Urdu

ہمیں تھکاوٹ کیوں ہوتی ہے؟

تھکن ایک عام شکایت ہے، جس سے مَرد، عورت، بچّے، بوڑھے یا جوان کسی کو مفر نہیں، خاص طور پر موجودہ تیز رفتار دَور میں یہ ایک بیماری بن چُکی ہے۔ ایک ایسی بیماری، جو کئی بیماریوں کو جنم دینے کی موجب بن سکتی ہے۔ 

تھکن دراصل ایک کیفیت کا نام ہے، جس میں جسمانی توانائی اور ہمّت جواب دے جاتی ہے۔ تھکاوٹ کے شکار افراد خود کو ذہنی و جسمانی طور پر لاچار محسوس کرتے ہیں۔ یوں سُستی و کاہلی انہیں گھیر لیتی ہے۔

عام تاثر یہی ہے کہ تھکن صرف کام کی زیادتی یا کم زوری کے سبب ہوتی ہے۔ ہر چند کہ بنیادی وجوہ یہی تصوّر کی جاتی ہیں لیکن کئی طبّی، جذباتی اور نفسیاتی محرّکات بھی تھکن کا باعث ثابت ہوسکتے ہیں۔

عام طور پر زیادہ کام کرنے سے تھکن محسوس ہوتی ہے کیونکہ جب ہم اپنی جسمانی توانائی کا زیادہ حصّہ کسی کام پر صرف کرتے ہیں، توخون میں شکر اور آکسیجن کی مقدار کم ہوجاتی ہے۔ دماغ اس صُورتِ حال کو محسوس کرتے ہی جسم کے ہر عضو کو پیغام دیتا ہے کہ شکر اور آکسیجن کا ذخیرہ ختم ہورہا ہے، لہٰذا مزید توانائی خرچ نہیں کی جاسکتی۔

یہ پیغام ملتے ہی تھکن اور دُکھن محسوس ہونے لگتی ہے، مگر کچھ دیر آرام کے بعد طبیعت پھر سے تازہ دَم ہوجاتی ہے کیونکہ اس وقفے کے دوران خون میں آکسیجن اور شکر کی مقدار متوازن ہوجاتی ہے۔

اسی طرح جو افراد غذائی قلّت کا شکار ہوں یا غیر متوازن غذا استعمال کرتے ہوں، وہ بھی جلد تھکاوٹ کا شکار ہوجاتے ہیں کیونکہ ضروری غذائی اجزاء کی کمی کے سبب جسم کو مطلوبہ توانائی فراہم نہیں ہوپاتی، نتیجتاً تھوڑے سے کام یا مشقّت سے تھکن غالب آجاتی ہے۔ اگر کھانے پینے کے اوقات کی پابندی میں احتیاط سے کام لیا جائے، بطور غذا، زود ہضم اور مقوی چیزوں کا انتخاب کیا جائے، تو اس قسم کی تھکن سے چھٹکارا حاصل کیا جا سکتا ہے۔

ہیجانی کیفیت بھی تھکاوٹ کا سبب بن سکتی ہے۔ ایسے افراد، جو ناپسندیدہ ماحول میں مصروفِ عمل ہوں یا کسی ایسے فرد کے ساتھ کام کرنے پر مجبور ہوں، جس سے ذہنی ہم آہنگی نہ ہو، چپقلش رہتی ہو یا کام کی نوعیت ہی ایسی ہو جس میں دِل چسپی نہ ہو، تو وہ بہت جلد تھک جاتے ہیں۔ اس تھکن کو اعصابی تناؤ یا ذہنی دباؤ سے موسوم کیا جاتا ہے، جس کا علاج آب و ہوا اور ماحول کی تبدیلی یا سیر و تفریح ہے۔

بعض افراد مشکلات اور ناکامیاں ذہن پر سوار کرکے شدید مایوسی کا شکار ہو جاتے ہیں اور اپنے تئیں یہ طے کر لیتے ہیں کہ وہ زندگی میں کبھی کام یاب و کامران نہیں ہوسکتے۔ پھر ایسے افراد چوں کہ ہر کام بے دِلی سے کرتے ہیں، توان کے اعصاب جلد تھک جاتے ہیں۔ اگر ان افراد کی ہمّت بندھائی جائے اور ان کے ذہنوں سے ناکامی کا خوف دُور کرنے میں ان کی مدد کی جائے، تو یہ جلد اپنی تھکن پر قابو پا لیتے ہیں۔

ہمارے گلے میں ایک گلینڈ، تھائی رائڈ گلینڈ پایا جاتا ہے، جو انہضام و انجذاب کا نظام کنٹرول کرتا ہے۔ اگر یہ غدود غیر فعال ہوجائے، تو انہضام و انجذاب کا نظام سُست پڑجاتا ہے، نتیجتاً جسم میں غذائی کمی کے باعث تھکن محسوس ہونے لگتی ہے۔ عمومی طور پر کیفین جسم میں خون کو تحریک دے کر متحرک رکھتی ہے، لیکن اس کی زیادتی بھی تھکن میں مبتلا کر سکتی ہے۔

اس کے علاوہ جسم میں پانی کی کمی بھی تھکاوٹ کی وجہ بن سکتی ہے۔عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ زیادہ تر افراد تھکن اُتارنے کے لیے صرف آرام پر اکتفا کرتے ہیں، حالاں کہ یہ مسئلے کا حل نہیں۔ تھکن دُور کرنے کے لیے سب سے اہم غذا کا انتخاب ہے۔

اس ضمن میں ذیل میں چند ایسی غذاؤں سے متعلق معلومات درج کی جارہی ہیں، جو جسم کو توانائی فراہم کرکے تھکن دُور کرنے میں معاون ثابت ہو سکتی ہیں، مگر یہ صرف اُن افراد کے لیے ہیں، جو غذائی کمی کے باعث تھکاوٹ کا شکار ہوتے ہیں۔

جسم کو توانائی فراہم کرنے والی غذائیں:

  • مچھلی میں تقریباً تمام وٹامنز اور معدنی نمکیات پائے جاتے ہیں، جب کہ اس میں صحت بخش چکنائی بھی موجود ہوتی ہے، جو غذا کے انہضام اور انجذاب کے نظام کو بہتر کرتی ہے۔ مچھلی کا استعمال تھکن کے مریضوں کے لیے بہت مفید ثابت ہو سکتا ہے۔
  • کیلا ،پوٹاشیم اور نشاستے سے بَھرپور ہوتا ہے،اس کے استعمال سے بھی جسم میں توانائی کا احساس غالب رہتا ہےاور تھکن جاتی رہتی ہے۔
  • ترش پھل بھی وٹامنز سے بَھرپور ہوتے ہیں،جو تھکن پیدا کرنے والے cortisol نامی ہارمون کی مقدار کم کردیتے ہیں۔
  • سیب کا استعمال بھی مفید ثابت ہوتا ہے۔٭ تربوز جسم میں پانی کی کمی دُور کرکے ہشّاش بشّاش رکھتا ہے۔
  • مغزیات، لحمیات اور غذائی ریشے سے بَھرپور ہوتے ہیں۔ ہر روز بادام، اخروٹ اور مونگ پھلی کا توازن سے استعمال جسم کو فوری توانائی فراہم کرتا ہے اور تھکن کا احساس زائل کر دیتا ہے۔
  • زیادہ سے زیادہ پانی پینا بھی جسمانی تھکن دُور کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

معیاری اور خالص مصنوعات خریدنے کیلئے کلک کریں: