی شخص یہ پھول نگلے گا، اتنے ہی وہ برس آشوب چشم سے محفوظ رہے گا۔ یعنی دس پھول نگلنے کی صورت میں 10 سال تک آشوبِ چشم سے محفوظ رہا جاسکتا ہے۔
چنانچہ ہر سال مارچ کے مہینے میں روزانہ گورکھ منڈی کے ایک دو تازہ پھل توڑ کر چبا کر پانی کے ساتھ نگل لیا کریں۔ پورا سال آنکھیں ٹھیک رہیں گی اور بینائی کم نہیں ہو گی۔

نظر کی کمزوری:
جن لوگوں کی بینائی کمزور ہو گئی ہو وہ اسے استعمال کرکے فائدہ اٹھائیں۔ گورکھ منڈی پھل کا باریک سفوف بنالیں۔ اس کے برابر شکر یا چینی ملا لیں۔ اس کو لگاتار ایک چمچہ سفوف گائے کے دودھ کے ساتھ استعمال کریں۔ اس سے تمام امراض چشم دور ہو جاتے ہیں۔بینائی تیز ہو جاتی ہے۔

پیٹ کے کیڑے:
گورکھ منڈی کے بیجوں کا سفوف 5 گرام پانی سے دیں۔ اس سے پیٹ کے تمام کیڑے ہلاک ہو کر باہر نکل جائیں گے اور پیٹ صاف ہوجائے گا۔ بچوں کو ایک گرام سفوف استعمال کرائیں۔ چھوٹے بچوں کو نہ دیں۔

مردانہ کمزوری:
جن مردوں کی مردانہ قوت ختم ہو گئی ہو وہ اسے ضرور استعمال کریں۔ گورکھ منڈی کی تازہ جڑ 100 گرام کو دھو کر صاف کر لیں۔ اس اسکو کوٹ پیس لیں۔ قلعی دار پیتل کی کڑاہی میں رکھ کر 400 گرام تلی کے خالص تیل اور پانی1600گرام ملا کر دھیمی آگ پر رکھیں۔ جب پانی جل جائے اورصرف تیل باقی رہے، تب آگ سے اتار کر ٹھنڈا کرلیں اور چھان کر بوتل میں بھر لیں۔اس تیل کی جسم پر مالش کرنے اور عضو خاص پر مالش کرنے سے جسم میں چستی، اور طاقت آتی ہے۔ کھانا کھانے کے بعد اس کا تیل دس بارہ بوندیں پان پر ٹپکا کر پان میں رکھ کر کھانے سے مردانہ کمزوری دور ہوجاتی ہے اور مردانہ قوت میں اضافہ ہوتا ہے۔

پستانوں کا ڈھیلا پن:
عورتوں کے پستان وقت سے پہلے ڈھیلے ہو گئے ہو، ان کے لئے یہ نسخہ کار گر ثابت ہوا ہے۔ اس سے پستانوں میں سختی آ جاتی ہے۔ گورکھ منڈی کے پھول، جڑ اور تنا 50 گرام،لینڈی پیپر 50 گرام، دونوں کو پانی کے ساتھ پیس لیں۔قلعی دار کڑاہی میں شدھ تلی کا تیل 200 گرام، پانی 800 گرام ڈال کر لگدی ڈال دیں اور دھیمی آگ پر پکائیں۔ جب پانی جل جائے تو اتار کر ٹھنڈا کر کے بوتل میں محفوظ رکھیں۔ وقت ضرورت عورت اس تیل کی جسم پر مالش کرے تو اس کا جسم چست ہو جائے گا۔روئی کو تیل میں بھگو کر نچوڑ لیں۔ اس تیل کے پستانوں پر آہستہ آہستہ مالش کریں اور اوپر یہ روئی رکھ کر کپڑا لپیٹ کر انگیہ پہن لیں۔ دن میں 5۔6بار اس تیل کو رومال پر ڈال کر سونگھتی رہے۔متواتر چند دن تک یہ طریقہ اپنائیں، اس سے پستانوں کا ڈھیلا پن دور ہو جائے گا۔ لٹکے ہوئے پستانوں میں کساوَ آ جائے گا۔

عام کمزوری:
گورکھ منڈی کے پھول، جڑ اور تنا کو سایہ میں سکھا کر کو ٹ پیس کر باریک سفوف تیار کرکے ایک کھلے منہ کی بوتل میں حفاظت سے رکھیں۔
5 گرام صبح دودھ کے ساتھ استعمال کریں۔اس سے جسم چست رہتا ہے اور بال جلد سفید نہیں ہوتے یہ عورت و مرد دونوں کے لئے مفید ہے۔ اگر اسے جریان و سیلان میں استعمال کیا جائے تو بھی فائدہ دیتا ہے۔

کمزوری دماغ:
گورکھ منڈی کے پتوں کا رس250گرام،اڑوسہ کے پتوں کارس 250 گرام، شکر400گرام، پانی دو کلو۔سب ادویات کو اکٹھا ملا کر ایک قلعی دار کڑاہی میں پکائیں۔ آگ دھیمی جلائیں۔ جب ایک کلو باقی رہ جائے تو نیچے اتار کر رکھ دیں۔ ٹھنڈا ہونے پر بوتل میں ڈال لیں اور بوقت ضرورت استعمال کریں۔

خارش:
گورکھ منڈی کے پھل چار عدد، کالی مرچ چار عدد۔ دونوں کو باریک پیس کر سفوف بنا کر چھان لیں۔ صبح اس کو پانی کے ساتھ استعمال کرائیں۔ خارش کے لئے مفید ہے۔

پیشاب میں خون آنا:
گورکھ منڈی کے پھل کا سفوف20گرام۔گوکھرو چھوٹا، شورہ قلمی، الائچی خورد، پتھر توڑ بوٹی ہر ایک کا سفوف 10۔10گرام۔ مصری 50 گرام سفوف شدہ۔سب ادویات کو ملا لیں۔چھ گرام کی مقدار میں چاولوں کے دھوون 100 گرام کے ساتھ دن میں دو بار صبح اور شام دیں۔ اس سے پیشاب میں خون آنا بند ہوجاتا ہے۔

میٹھی اواز:
گورکھ منڈی کے ساتھ سفوف سونٹھ ملا کر شہد کے ساتھ دیں۔ 1 گرام کی مقدار میں دن میں تین چار بار دیں۔

مرگی:
گورکھ منڈی کے پھول دو عدد کے ساتھ ایک گرام کی مقدار میں بیچ کا سفوف ملا کر پانی سے پیس کر چھان کر صبح و شام پلائیں اور مریض کے گلے میں اس کے کچے پھلوں کے دھاگے میں پرو کار مالا پہنائیں۔ اس طرح چند روز کرتے رہنے سے آرام آجاتا ہے۔

جلدی امراض:
اس کے پتوں کارس جسم یا کھال پر ملنے سے یا پتوں کو پانی میں پیس کر لیپ کرتے رہنے سے کئی قسم کے جلدی امراض، پرانے زخم، پیشاب کی نالی کے زخم وغیرہ کے امراض دور ہوجاتے ہیں۔

بواسیر:
گورکھ منڈی کے پتوں کا رس اور ارنڈ کے پتوں کا رس،ہر ایک 25گرام۔ دونوں کو ملا کر پلائیں اور اس کے پتوں کی لگدی مسوں پر باندھنے سے یا پنچانگ کی دھونی دینے سے بواسیر کو آرام ملتا ہے۔

برص،سفید داغ:
گورکھ منڈی کے پھل کا سفوف ایک حصہ، سمندر سوکھ آدھا حصہ سفوف، ملالیں، دو گرام سے نو گرام کی مقدار میں پانی سے دیں۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

خالص اور معیاری اشیاء خریدنے کیلئے کلک کریں:

Related Posts