Urdu

Tree for Life ……. Moringa a Miracle Tree

 

اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لیے کرہ ارض پرمختلف اقسام کے پھل، پھول، پودے پیدا کیے ہیں، جن کا ذکر قرآن مجید میں ان الفاظ میں کیا گیا ہے۔ ان کے بارے میں اللہ رب العالمین فرماتے ہیں،”اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے، ان کو خوشخبری سنا دو کہ ان کے لیے (نعمت کے) باغ ہیں، جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں۔ جب انہیں ان میں سے کسی قسم کا میوہ کھانے کو دیا جائے گا تو کہیں گے، یہ تو وہی ہے جو ہم کو پہلے دیا گیا تھا۔ اور ان کو ایک دوسرے کے ہم شکل میوے دیئے جائیں گے (سورۃ البقرۃ۔آیت نمبر25)۔ آج کی طب نے انہیں پھلوں، پھولوں اور پودوں کو ”سپر فوڈ“ قرار دے کر کہا ہے کہ مناسب مقدار میں یہ کھانے والے کبھی بیمار نہیں ہوتے۔

انہی پودوں میں سے ایک پودہ یا درخت سہاجنا ” سُہنجنا” ہے، جس کا نباتی نام Moringa olefera ہے۔ اس کا مترادف نباتی نام Moringa pterygosperma ہے۔ یہ برصغیر کا مقامی درخت ہے۔ جسے سہاجنا کہتے ہیں۔ اس کا اصل وطن جنوبی پنجاب بتایا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ یہیں سے یہ پورے برصغیر اور بعد میں دنیا کے دیگر علا قو ں میں پہنچا۔ یہ پاک وہند اوربنگلا دیش میں ہمالیہ سے ملحق علاقوں میں، برما، سری لنکا اور مشرق بعید کے ممالک میں عام پایا جاتا ہے۔ یہ براعظم افریقا کے بعض ممالک میں بھی ملتا ہے۔ پاکستان میں پنجاب اور سندھ میں اس کے درخت عام طور پر پائے جاتے ہیں۔ لیکن جنوبی پنجاب میں باقی علاقوں کی نسبت بہ کثرت پائے جاتے ہیں۔ گرم اور معتدل علاقوں میں خوب پرورش پاتا ہے، یعنی ایسے علاقیجہاں کا درجہ حرارت 18سے 48 ڈگری سینٹی گریڈ کے درمیان ہو اوربارش کا تناسب 250 سے 1500 ملی میٹرز سالانہ تک ہو۔ یہ خشک اور آبی زمینوں پر بہت تیزی سے اُگنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کی کاشت بیج اور تنے دونوں سے کی جا سکتی ہے۔

ماہرینِ نباتات کے مطابق یہ درخت اس خطے سے پوری دنیا میں پھیلا اور کرشماتی پودے یا Miracle Tree کے نا م سے مشہور ہوا۔ اِسے ناسا نے اکیسویں صدی کا درخت قرار دیاہے۔ اس کے پتوں میں وٹا من اے گاجر سے 4 گنا، وٹا من سی مالٹے سے 7 گنا، پروٹین دہی سے دو گنا، کیلشیم دودھ سے دوگنا، پوٹاشیم کیلے سے 3 گنا زیادہ، آئرن پالک سے نو گنا، فائبر گندم سے چار گنا زیادہ ہوتا ہے۔

اس پر تحقیق کرنے والے ماہرین کے مطابق اس درخت میں سرطان، تپِ دق، ہپاٹائیٹس، ذیابطیس وغیرہ سے بچاؤ کے لیے بے شمار اینٹی بائیوٹک، اینٹی الرجک اور دیگر ادویاتی اجزاء پائے جاتے ہیں۔ اس کے بیج کا تیل زیتون کے تیل کی طرح بہترین کھانے کا تیل ہے۔ اس کے پھول پتے اور پھلیاں غذائیت سے بھرپور اور لذیذ ترین سبزیاں ہیں۔

ترقی یافتہ دنیا میں سُہنجنا سے قدرتی غذائی ٹانک، انرجی ڈرنکس، ادویات اور میک اپ کا سامان بنایا جاتا ہے۔ جبکہ بیشتر ممالک میں اِس کے خشک پتّوں کا سفوف غذائی کمی پورا کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

Moringa Powder

پاکستان میں اس کے کرشماتی خواص متعارف کرانے کا سہرا زرعی یونیورسٹی، فیصل آباد میں شعبہ کراپ فزیالوجی کے پروفیسرڈاکٹر شہزاد بسرا کے سر ہے۔ وہ بائیس برس سے پاکستان میں متبادل فصلوں پر کام کررہے ہیں۔

جبکہ اس تحقیق میں مزید جدت لانے کیلَئے چلتن پیور پاکستان بھی ایک عرصے سے کام کر رہا ہے۔ اس کمپنی کے فارماسسٹ اور تحقیق دانوں نے?Moringa Powder Super Food اور Moringa Oil تیار کیا ہے۔ جو سو فیصد خالص اور انتہائی مفید ہے۔

اس درخت کے پھول، پتے، چھال، تنا، جڑیں اور برادہ، یعنی ہر جسم فائدہ مند ہے۔ اس درخت کی پتیوں کو اگر خشک کر کے پاؤڈر بنا لیا جائے اور روزانہ ایک چمچ کھا لیا جائے تو بہت سی بیماریوں سے محفوظ رہا جا سکتا ہے۔

یہ چوں کہ یہاں کا مقامی درخت ہے اس لیے اسے مختلف امراض میں بہ طور علاج بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ دیسی طریقہ علاج، جسے عرفِ عام میں طبِ یونانی کہا جاتا ہے، میں یہ زیادہ معروف نہیں۔ تاہم آیورویدک طریقہ علاج میں اسے کافی استعمال کیا جاتا ہے۔ پاکستان میں اس کا طبی استعمال کافی محدود ہے تا ہم اب چلتن پیور پاکستان کی کاوشوں سے اس پودے سے تیار کردہ پراڈکٹس اب عوام میں مقبولیت حاصل کر رہے ہیں۔ یہ بات دیکھنے میں آئی ہے کہ جو شخص بھی ایک بار ان پراڈکٹ کو استعمال کر لیتا ہے تو پھر وہ مستقل اسے اپنے استعمال میں رکھتا ہے۔

جدید سائنسی تحقیق نے یورپ اور امریکا میں اس درخت کی دھوم مچائی ہوئی ہے۔ ماہرین غذائیات اور فوڈ سائنس کے ماہرین اس کی کرشماتی صفات پر حیران ہیں۔ اس کے پتوں کے ایکسٹریکٹ سے تیار کردہ کیپسول، گولیاں اور فوڈ سپلیمنٹ دھڑا دھڑ بک رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ کم و بیش تین سو قابلِ علاج اور لاعلاج بیماریوں کا علاج ہے اور درجنوں ایسے امراض کا علاج مہیا کرتا ہے جو ایلوپیتھک طریقہ علاج میں موجود نہیں۔