Urdu

ہلدی کی چائے کے صحت کیلئے زبردست فوائد

ہلدی (Turmeric) جس کا سائنسی Curcuma longa ہے اور یہ ادرک خاندان کا ایک پودا ہے۔ یہ پودے کی جڑ سے نکالی جاتی ہے۔ یہ جنوب مشرقی ہندوستان کا مقامی پودا ہے۔ اس کا اصلی رنگ قدرتی زردی مائل ہوتا ہے اور اس میں زیادہ چمک دمک نہیں ہوتی۔ہلدی میں بے شمار خوبیاں پائی جاتی ہیں۔ ہلدی میں ایک جزو کرکومن (curcumin) بہت اہم ہے یہ بہت سی اقسام کے کینسر روکنے میں مددگار ہے۔ یہ بڑی آنت، پروسٹیٹ، پھیپڑے، جگر معدے، سینہ، بیضہ دانی اور دماغ کے سرطان، رسولی میں خون کی نئی رگیں بننے کا عمل روک دیتا ہے۔

زرد رنگ، ذائقے میں تلخ جڑی بوٹی ہلدی کی افادیت و خصوصیات لاتعداد ہیں۔ ایشیائی ممالک کے بعد اب یورپ میں بھی اس کی دھوم مچی ہوئی ہے، جہاں کافی سے لے کرکھانوں میں اس کا استعمال عام ہورہا ہے۔امریکی کیمیکل جرنل کے مطابق ہلدی میں لاتعداد اینٹی آکسیڈنٹ، اینٹی وائرل، اینٹی بیکٹیریل اور اینٹی فنگل خصوصیات پائی جاتی ہیں۔ یہ سوزش اور جینیاتی بیماریوں میں بھی مفید ہے۔

ہلدی میں پائے جانے والے کیمیائی اجزا:

ہلدی میں بے پناہ غذائیت موجود ہے جس میں کاربوہائیڈریٹس، فائبر،چکنائی،پروٹین، سوڈیم،آئرن، فاسفورس، زنک، وٹامن سی، وٹامن ای، وٹامن کے، پوٹاشیم، کیلشیم، میگنیشیم، پروٹین،وائٹ مینائی اور زنک شامل ہیں۔

ہلدی کی چائے کے فوائد

برصغیراور ایشیا میں عام استعمال ہونے والی ہلدی کے فوائد ہر روز سامنے آرہے ہیں اور اب کئی تحقیقات سے اسے جادوئی شے قرار دیا جاچکا ہے۔ مصدقہ معلومات اور تحقیق سے معلوم

ہوا ہے کہ ہلدی اپنے اندر انقلابی طبی خواص رکھتی ہے۔ تو پہلے ہلدی کی چائے کےفوائد پڑھئے اور اس کے بعد چائے تیار کرنے کی ترکیب جانتے ہیں۔

جوڑوں اور گٹھیا کے درد میں مفید

2017 میں کی گئی تحقیق سے معلوم ہوا کہ امریکہ میں جوڑوں اور گٹھیا کے درد سے متاثرہ افراد ہلدی کی چائے پیتے ہیں اور اس سے انہیں افاقہ ہے۔ ہلدی میں موجود کئی اہم کیمیکل ہڈیوں کے درد اور جوڑوں کی سوزش کم کرتے ہیں۔
جسم کے دفاعی نظام کی بہتری

ہلدی میں موجود سرکیومن میں اینٹی وائرل، اینٹی انفلیمٹری اور اور اینٹی آکسیڈنٹس خواص موجود ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ بیکٹیریا کو ختم کرنے کی زبردست صلاحیت رکھتی ہے۔ یہ امنیاتی نظام کو درست رکھتی ہے اور کینسر سمیت کئی بیماریوں کو آپ سے دور رکھتی ہے۔

دل کے امراض کو دور رکھے

ہم جانتے ہیں کہ سرکیومن نامی کیمیکل ہلدی میں عام پایا جاتا ہے اور بہت سے خواص رکھتا ہے۔ یہ ایک جانب تو اندرونی سوزش و جلن کو کم کرتا ہے تو دوسری جانب اس میں اینٹی آکسیڈنٹس موجود ہوتے ہیں۔ اس ضمن میں 2012 میں ایک سروے کیا گیا اور دل کے مریضوں کو بائی پاس سے قبل تین دن قبل اور پانچ دن بعد روزانہ چار گرام سرکیومن دیا گیا تو اس سے دل کے دورے کے خطرات 17 فیصد تک کم دیکھے گئے۔

کینسر میں مفید

اس وقت دنیا بھر میں کینسر کے درجنوں علاج دریافت ہوچکے ہیں جن کی اپنی اپنی افادیت اور خامیاں ہیں۔ سرکیومن خلیات میں گڑ بڑ اور تبدیلی کو روکتا ہے اور اس طرح کینسرکا تدارک کرتا ہے۔ اس کے علاوہ ان گنت مطالعات سے ثابت ہوچکا ہے کہ سرکیومن کینسر کے خلیات پھیلنے اورسرطانی رسولیوں کی افزائش روکتا ہے۔ اب تک 2000 سے زائد تحقیقی مقالے صرف سرکیومن اور سرطان پر شائع ہوچکے ہیں اور ماہرین اس کے سرطان کے خلاف تحقیق کو جاننے کی کوشش کررہے ہیں تاہم اب تک کی تحقیقات بتاتی ہے کہ ہلدی کا یہ اہم عنصر کینسر کے خلاف مؤثر ہے۔

ہاضمے کو بہتر بنائے

ہلدی ہاضمے کے پورے عمل کو بہتر بنا کرمعدے کے درد اور بوویل سنڈروم سے بچاتی ہے۔ 2012 میں کی گئی ایک تحقیق سے معلوم ہوا کہ ہلدی کھانے کے عمل کو تیزی سے ہضم کرنے میں مدد فراہم کرتی ہے۔

الزائیمر میں بھی مفید

اپنے زبردست خواص کی بنا پر ہلدی میں موجود سرکیومِن دماغی اور اعصابی امراض سے بچاتی ہے۔ دماغ میں خلیات کی ٹوٹ پھوٹ اور ان کے انحطاط کو روکتی ہے ۔ اس لیے ضروری ہے کہ کھانوں میں ہلدی کی مقدار کو بڑھایا جائے۔ ایک اور بات ثابت ہوچکی ہے کہ ہلدی دماغ کے ان پروٹین کو تبدیل ہونے سے بچاتی ہیں جو الزائیمر اور دیگر بیماریوں کی وجہ بنتے ہیں۔

ہلدی جگر کی محافظ

سرکیومن کا جادوئی کیمیکل جگر کو مختلف بیماریوں سے بچاتا ہے۔ اس کے علاوہ پیشاب کی تھیلی کو تندرست رکھتا ہے جس سے پتھری پیدا نہیں ہوتی۔ جگر ہمارے جسم کی ایک پیچیدہ مشین ہے اور سرکیومن اس کی حفاظت کرتا ہے۔

ذیابیطس میں مفید

روایتی ادویات میں گزشتہ ہزاروں برس سے ہلدی استعمال ہورہی ہیں جو ذیابیطس کنٹرول کرنے کے کام آتی ہیں۔ جانوروں اور انسانوں پر کیے گئے کئی مطالعات سے معلوم ہوا ہے کہ ہلدی کا اہم ترین جزو سرکیومن ذیابیطس کے خلاف مؤثر ہے۔

پھیپھڑوں کا محافظ

سرکیومن پھیپھڑوں کو صحت مند رکھتا ہے۔ 2017 کے ایک مطالعے سے معلوم ہوا ہے کہ اگرچہ معلومات تھوڑی ہیں لیکن سرکیومن، دمے ، سانس کے امراض، سسٹک فائبروسس، اور

پھیپھڑوں کے دیگر امراض کے علاج میں مفید ثابو ہوا ہے۔

ہلدی کی چائے کیسے تیار کی جائے

پہلے چار کپ پانی ابال لیجئے۔

چلتن پیور کی ہلدی چائے کے ایک سے دو چمچ اس میں شامل کیجئے۔ دس منٹ تک اسے پانی میں ابال لیجئے اور اسے پانچ منٹ تک ٹھنڈا ہونے دیجئے۔

اس کے علاوہ آپ دودھ ، اور شہد بھی ملاسکتے ہیں۔ لیکن ماہرین کہتے ہیں کہ چائے میں کریم، گاڑھا دودھ، اور گھی ایک چمچ ملانے سے سرکیومن جسم میں اچھی طرح جذب ہوجاتی ہے۔ چائے تیار ہے اور استعمال کیجئے۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

 ہلدی چائے اور خالص تیل و دیگر مصنوعات خریدنے کیلئے کلک کریں: