Urdu

ہرمل کی دھونی ڈینگی مچھر سے بچائو میں موثر

پاکستان میں ایک بار پھر ڈینگی بخار نے سر اُٹھا لیا ہے، ملک بھر میں اب تک ڈینگی کے سیکڑوں کیسز سامنے آچکے ہیں جن کی تعداد زیادہ تر پنجاب میں پائی جا رہی ہے، ڈینگی پر قابو پانے کے لیے ملک بھر کے عوام کا احتیاطی تدابیر اختیار کرنا ضروری ہے۔

ڈینگی بخار کیا ہے اور یہ کیوں ہوتا ہے ؟

طبی ماہرین کے مطابق ڈینگی بخار بظاہر تو ایک معمولی سا مگر سنگین بخار ہوتا ہے جو چند ہی روز میں خطرناک صورتحال اختیار کرلیتا ہے اور موت کا سبب بھی بن سکتا ہے۔

ڈینگی کا نشانہ عام طور پر ایسے افراد زیادہ بنتے ہیں جن کی قوت مدافعت کمزور ہوتی ہے، ڈینگی ایک مخصوص مادہ مچھر ایڈیس ایجپٹائی (Aedes Aegypti)کے کاٹنے سے ہوتا ہے۔

ڈینگی بخار کی ابتدائی اور شدید علامات کیا ہیں؟

طبی ماہرین کے مطابق ڈینگی بخار کی چار اقسام ہیں لیکن مریض میں چاروں اقسام میں سے ایک ہی کی علامات ظاہر ہوتی ہیں اور ان کے ظاہر ہوتے ہی فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کرنا مرض کی شدت میں کمی کا باعث بن سکتا ہے۔

ڈینگی کی ا بتدائی علامات میں تیزبخار، جسم میں شدید درد اور کمزوری کا احساس، ٹانگوں اور جوڑوں میں درد، سر درد، منہ کا ذائقہ تبدیل ہونا، چہرے کا رنگ سُرخ پڑجانا یا پھر جسم کے بعض اعضاء کا گلابی پڑجانا اور سردی لگنا شامل ہیں۔

اس میں مریض کے جوڑوں اور پٹھوں کا درد اتنی شدت اختیار کرلیتا ہے کہ اسے اپنی ہڈیاں ٹوٹتی ہوئی محسوس ہوتی ہیں، اسی لیے اس کو’بریک بون فیور ‘ بھی کہا جاتا ہے۔

عمومی طور پر ایک شخص میں پلیٹلیٹس کی تعداد ڈیڑھ لاکھ سے ساڑھے 4 لاکھ فی مائیکرو لیٹربلڈ ہوتی ہے، موسمی بخار میں یہ کم ہو کر نوے ہزار سے ایک لاکھ ہوسکتی ہے جبکہ ڈینگی وائرس کی صورت میں پلیٹلیٹس کافی زیادہ کم ہوکر تقریباً 20ہزار یا اس سے بھی کم رہ جاتے ہیں۔

ڈینگی سے بچاؤ کے لیے احتیاطی تدابیر خود پر لازم کر لیں:

عالمی ادارہ صحت (WHO) کے مطابق ڈینگی سے ہونے والی اموات دنیا بھر میں ہونے والی اموات کا 4 فیصد ہیں اور احتیاط کے ذریعے ہی اس مرض سے بچنا ممکن بنایا جا سکتا ہے۔

ڈبلیو ایچ او کی جانب سے احتیاطی تدابیر سے متعلق جاری کی گئی رپورٹس کے مطابق ڈینگی کے مچھر صاف پانی میں رہنا پسند کرتے ہیں اور طلوع آفتاب اور غروب آفتاب کے وقت زیادہ نمودار ہوتے ہیں، لہٰذا گھر میں کھانے پینے کی تمام اشیاء حتیٰ کے گھروں میں موجود پینے کے پانی کے برتن بھی ڈھانپ کر رکھیں۔

ڈینگی مچھر کے حملے سے بچنے کے لیے سب سے ضروری ہے کہ اس کی افزائش نسل کو روکا جائے، اس کے لیے ضروری ہے کہ گھروں میں صفائی ستھرائی کا خاص خیال رکھیں، آس پاس موجود گڑھوں کو مکمل طور پر پاٹ دیا جائے تاکہ ان میں پانی جمع نہ ہو۔

گھروں میں استعمال ہونے والی ٹنکیوں کو اچھی طرح صاف کیا جائے اور اس بات کا خیال رکھا جائے کہ پانی اسٹور کرنے والے برتن صبح و شام صاف کیے جائیں، اس کے علاوہ گملوں میں پانی جمع نہ ہونے دیں اور پودوں پر مچھر مار ادویات کا اسپرے تواتر سے کرتے رہیں۔

گھر میں موجود جڑی بوٹی ہرمل کی دھونی دینے سے ہر قسم کے کیڑے مکوڑے ، مچھر، لال بیگ اور چھپکلی وغیرہ ختم ہوجاتے ہیں، علاوہ ازیں اگر ہرمل کا سبز پودا کمرے میں رکھا جائے تو پھر مچھر کمرے میں داخل نہیں ہوتے۔

اگر جسم کے کھلے حصوں پر کڑوا تیل لگایا جائے تو مچھر کاٹنے سے پہلے ہی مرجاتا ہے، اس کے علاوہ جسم کے کھلے حصوں پر اینٹی موسکیٹوز لوشن وغیرہ لگانا بھی ٹھیک رہتا ہے۔

علاج فوراً کیسے ممکن بنایا جائے ؟

طبی ماہرین ڈینگی سے متاثرہ مریضوں کے لیے صبح و شام پپیتے کے پتوں کا جوس پینا بے حد مفید قرار دیتے ہیں، ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ نیم گرم پانی میں شہد ملا کر دن میں تین بار پینے سے بھی ڈینگی بخار پر قابو پایا جاسکتا ہے۔

اس بیماری کا کوئی واضح علاج موجود نہیں لہٰذا ڈاکٹرز علامات کو کم کرنے کے لیے ادویات تجویز کرتے ہیں۔

معمولی علامات کی صورت میں محض پین کلرز بھی کارآمد ثابت ہوتی ہیں، مزید یہ کہ اس بیماری کی صورت میں ایسپرین قطعاً استعمال نہیں کرنی چاہئے کیوں کہ اس سے خون بہنے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔