Urdu

گڑھل یا گل خطمی: مردانہ بیماریوں کا حل

گڑھل یاگل خطمی ملائیشیا کا قومی پھول ہے جبکہ یہ پاکستان میں عمومی طور پر سکول، کالجز اورباغیچوں میں لگا ہوتا ہے اور ہم اسے محض پھول سمجھ کر ضائع کر دیتے ہیں جبکہ اس کے بہت سے فوائد ہیں۔عرب اور افریقہ میں اسکا شربت اور قہوہ بکثرت استعمال ہوتا ہے اور اب مغربی ممالک بھی اسے استعمال کرنے لگے ہیں۔ یہ اردو میں گڑھل، گل خطمی، عربی میں کرکدے اور انگریزی میں ہبسکس(Hibiscus) کہلاتا ہے۔

گڑھل بہت سی شاخوں والاانار کے درخت کے برابر جھاڑی کی طرح درخت ہے۔جس کے پتے توت کے پتوں کی طرح ہوتے ہیں۔ پھول گہرے سرخ رنگ کا ہوتاہے۔لیکن اندرسے خالی پیالے کی طرح جس کی ڈنڈی لمبی ہوتی ہے۔اس پودے کو باغ باغیچوں میں خوبصورتی کیلئے لگایاجاتاہے۔کیونکہ یہ بہت سرسبز ہوتاہے اورسرخ رنگ کے بڑے بڑے پھول خوبصورت لگتے ہیں یہ جنگل میں خودرویا اس کی قلمیں لگائی جاتی ہیں۔اسکی جڑ سرخ ہوتی ہے۔

سرخ پھولوں کے علاوہ اب یہ کئی رنگوں میں بھی ہوتا ہے۔جن میں سفید، اورینج، پیلے، گلابی، سرخ،نارنگی،نیلا، فیروزی،جامنی، بھورا، سرمئی، چاندی، سنہرا،سبز بھی شامل ہیں۔دلچسپ بات یہ ہے ہندو اپنے دیوی، دیوتاؤں کی عبادت کرنے کے لئے ان پھولوں کا استعمال کرتے ہیں۔ پھول اصل میں کھانے کے قابل ہیں اور بحر الکاہل کے جزائر،وسطی بھارت میں اس کو ترکاری کے طور بھی کھایا جاتا ہے جبکہ اکثر سلاد کے طورپراستعمال کرتے ہیں۔اسکا پھول بطور دوا بھی استعمال کیاجاتاہے۔

Essential Life

یہ بلڈ پریشر کو کنٹرول کرنے کے لیے بے حد مفید ہے جن حضرات کو بلند فشار خون کی شکایت ہو دن میں تین بار اس کا قہوہ ٹھنڈا کر کے پئیں جبکہ جنکا فشار خون پست ہو یعنی لو ہوتا ہو وہ اسکا گرم قہوہ پئیں۔

گڑھل یاگل خطمی میں پائے جانے والے کیمیائی اجزا:
گڑھل یاگل خطمی ا ینٹی آکسیڈینٹ ہے۔اس کے100گرام پھولوں میں توانائی49کیلوری، فائبر2.3گرام، پروٹین1.9گرام، چربی0.1گرام، کاربوہائیڈریٹ 12.3 گرام، کیلشیم 1.72 ملی گرام، آئرن57ملی گرام، وٹامن سی14ملی گرام، بیٹا کیروٹین 300 ملی گرام پائے جاتے ہیں۔

گڑھل یاگل خطمی کے طبی فوائد:

ڈپریشن غم اور پریشانی کا علاج:
مقوی حواس ہونے کی وجہ سے ہسٹریا خفقان، جنون اور وحشت میں مفیدہے۔

قوت قلب و باہ:
مفرح و مقوی قلب کے علاوہ مقوی باہ ہے۔اگر اس کے پھول خشک کرکے سفوف بنایاجائے اور چالیس دن استعمال کیاجائے تو جسم میں چستی اور طاقت آتی ہے۔منی پیدا کرتاہے۔اس کے پھولوں کا جوشاندہ بھی پلایاجاتاہے۔اور اسکے پھولوں سے گلقند یا شربت بھی بنایاجاتاہے۔

Essential Life

امراض پیشاب:
گل گڑھل کا شربت گرمی کے امراض، پیشاب کی جلن اور یرقان میں خصوصی طور پر استعمال ہوتاہے۔جوبے حد مفید و مجرب ہے۔

شربتِ گڑھل
گل گڑھل۔ 100 گرام
چینی۔ 1کلو
پھولوں کو ادھ کلو پانی میں خوب پکائیں جب ڈیڑھ پاؤکے قریب پانی رہ جائے تو اس کو چھان کر چینی ملا کر شربت تیار کر لیں۔پانچ تولہ شربت پانی میں ملا کر صبح شام استعمال کریں۔

کھانسی اور گلے کی بیماریاں:
کھانسی اور گلے کی بیماریوں میں اس کا شربت بنا کر استعمال میں لایا جاتا ہے۔

بالوں کا مکمل علاج:
بالوں کو لمبا کرنے، بالوں کو اگانے اور بالوں کو سیاہ اور ملائم بنانے میں اس کا تیل بنا کر استعمال کیا جاتا ہے۔ بازار میں جو بال کالا کرنے والے تیل دستیاب ہیں ان میں دیگر اجزا کے ساتھ ان پھولوں کو شامل کرکے یہ تیل بنائے جاتے ہیں۔

بالوں کو سیاہ اور ملائم بنانے کا نسخہ:
گڑھل کے پھول کی پنکھڑیاں 250 گرام، تل کا تیل 500 گرام، تل کے تیل کو صاف برتن میں ڈال کر آگ پر جوش دیں اور اس میں پھولوں کی پنکھڑیاں ڈال دیں۔ اس کو اس قدر پکائیں کہ پنکھڑیاں جل جائیں تو آگ سے اتار کر ٹھنڈا کرکے باریک کپڑے یا چھلنی سے چھان لیں، اس کو خوش نما بنانے کیلئے حسب خواہش خوشبو ملا کر بوتل میں محفوظ رکھیں اور استعمال میں لائیں۔بھارت میں گل خطمی کے پھولوں کو مختلف رنگوں کے لئے کلر ڈائی کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔

Essential Life

مادہ منویہ کی جملہ بیماریاں:
مادہ منویہ کے روگ‘ جریان‘ کثرت احتلام اور سرعت انزال کے لیے اس کا استعمال بے حد مفید ثابت ہوا ہے۔ امساک پیدا کرتا ہے۔مادہ منویہ کی جملہ بیماریوں کیلئے: گڑھل پھول کی خشک پتیاں 25 گرام‘ کالی مرچ 5 گرام رات کو سونے سے قبل پانی کے ساتھ لیں۔

بد ہضمی اور قبض:
بد ہضمی اور قبض میں اس کا استعمال بھی اکیسر ہے۔یہ بھوک بڑھانے میں مددکرتا ہے جبکہ دافع قبض بھی ہے۔

بطور خوراک::
بھارت کے بیشتر علاقوں میں گڑھل یاگل خطمی کے پتے پالک کے متبادل طور پر استعمال ہو رہے ہیں۔ جس آئرن سے بھر پور ہوتے ہیں۔ عام طور پر پھول خوردنی جام,جیلی اور مشروبات بنانے میں استعمال ہوتے ہیں:

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

گڑھل یاگل خطمی کا تیل اور اس سے متعلق اصلی اور خالص مصنوعات خریدنے کیلئے کلک کریں:

Related Posts