Urdu

ہلدی طاقت اور طبی فوائد کا خزانہ

آجکل جرمنی میں سنہرا دودھ کے نام سے ایک زرد رنگ کے دودھ کی مانگ میں بہت اضافہ ہو رہا ہے۔ یہ سنہرا دودھ کیا ہے؟ یہ اصل میں ہلدی ملا دودھ ہے جو ایک سپر ٹانک کے طور پر مارکیٹ میں دستیاب ہے۔ حالانکہ ہلدی ملا دودھ برصغیر میں کئی صدیوں سے زیر استعمال ہے۔ قدیم چینی ادویات اور آیورویدک طریقہ علاج میں اس کا ستعمال عام ہے۔پاکستان میں بھی کوئی ایسا گھر نہیں ہوگا کہ جہاں مختلف انداز میں ہلدی کا استعمال نہ ہو رہا ہو۔

ہلدی (Turmeric) جس کا سائنسی Curcuma longa ہے اور یہ ادرک خاندان کا ایک پودا ہے۔ یہ پودے کی جڑ سے نکالی جاتی ہے۔ یہ جنوب مشرقی ہندوستان کا مقامی پودا ہے۔ اس کا اصلی رنگ قدرتی زردی مائل ہوتا ہے اور اس میں زیادہ چمک دمک نہیں ہوتی۔ہلدی میں بے شمار خوبیاں پائی جاتی ہیں۔ ہلدی میں ایک جزو کرکومن (curcumin) بہت اہم ہے یہ بہت سی اقسام کے کینسر روکنے میں مددگار ہے۔ یہ بڑی آنت، پروسٹیٹ، پھیپڑے، جگر معدے، سینہ، بیضہ دانی اور دماغ کے سرطان، رسولی میں خون کی نئی رگیں بننے کا عمل روک دیتا ہے۔

زرد رنگ، ذائقے میں تلخ جڑی بوٹی ہلدی کی افادیت و خصوصیات لاتعداد ہیں۔ ایشیائی ممالک کے بعد اب یورپ میں بھی اس کی دھوم مچی ہوئی ہے، جہاں کافی سے لے کرکھانوں میں اس کا استعمال عام ہورہا ہے۔امریکی کیمیکل جرنل کے مطابق ہلدی میں لاتعداد اینٹی آکسیڈنٹ، اینٹی وائرل، اینٹی بیکٹیریل اور اینٹی فنگل خصوصیات پائی جاتی ہیں۔ یہ سوزش اور جینیاتی بیماریوں میں بھی مفید ہے۔

ہلدی میں پائے جانے والے کیمیائی اجزا:
ہلدی میں بے پناہ غذائیت موجود ہے جس میں کاربوہائیڈریٹس، فائبر،چکنائی،پروٹین، سوڈیم،آئرن، فاسفورس، زنک، وٹامن سی، وٹامن ای، وٹامن کے، پوٹاشیم، کیلشیم، میگنیشیم، پروٹین،وائٹ مینائی اور زنک شامل ہیں۔

Essential Life

ہلدی کے فوائد:
ہلدی صرف کھانے کا رنگ اور ذائقہ ہی بہتر نہیں کرتی بلکہ جراثیم کش ہونے کے ساتھ ساتھ مضبوط اینٹی آکسائیڈنٹ مصالحہ بھی ہے۔اس کے چند فوائد درج ذیل ہیں۔

جلد جگمگائے:
ہلدی جلد کے مردہ خلیات کی صفائی کے لیے بہترین ہے اور یہ جلد کو جوانی جیسی چمک دینے میں مدد دیتی ہے۔ ہلدی کو دودھ یا دہی میں ملائیں اور اچھی طرح مکس کرکے چہرے یا جسم کے کسی حصے پر لگائیں۔ اسے خشک ہونے تک کے لیے چھوڑ دیں اور نیم گرم پانی سے صاف کردیں، جبکہ اس دوران چہرے کو نرمی سے مساج بھی کرتے رہیں۔

انفیکشن سے تحفظ:
ہلدی طاقتور اینٹی آکسائیڈنٹ اور جراثیم کش مصالحہ ہے جو مختلف انفیکشنز جیسے ای کولی (جو کہ شدید انفیکشن، معدے کے درد، ہیضے اور دیگر مسائل کا باعث بنتا ہے) کی روک تھام کرتا ہے۔

جگر کی صفائی:
ہم عام طور پر جو کھاتے ہیں، وہ غذا اکثر کیمیکلز، کیڑے مار ادویات اور دیگر آلودگی کی زد میں آتی ہے اور اس کے زہریلے اثرات جگر اور گردوں سمیت جسمانی نظام میں اکھٹے ہوجاتے ہیں جو کہ مختلف امراض کا باعث بنتے ہیں، تاہم ہلدی کا استعمال ان اثرات کو ختم کرتا ہے اور جگر کی صفائی کرکے اسے ٹھیک رکھتا ہے۔

جسمانی وزن میں کمی:
ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ ہلدی کے استعمال سے چوہوں میں چربی کے ٹشوز کی نشوونما میں کمی دیکھنے میں آئی، جس سے جسمانی وزن کم ہوا۔ ہلدی کا کھانے میں زیادہ استعمال اس ورم سے بچاتا ہے جو کہ موٹاپے کا باعث بنتا ہے جبکہ چربی گھلنے کی رفتار کو بھی ذرا تیز کردیتا ہے۔

مزاج خوشگوار بنائے:
ہلدی جسمانی ورم کے خلاف مفید ہے اور یہ ورم ہی ڈپریشن میں اہم کردار بھی ادا کرتا ہے۔ ایک تحقیق میں یہ انکشاف سامنے آیا کہ جب مایوسی کے شکار افراد کو آٹھ ہفتے تک دن میں روزانہ 500 ملی گرام ہلدی کا استعمال کرایا گیا تو ان کے مزاج پر خوشگوار اثرات مرتب ہوئے۔ ایک حالیہ تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ ہلدی ڈپریشن کی علامات کو کم کرنے کے لیے انتہائی موثر مصالحہ ہے۔

Essential Life

جوڑوں کی تکلیف میں کمی:
ہلدی میں موجود پولی فینول ایسا اینٹی آکسائیڈنٹ ہے جو کہ ورم کش خصوصیات رکھتا ہے، مختلف طبی تحقیقی رپورٹس میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ہلدی جوڑوں کے درد، اکڑن اور سوجن میں کمی لانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ جوڑوں کے امراض کے شکار افراد ڈاکٹر کے مشورے سے ہلدی پاؤڈر کے کیپسول استعمال کرکے ریلیف حاصل کرسکتے ہیں۔

بلڈشوگر کنٹرول کرے:
ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ ہلدی کا استعمال بلڈ گلوکوز یا بلڈ شوگر لیول کم اور کنٹرول کرنے میں مدد دیتا ہے، خصوصاً ایسے افراد میں جو ذیابیطس ٹائپ ٹو کے شکار ہوں، بلڈ شوگر لیول مستحکم رہنے سے ان میں ذہابیطس کی دیگر پیچیدگیوں کاخطرہ بھی کم ہوتا ہے جیسے گردوں کے امراض یا اعصابی نظام کو نقصان پہنچنا۔ اسی طرح یہ مصالحہ ذیابیطس کا شکار ہونے سے بھی بچاسکتا ہے مگر اس حوالے سے سائنسدانوں نے مزید تحقیق کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

الزائمر کا خطرہ کم کرے:
کیلیفورنیا یونیورسٹی کی ایک تحقیق میں بتایا گیا کہ ہلدی کا استعمال درمیانی عمر میں یاداشت اور مزاج کو بہتر بنا کر الزائمر امراض کا خطرہ کم کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔ تحقیق کے مطابق ہلدی میں پائے جانے والا زرد رنگ کا مرکب یا curcumin ممکنہ طور پر دماغی ورم کو کم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جو کہ الزائمر امراض اور ڈپریشن جیسی بیماری کا باعث بنتا ہے۔

کینسر سے بچنے کا امکان بڑھائے:
میڈیکل سائنس کے مطابق ہلدی میں سو سے زیادہ کیمیکل کمپاونڈز موجود ہوتے ہیں جو بہت سی بیماریوں کے لیے شفا رکھتے ہیں خاص طور پرکرکونم کمپاؤنڈ جو ہلدی کو خوبصورت پیلا رنگ دیتا ہے ایک انتہائی مفید آرگینک کیمیکل ہے جو کینسر جیسے موذی مرض کو پیدا نہیں ہونے دیتا ہلدی میں بیشمار اینٹی آکسیڈینٹ موجود ہوتے ہیں جو تحقیق کے مطابق سو سے زائد کینسر کی بیماریوں کو قابو کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور کینسر زدہ سیلز کا خاتمہ بھی کرتے ہیں۔

خون کی شریانوں کے امراض کا خطرہ کم کرے:
خون کی شریانوں سے جڑے امراض جیسے ہارٹ اٹیک اور فالج وغیرہ دنیا بھر میں سب سے زیادہ اموات کا باعث بنتے ہیں، امراض قلب کی چند بڑی وجوہات میں سے ایک جسماین ورم ہے اور ہلدی ورم کش مصالحہ ہے۔ ورم کش خصوصیات کی وجہ سے یہ مصالحہ شریانوں کے امراض سے تحفظ فراہم کرسکتا ہے جس سے فالج اور دل کے امراض کا خطرہ کم ہوتا ہے۔

کیل مہاسے اور ورم کو صاف کرے:
ہلدی کا استعمال کیل مہاسوں کی روک تھام ہی نہیں کرتا بلکہ اسے اکثر چہرے پر لگانا کیل مہاسوں کے نشانات اور ورم کو دور کرنے میں بھی مدد دیتا ہے۔

Essential Life

خراشوں اور جلنے کے زخموں کے خلاف مفید:
ہلدی چونکہ قدرتی طور پر جراثیم کش خصوصیات کی حامل ہے اور خراشوں، زخموں اور جلنے وغیرہ کے لیے مفید ہے، جو کہ مرہم کا کام کرتی ہے۔

بڑھتی عمر کی روک تھام:
ہلدی اینٹی آکسائیڈنٹ مصالحہ ہے جو کہ جسم کے اندر مضر صحت اجزائکو بڑھنے سے روکتا ہے اور خلیات کو نقصان سے پہنچا کر عمر بڑھنے سے آنے والی تنزلی کی روک تھام کرتا ہے۔ اسی طرح یہ نئے خلیات کی نشوونما میں بھی مددگار ہے جس سے بڑھتی عمر کے اثرات کو کسی حد تک زائل کرنے میں مدد ملتی ہے۔

چہرے کے غیرضروری بالوں کو کم کرے:
یہ خواتین کے لیے کافی اہم ہے اور ہلدی چہرے کے غیر ضروری بالوں کی نشوونما کی روک تھام میں مدد دیتا ہے۔ اس مقصد کے لیے ایک چوتھائی چمچ ہلدی کو ایک چمچ بیسن میں مکس کریں اور پانی ڈال کر پیسٹ بنالیں۔ اسے چہرے پر پندرہ منٹ لگا رہنے دیں اور پھر دھولیں۔ اگر اس ٹوٹکے کو معمول بنالیا جائے تو ایک ماہ کے اندر نمایاں فرق دیکھا جاسکے گا۔

ایک قدرتی انفلیمنٹری:
انفلامیشن یعنی سوزش جسم کے کسی حصے میں درد یا بے چینی کی بنیادی وجہ ہے انفلامیشن کی صورت میں ڈاکٹر اینٹی ایفلامیٹری ادویات اینسیڈ وغیرہ تجویز کرتے ہیں یہ ادویات اکثر اوقات فائدہ پہنچانے میں ناکام ہوجاتی ہیں اور ان کا زیادہ استعمال صحت کے لیے نقصان دہ ہیہلدی میں موجود کرکومن قدرتی طور پر اینٹی اینفلامیٹری خوبیوں کا حامل ہوتا ہے جو سارے جسم میں سوزش کے خلاف ایک تحریک شروع کردیتا ہے اور سوزش کو ختم کرتا ہے

قوت مدافعت بڑھاتی ہے:
انسانی جسم کا امیون سسٹم جسم کو بیماریوں میں لاحق ہونے سے بچانے کا ذمہ دار ہوتا ہے، ڈاکٹرز کا کہنا ہے کے ایمیون سسٹم نظام انہضام کیساتھ جُڑا ہوتا ہیاور ہلدی کھانا جسم کے ایمیون سسٹم کو طاقت ور کرتا ہے کیونکہ ہلدی کے اندر قدرتی طور پر اینٹی وائرل، اینٹی بیکٹیریا اور اینٹی مائیکروبیل کمپاونڈ امیون سسٹم کو لڑنے کے لیے ہتھیار مہیا کرتے ہیں اور جسم کی قوت مدافعت قدرتی طور پر بڑھاتے ہیں

ہارمونز کو درست کرتی ہے:
انسان کے جسم اور دماغ میں ہونے والے تقریباًتمام عوامل ہارمونز کی وجہ سے ہوتے ہیں یہ ہارمونزنظام انہضام سے لیکر مسل بنانے نروس سسٹم کو درست رکھنے سونے اور جاگنے اور انسان کے مُوڈ کو درست رکھنے میں کام کرتے ہیں اور صحت مند جسم کو قائم رکھنے میں انتہائی مدد گار ثابت ہوتے ہیں ہلدی کے اندر موجود کیمیکل کمپاونڈز خون کو صاف کرتے ہیں اور ان ہارمونز کا بیلنس درست رکھتے ہیں جو صحت مند جسم کے لیے بہت ضروری ہے

بال گرنے سے روکتی ہے:
بالوں کا گرنا ناقص صحت کی علامت ہے جس کی کئی وجوہات ہوسکتی ہیں عام طور پر خوراک کی کمی بالوں کی جڑوں کو کمزور کر دیتی ہے جس سے بال گرنے لگتے ہیں ہلدی میں شامل بے شمار نیوٹرنٹس جہاں جلد کو صحت مند بناتے ہیں وہیں یہ بالوں کی جڑوں کو مظبوط اور بالوں سے روکھا پن ختم کرنے میں بہت زیادہ مدد گار ثابت ہوتے ہیں

Essential Life

نظام انہظام کو درست کرتی ہے:
انسان اپنے جسم کی تقریباً تمام ضروریات خوراک سے حاصل کرتا ہے اور نظام انہضام خوراک کو ہضم کرکے جُز و بدن بنانے کا ذمہ دار ہوتا ہے اور اگر یہ نظام خراب ہو تو جسم بہت سے بیماریوں کا حملہ برداشت کرنے کے قابل نہیں رہتا ہلدی میں شامل نیوٹرنٹس وٹامنز منرلز اینٹی آکسیڈینٹس اور انفلامیٹری کمپاؤنڈز نظام انہضام کو فعال رکھنے میں انتہائی اہم کردار ادا کرتے ہیں

گُردوں کی صفائی کرتی ہے:
میڈیکل سائنس کے مطابق ہلدی میں موجود کرکومن ایک طاقتور اینٹی اینفلامیٹری کے طور پر کام کرتی ہے اور گُردوں کو صاف کر دیتی ہے اور
خون کے بہاؤ میں انتہائی مددگار ثابت ہوتی ہے

ہلدی کو کیسے استعمال کریں:

ذائقہ بڑھائیں:
چند تازہ سبزیوں (کٹی ہوئی شکرقندی، گوبھی، مٹر، پالک) کو زیتون کے تیل اور ہلدی کے ساتھ ملالیں۔انہیں 400 ڈگری پر روسٹ کریں جس کے بعد انہیں آپس میں ملالیں اور بس۔آپ اسے شام میں منہ چلانے یا سائیڈ ڈش کے طور پر رکھ سکتے ہیں اور اگر دل چاہے تو رات کا کھانا بنالیں۔آپ چاہیں تو ان سبزیوں کو تل کر بھی استعمال کرسکتے ہیں۔

سنہرا دودھ:
یہ ایک قدیم آیورویدک ترکیب ہے جسے متعدد طریقوں سے استعمال کیا جاسکتا ہے۔سنہرا دودھ بنانے کے لیے آدھا چائے کا چمچ ہلدی پیسٹ ساس پین کے اندر ایک کپ دودھ میں ملائیں اور پھر اسے پانچ منٹ تک کے لیے ڈھانپ دیں۔اسے پینے سے قبل آدھا چائے کا چمچ گھی یا تیل ملالیں۔آپ اس میں دیگر مصالحے جیسے ادرک، کالی مرچ، دارچینی یا شہد وغیرہ کو بھی شامل کرسکتے ہیں۔عام طور پر اسے پینے کا بہترین وقت سونے سے قبل کا ہوتا ہے تاکہ اچھی نیند اور دیگر طبی فوائد حاصل کیے جاسکیں۔

ہلدی کی چائے:
ایک کپ پانی کو ابالیں اور پھر اس میں آدھا چائے کا چمچ ہلدی ملائیں۔ اب اسے دس منٹ تک پکنے دیں اور پینے سے قبل چھان لیں۔ اس میں اپنی پسند کی مٹھاس بھی آپ شامل کرسکتے ہیں۔

اپنی جلد پر لگائیں:
ہلدی کو جب جلد پر لگایا جاتا ہے تو یہ سوجن اور خارش میں کمی لاتی ہے۔بس کچھ مقدار میں ہلدی کو کسی بھی ٹھنڈی خاصیت والے تیل (ناریل کے تیل، بادام، کیسٹر اور تلوں کے تیل میں ملائیں) اور پھر جلد پر لگائیں۔پندرہ منٹ بعد اسے دھو لیں، یہ عارضی طور پر آپ کی جلد پر دھبہ ڈال دے گی تو اس بات کو یقینی بنائیں کہ ایسی جگہ لگائیں جو آسانی سے ڈھکی جاسکیں یا کچھ دیر کے لیے زرد ہونے پر فکرمند نہ ہوں۔
مگر اس سے پہلے کہ آپ ہلدی کو استعمال کرنا شروع کریں،اگر آپ ہلدی کو استعمال کرنا چاہتے ہیں تو آپ اعلیٰ معیار کی پسی ہوئی یا تازہ ہلدی استعمال کریں تاکہ بہترین طبی فوائد حاصل کیے جا سکیں۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

 

ہلدی سے متعلق اصلی اور خالص مصنوعات خریدنے کیلئے کلک کریں۔

 

Related Posts