Urdu

گنکگو بلوبا: الزائمر کا قدرتی علاج

گنکگو بلوبا جسے جِنکگو بلوبا بھی کہا جاتا ہے کو سائنس دان دنیا کے قدیم ترین نسل کے درخت تسلیم کرتے ہیں۔ سائنس دانوں کے مطابق یہ آج سے لاکھوں سال پہلے بھی زمین پر موجود تھے، جب یہاں پر ڈائنو سار زندہ تھے۔ ان کا وطن چین ہے، جہاں سے یہ پوری دنیا میں پھیلے، گنکگو کے درخت کی لمبائی تقریباً60 سے 80 فٹ تک ہوتی ہے۔ اس کی شاخوں پر خول میں لپٹا ہوا ایک بیج بھی لگتا ہے، جسے بھون کر کھایا جاتا ہے۔

گنکگو کے درخت کے مختلف حصے اور اس کا تیل صدیوں سے چین کی روایتی ادویات میں استعمال کیے جاتے ہیں۔ انہیں اب ہومیوپیتھی کے علاوہ دیگر نباتی طبوں میں بھی استعمال کیا جارہا ہے۔مارکیٹ سے اس کا تیل، اس سی بنی گولیاں، کیپسول اور خشک پتے یعنی چائے کی صورت میں دستیاب ہے۔ جِنکگو سپلیمنٹ بھی بازار میں ملتے ہیں۔

گنکگو بلوبا میں پائے جانے والے کیمیائی اجزا:
اینٹی انفلیمیشن، اینٹی آکسیڈینٹ اور نیورو پروٹیکٹو خصوصیات کا حامل گنکگو بلوبا لاتعداد قدرتی مرکبات کا مجموعہ ہے۔ اس میں وٹامن اے، بی کمپلکس، زنک، فاسفورس، کیلشیم، میگنیشیم، میگنیز، آئرن اور دیگر مرکبات پائے جاتے ہیں۔

گنکگو بلوبا کے طبی فوائد:

الزائمر کا قدرتی علاج:
گنکگو بلوبا میں میں قدرت نے ایسے اجزا رکھ دیئے ہیں کہ جو الزائمر نامی بیماری کا شافی علاج ہیں۔ چین میں اس درخت کے مختلف حصے، پھل، بیج، پتے، شاخیں، جڑ، چھال اور اس کا نکالا گیا تیل مختلف بیماریوں کے علاج کیلئے استعمال میں لائے جا رہے ہیں۔

اینٹی آکسیڈنٹس خصوصیات:
اس میں موجود اینٹی آکسیڈنٹس بدن میں سوزش اور جلن کم کرتے ہیں۔ ماہرین کا یہ کہنا ہے کہ گنکگو بلوبا میں ایسے اجزا موجود ہیں کہ جو کینسر سے بچاتے ہیں۔اس میں فائبر کی زبردست مقدار موجود ہوتی ہے جو خون میں گلوکوز کی مقدار کنٹرول کرتی ہے، ماہرین نے یہ بھی کہا ہے کہ یہ انسانی لبلبے کی کارکردگی بہتر بنا کر ذیابیطس کو روکتی ہے۔

نفسیاتی امراض کا علاج:
گنکگو بلوبا نفسیاتی امراض جیسے الزائیمر اور ڈیمینشیا میں مفید ثابت ہوا ہے۔یہ ان بیماریوں کی بننے والی بنیادی وجوہات کاخاتمہ کرنے میں نہایت معاون ہے۔ بیجنگ یونیورسٹی آف چائنیز میڈیسن کی ایک تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ یہ دیگر روایتی دوا کے ساتھ مل کر استعمال کرنے پر ان بیماریوں میں مبتلا افراد کی فعال صلاحیتوں میں اضافہ کرتاہے۔
ایک اور تحقیق میں کہا گیا ہے کہ گنکگو بلوبا کا تیل ڈیمینشیا کا موثر علاج ہے۔اس تحقیق میں دیگر شواہد بتاتے ہیں کہ گنکگو بلوبا دماغ میں خون کے بہاؤ کو بھی بہتر کرتا ہے۔برلن یونیورسٹی کی ایک تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ گنکگو بلوبا کا تیل ڈیمینشیا کا شافی علاج ہے۔یہ اس مرض میں مبتلا افراد میں کام سیکھنے، اور یاداشت بڑھنے میں مدد دیتا ہے۔

بے چینی اور اضطراب کا علاج:
گنکگو بلوبابے چینی، اضطراب، ذہنی تناؤ اور پریشانی کی کیفیت کو ختم کرنے میں بے مثال دوا سمجھا جاتا ہے۔ اس میں موجود اینٹی آکسیڈینٹ مواد اضطراب کی علامات اور دیگر خرابیوں کو کم کرنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔ایک مطالعے میں 107 افراد کے ایک گروپ کو گنکگو بلوبا کی خوراک دی گئی، جن میں سے 90افراد میں بے چینی کی کیفیت ختم ہو گئی۔

سوزش کا علاج:
جلدی سوزش اور سوجن میں گنکگو بلوبا نہایت مفید ہے۔نیشنل تائیوان یونیورسٹی کی ایک تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ گنکگو بلوبا کا تیل جانوروں اور انسانی خلیوں میں سوزش پیدا کرنے والے ماخذ کو ختم کرتا ہے۔ جبکہ دیگر جلدی سوزش کو بھی ختم کرنے میں معاون ثابت ہوا ہے۔

گٹھیا کا علاج:
چوہوں پر کی گئی ایک تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ گنکگو بلوبا کا تیل گٹھیا کو کم کرنے میں مدد فراہم کرسکتا ہے۔چین کی طب میں اب بھی شدید دماغی اسٹروک کے مریضوں کو گنکگو بلوبا کا تیل تجویز کیا جاتا ہے اس میں موجود نیورو پروٹیکٹو خصوصیات مریضوں کو نارمل کرنے میں مدد کرتی ہیں۔

مردانہ کمزوری کا علاج:
گنکگو بلوبا سرعت انزال کے سنگین جنسی مسائل میں نہایت مددگار ہے۔ یہ مردانہ عضو کو طاقت دیتا ہے اور مادہ کو گاڑھا کرتا ہے۔ مرد اور عورت دونوں پر یکساں اثرات ہوتے ہیں۔

سدا جوان رکھے:
گنکگو بلوبا میں قدرت نے ایسے مرکبات رکھے ہیں جو عمر میں اضافہ ہونے سے صحت پر پڑنے والے اثرات کو روکتے ہے۔اس طرح یہ بڑھاپے کو جلد آنے روکتا ہے۔

موٹاپا کو کم کرے:
گنکگو بلوبا موٹاپا کم کرنے میں بھی مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔ چوہوں پر کیے گئے کے ایک مطالعے میں کہا گیا ہے کہ گنکگو بلوبا کا تیل جلد پرجمع ہونے والی چربی کو کم کرنے میں معاون ہے۔

بالوں کی نمو بڑھائے:
گنکگو بلوبا کا تیل بال جھڑ کا بہترین علاج ہے۔ یہ بالوں کی نشوو نما اور قدرتی چمک لاتا ہے اور انھیں گھنا بناتا ہے۔گرتے بالوں کو گرنے سے روکتا ہے۔

احتیاط: گنکگو بلوبا وہ افراد استعمال نہ کریں کہ جنہیں کسی بھی قسم کی الرجی ہو۔ دودھ پلانے والی مائیں بھی اسے استعمال نہ کریں۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

خالص اور معیاری اشیاء خریدنے کیلئے کلک کریں:

Related Posts