Urdu

گوار پھلی: فالج کیخلاف قدرتی ڈھال

گوار کی پھلیوں کا استعمال صحت کے لیے بہت مفید دہ ہے۔یہ گوشت کا سب سے بہترین متبادل ہیں۔ یہ وٹامنز اور پروٹین سے بھرپور ایک سبزی ہے۔ ماہرین غذایات کا کہنا ہے کہ سبزیاں کینسر کے خطرے کو کم کرتی ہیں۔ ان سبزیوں میں گوار کی پھلیاں سب سے اچھی سبزی ہے جو کینسر سے لڑنے کی بھرپور طاقت رکھتی ہے۔

پاکستان سمیت ایشیا بھر میں گوار کی پھلی کی کاشت زمانہ قدیم سے کی جا رہی ہے جس کی کاشت اور استعمال سے بے شمار فوائد حاصل ہوتے ہیں۔پاکستان،بھارت، بنگلہ دیش میں گوار کی پھلی کو بڑے شوق سے کھایا جاتا ہے، فصلوں کی کاشت کے ماہرین کے مطابق گوار پھلی کی کاشت کرنے کے لیے زیادہ محنت درکار نہیں ہوتی اور یہی وجہ ہے کہ اس پھلی کی مارکیٹ میں بہتات نظر آ تی ہے،گوار کی پھلی کی فصل کو بطور زمین کی کھاد، زمین کی زرخیزی بڑھانے اور جانوروں کے چارے کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔

گوار پھلی کا استعمال:
گوار پھلی کا استعمال متعدد طریقوں سے کیا جاتا ہے۔اسے عام روایتی طریقوں سے سبزی بنا کر یا گوشت کے ساتھ پکا کر بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔گوار کی پھلی کے استعمال سے قبل اسے ابال کر پانی نکال لیا جاتا ہے تاکہ اس پھلی کی سختی اور تیکھے ذائقے میں کمی لائی جا سکے۔

گوار پھلی میں پائے جانے والے کیمیائی اجزا:
گوار پھلی میں وٹامن اے، وٹامن بی، وٹامن سی اور وٹامن بی ٹو کے ساتھ ساتھ پروٹین، 9 اقسام کے امائنو ایسڈ، پولی فینولز جیسے طاقتور اینٹی آکسیڈنٹس، فولیٹ اور دیگرمعدنیات کے بھرپور اجزا ہوتے ہیں۔یہ کینسر کے خلیوں کی تشکیل کو روک کر مدافعتی نظام کو مضبوط کرتا ہے۔

گوار پھلی کے طبی فوائد:
محققین کا کہنا ہے کہ اپنی صحت کی حفاظت کے لیے سبزیاں اور دالیں زیادہ کھائیں جب کہ سرخ گوشت کھانے سے پرہیز کریں۔ محققین کے مطابق سبزیوں میں بھی پھلیاں سب سے زیادہ مفید ثابت ہوتی ہیں اور ان کے فوائد پڑھ کر شاید آپ بھی پھلیاں کھانے پر مجبور ہوجائیں۔

پھلیاں، گوشت کا بہترین متبادل:
اگر آپ کسی طرح پروٹین کی کمی کے شکار ہیں تو پھلیاں (بینز) اس کا بہترین علاج ہیں، ان میں موجود امائنو ایسڈ جسم میں پروٹین کی کمی پوری کرتا ہے۔ پروٹین کو بھی دو اقسام میں بیان کیا جاتا ہے یعنی مکمل اور نامکمل پروٹین، سویا، گوشت اور دودھ وغیرہ میں مکمل پروٹین پایا جاتا ہے جس میں تمام 9 اقسام کے امائنو ایسڈ پائے جاتے ہیں۔

غذائیت سے بھرپور:
غذائیت سے بھرپور پھلیوں میں فولیٹ نامی مرکب موجود ہوتا ہے جو ماں کے پیٹ میں بچے کے اعصابی نظام کی تشکیل کرتا ہے۔ اگر ماں فولیٹ نہ کھائے تو اس سے بچے کی اعصابی نشوونما متاثرہوتی ہے، خشک پھلیوں میں فولیٹ کی مقدار زیادہ ہوتی ہے اس اہم شے کی کمی سے کمزوری، دل کی دھڑکن، بھوک کی کمی اور دیگر کیفیات جنم لیتی ہیں، پھلیوں میں پولی فینولز جیسے طاقتور اینٹی آکسیڈنٹس بھی پائے جاتے ہیں جو کئی امراض سے محفوظ رکھتے ہیں۔

قدرتی اینٹی آکسیڈنٹس خصوصیات:
اینٹی آکسیڈنٹس بدن میں سوزش اور جلن کم کرتے ہیں۔ ماہرین کا یہ کہنا ہے کہ پھلیاں آنتوں اور معدے کے کینسر سے بچاتی ہے۔ پھلیوں میں فائبر کی زبردست مقدار موجود ہوتی ہے جو خون میں گلوکوز کی مقدار کنٹرول کرتی ہے، ماہرین نے یہ بھی کہا ہے کہ پھلیاں انسانی لبلبے کی کارکردگی بہتر بنا کر ذیابیطس کو روکتی ہے۔

بار بار بھوک کا علاج:
اگر آپ کو بار بار بھوک لگتی ہے اور آپ موٹاپے کی جانب مائل ہیں تو بھی پھلیاں اس کا بہترین علاج ہیں۔ اس لیے کوشش کریں کہ ہر طرح کی پھلیاں کھائی جائیں کیوں کہ پھلیاں آنتوں میں مفید بیکٹیریا کو پروان چڑھا کر نظامِ ہضم کو مجموعی طور پر بہتر بناتی ہیں۔

جسمانی مضبوطی و خوبصورتی:
پھلیاں پھٹوں کو مضبوط بناتی ہیں۔ یہ کیلشیم جذب کرنے میں مدد کرتی ہیں۔ اس میں وٹامن کے کی موجودگی آپ کو جلد بوڑھا ہونے سے روکتا ہے۔ اور اس کا استعمال آپ کے لیے بہت مفید ہے۔ اس کا استعمال چہرے اور جسم کی صحت اور تندرستی کیلئے قدرت کا انسانوں کیلئے ایک تحفہ ہے۔

پھلیوں کے دیگر فوائد:
پھلیوں کا استعمال بڑوں،بچوں اور بوڑھوں سب کے لیے بہت فائدہ مند ہے۔ اس سے آپ کی بینائی بھی تیز ہوتی ہے۔خراب اور بیمار آنکھیں تندرست ہو جاتی ہیں۔اگر جگر میں کوئی شکایت ہے تو وہ بھی دور ہو جاتی ہے۔ یہ پتھری کو توڑ کر خارج کرتی ہے۔ یہ دمے اور کھانسی کے لیے بہت بہت فائدہ مند ہے۔ اور فالج جیسی بیماریوں کے لیے قدرتی ڈھال ہے۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

خالص اور معیاری اشیاء خریدنے کیلئے کلک کریں: